17 اگست 2019
تازہ ترین

ٹی وی چینلز میں اردو ’’سٹائلسٹ‘‘ درکار ٹی وی چینلز میں اردو ’’سٹائلسٹ‘‘ درکار

پہلے ماسکو میں کسی پاکستانی چینل کے روس میں متعین واحد نمائندے اشتیاق حسین ہمدانی ہوا کرتے تھے۔ پھر شاہد گھمن نام کے ایک اور برخوردار ماسکو پہنچے۔ اگرچہ انہیں یہاں آئے چار ماہ سے کچھ زیادہ گزرے ہیں مگر انہوں نے روس کے کئی شہروں سے مسلسل رپورٹنگ کی ہے اور اچھی کی ہے۔ باصلاحیت اور جوان شخص ہیں، آن لائن چینل بھی لانچ کیا ہے۔ روس سے متعلق کئی بار مجھ سے مشورہ کر لیتے ہیں تو کئی بار میں فیس بک پر ان کی پوسٹس پر کمنٹ کر کے انہیں کچھ بتانے کی کوشش کرتا ہوں۔
 بہت سوں کو معلوم نہیں کہ روس میں لوگوں کی اکثریت آرتھو ڈوکس چرچ کے ماننے والوں کی ہے، جسے وہ پرا سلاوین کہتے ہیں۔ ریڈیو روس میں ہم آرتھوڈوکس کا ترجمہ قدامت پرست کرتے تھے، مگر چند روز پہلے دوست عزیز ڈاکٹر ساجد علی سابق سربراہ شعبہ فلسفہ پنجاب یونیورسٹی نے تصحیح کی کہ اس کا درست ترجمہ صحیح العقیدہ ہے۔ تو اس مذہب کے پیروکار تولد عیسیٰ علیہ السلام کا دن پرانی تقویم کے مطابق 7 جنوری کو مناتے ہیں۔ اس ضمن میں گرجا گھروں میں دعائیہ اور مناجاتی تقریبات ہوتی ہیں۔ماسکو میں سب سے بڑا چرچ ہرستا سپاسیتل سرکاو یعنی ’’کرائسٹ دی سیویئر چرچ‘‘ ہے۔ یہ چرچ سٹالن کے دور میں ڈھا دیا گیا تھا اور یہاں بہت بڑا پبلک سوئمنگ پول بنا دیا گیا تھا، جس میں سردیوں میں کھلے آسمان تلے پانی بھی بہت گرم نہیں تو شیر گرم ضرور ہوا کرتا تھا۔ اکتوبر نومبر کی کسی ایک صبح میں نے بھی اس میں نہانے کا مزہ لیا تھا۔ کوئی پندرہ سال پہلے اسی مقام پر یہ پُرشکوہ چرچ پھر سے تعمیر کر دیا گیا ہے۔ کرائسٹ دی سیویئر چرچ کا ریڈیو میں ہم ترجمہ ’’مسیح منجّی گرجا گھر‘‘ کرتے تھے۔ منجّی بمعنی نجات دہندہ۔
شاہد گھمن کو میں نے بتایا تھا کہ کرسمس درحقیقت کیتھولک حضرات کا تہوار ہے۔ آرتھوڈوکس اور کیتھولک ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ اس لیے یہاں 7 جنوری کی تقریب کو ’’رودجیستوو‘‘ یعنی میلاد کہا جاتا ہے۔ شاہد نے اس تقریب کی رپورٹ میں مسیح منجّی گرجا گھر استعمال کر کے رپورٹ اپنے چینل 92 کو بھیج دی۔ وہاں عموماً کسی اور کا ’’وائس اوور‘‘ کیا جاتا ہے۔ شاہد اپنی ہر رپورٹ مجھے بھی ’’وٹس ایپ‘‘ کر دیتا ہے۔ رات جب میں نے نیوز ریڈر اور وائس اوور والے دونوں کے منہ سے مسیج من جی (بہ وزن پنجابی میں چارپائی کے لیے بولا جانا لفظ) گرجا گھر سنا تو بس اپنا منہ ہی نہیں نوچ لیا۔مجھے لگتا ہے کہ یہ کمال مجھ سے پوچھے بنا شاہد نے ہی کیا ہو گا جب کہ چینل والوں نے اس پر سوچ بچار کرنے کے بجائے اسے روسی زبان کا کوئی لفظ سمجھ کے پڑھ دیا ہو گا، یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ شاہد نے لکھ بھیجا ہو اور انہوں نے ہی منجّی کو منجی پڑھ دیا ہو۔
 زبان کے لیے مسئلہ لہجے کا نہیں ہوتا۔ اردو کو چاہے لکھنؤ والے بولیں یا بھوج پور والے، گوڑگاؤں والے بولیں یا پتوکی و مریدکے والے مگر تلفظ تو درست ہونا چاہیے۔ کہیں کتابچہ کو ’’کتا۔ بچہ ‘‘پڑھا جا رہا ہے تو کہیں منجّی کو منجی۔ تلفظ درست کرانے کی خاطر یا تو ہر چینل کو ایک ’’تزئین کار‘‘ رکھنا چاہیے یا پھر ’’سکرپٹس ایڈیٹر‘‘ کو یہ کام سونپنا چاہیے۔ریڈیو وائس آف رشیا میں کام کرنے کے آخری پانچ سال میری حیثیت ’’ستیلسٹ‘‘ یعنی سٹائلسٹ کی تھی مطلب زبان کا تزئین کار۔ سٹائلسٹ صرف اردو کے لیے ہی نہیں بلکہ روسی زبان کے لیے بھی مقرر کیے جاتے ہیں جو غیر ملکی الفاظ کے بلاوجہ اور بے محابا استعمال کو روکتے ہیں۔ الفاظ کے تلفظ درست کرتے ہیں۔ سہل زبان کو فروغ دیتے ہیں۔ زبان میں روانی پیدا کرنے کی راہ سجھاتے ہیں مگر سب سے زیادہ زور فقروں کی درست بندش اور الفاظ کی ادائیگی و تلفظ پر دیا جاتا ہے۔
بہتر ہوتا اگر شاہد گھمن مسیح منجّی گرجا گھر کے بجائے کرائسٹ دی سیویئر چرچ ہی کہتا۔ مگر بات صرف ایک غلطی کی نہیں ہے۔ ٹی وی زبان بگاڑ رہا ہے۔ شاہ زیب خانزادہ جیسے بہتر اردو بولنے والے شخص بھی، پہلی بات تو یہ کہ کہتے ہیں، ’’اس معاملے اوپر‘‘ پھر اوپر کو باقاعدہ اپّر بولتے ہیں۔ ’’اس معاملے پر‘‘ کا مطلب ہو گا اس معاملے بارے جبکہ اس معاملے کے اوپر کا مطلب ہو گا اس معاملے سے بالا یا بڑھ کے۔ خیر یہ ایک لفظ نہیں دسیوں لفظ ہیں جو ہندی سے مستعار لیے گئے، ہندی بھی وہ جو فلموں میں بولی جاتی ہے۔ جیسے ’’کیا ہونے جا رہا ہے‘‘ جس کو ہم نے ہمیشہ سنا تھا ’’کیا ہونے کو ہے‘‘ یا ’’کیا ہونے والا ہے‘‘۔ چلیے یہ تو بات اس طرح ہوئی کہ آپ زبان کی نہج بدل رہے ہیں، بدل لیجیے، بدلی جائے گی۔ میرے جیسے زبان دوست دل مسوس کر رہ جائیں گے اور کبھی نہ کبھی عادی بھی ہو جائیں گے مگر تلفظ پر تو مصالحت کی ہی نہیں جا سکے گی نا۔