23 ستمبر 2018
تازہ ترین

 ٹرمپ کا مواخذہ نہیں ہوگا؟ ٹرمپ کا مواخذہ نہیں ہوگا؟

صدر ٹرمپ کے وکیل مائیکل کوہن اور صدارتی مہم کے انچارج پال منافورٹ پر فرد جرم عائد ہونے کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا اس سے صدر ٹرمپ کے مواخذے کی راہ ہموار ہو گئی ہے ؟جواب یہ ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوا کیونکہ دونوں پر لگائے گئے الزامات ایسے نہیں جن کی بنیاد پر ٹرمپ کا مواخذہ کیا جائے۔ویسے بھی پال منافورٹ کا رابرٹ مولر کی ٹیم نے محاصرہ کر رکھا ہے جو امریکی انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت کی تحقیقات کررہے ہیں؛ جس کا ابھی تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ منافورٹ پر عائد ٹیکس چوری اور بنک فراڈ سمیت آٹھ الزامات کا ٹرمپ کی صدارتی مہم سے کوئی تعلق نہیں کہ انہیں بھی معاملے میں گھسیٹا جائے۔ البتہ ٹرمپ اپنا اختیار استعمال کرکے منافورٹ کی سزا معاف ضرور کر سکتے ہیں۔ مائیکل کوہن پر عائد فرد جرم کا تعلق ٹیکس چوری کے علاوہ بنک فراڈ سے ہے، البتہ دو الزامات صدارتی مہم کی فنڈنگ سے متعلق ہیں۔کوہن پر ٹرمپ سے مبینہ ناجائز تعلقات کے حوالے سے فلمی اداکاراؤں سٹارمی ڈینیل اور کیرن میکڈوگل کو زبان بندی کیلئے ڈیڑھ لاکھ ڈالر دینے کا بھی الزام ہے ۔ کوہن نے ایک موقع پراعتراف کیا تھا کہ صدر ٹرمپ نے انہیں یہ رقم ادا کرنے کا کہا تھا۔
ٹرمپ کی قریبی دونوں شخصیات پر مختلف الزامات میں عائد فرد جرم ایسی نہیں کہ انہیں وائٹ ہاؤس سے نکال باہر کیا جائے۔اگر ڈیمو کریٹس کو ایوان نمائندگان میں اکثریت مل جائے ، تب بھی وہ ٹرمپ کا مواخذہ نہیں کرسکتے ، کیونکہ انہیں مواخذے کی قرارداد منظور کرانے کیلئے سینیٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہو گی۔ ویسے بھی امریکی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا کہ صدر کے خلاف مواخذے کی منظوری کیلئے اپوزیشن کو دو تہائی اکثریت کی حمایت ملی ہو۔اب تک صرف دو امریکی صدور کیخلاف مواخذے کی قرارداد پیش ہوئی، ایک بل کلنٹن ، دوسرے اینڈریو جانسن تھے۔ بل کلنٹن پر مونیکا لیونسکی سے ناجائز تعلق کا الزام تھا،صدر اینڈریو جانسن نے خلاف آئین وزیر جنگ ایڈون سٹانٹان کو تبدیل کیا تھا۔ دونوں کیسز میں مواخذے کا عمل مکمل نہ ہو سکا۔ واٹر گیٹ سکینڈل پر صدر نکسن مستعفی ہوئے تھے، ان کا مواخذہ نہیں ہوا تھا۔
امریکی آئین میں صدر کو عہدے سے ہٹانا بہت مشکل ہے، ایسا سیاسی نظام کے استحکام کیلئے کیا گیا ہے۔صدر ٹرمپ کے مواخذے کا کیس ایسا جاندار نہیں کیونکہ دونوں اداکاراؤں کو زبان بندی کیلئے رقم دینے کا معاملہ اس وقت ہوا جب وہ وائٹ ہاؤس میں داخل نہیں ہوئے تھے۔ صدارتی مہم کیلئے زیادہ فنڈنگ کا معاملہ اگر اٹھایا جائے تواس کا انجام طویل قانونی جنگ کی صورت میں برآمد ہو گا۔ علاوہ ازیں ، مائیکل کوہن ویسے بھی دودھ کے دھلے نہیں، وہ متضاد بیانات دیتے رہتے ہیں، اکثربیان دے کر مکر جاتے ہیں۔ایک موقع پر انہوں نے کہا کہ وہ ٹرمپ کیلئے گولی کھاسکتے ہیں۔ مگر جب ہیلسنکی میں صدر ٹرمپ کو روسی صدر ولادی میر پوتن کیساتھ مودبانہ انداز میں کھڑے پایا تو حقائق منظر عام پر لانے کے دعوے کرنے لگے۔ وہ ایک دغا باز قسم کے وکیل ہیں جس پر موکلین بھی مکمل بھروسہ نہیں کر سکتے۔ایسے وکیل کے بیان کی بنیاد پر ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس سے باہر کرنا بہت مشکل ہے۔
ٹرمپ ایک بلی ہیں جوکہ اونچائی سے گرنے کے دوران بھی اپنا توازن قائم رکھنے میں کامیاب رہتی ہے۔ مواخذے کی باتیں انہیں نقصان کے بجائے فائدہ پہنچائیں گی ، نقصان ان کے ڈیموکریٹ حریفوں کا ہو گا۔یہی وجہ ہے کہ ایوان نمائندگان کی اقلیتی مگر تجربے کار سیاستدان نینسی پیلوسی نے ساتھی ڈیمو کریٹس کو خبردار کیا کہ وہ مواخذے کے بارے میں بیان بازی سے گریز کریں ، کیونکہ اس سے ریپبلکن پارٹی کے  ووٹرمتحرک ہونگے، جنہوں نے یہ فرض کر رکھا ہو گا کہ ان کے رہنما کو وائٹ ہاؤس سے نکالنے کیلئے ان کے خلاف منفی سازشیں ہو رہی ہے۔ وہ اپنے رہنما کی معاشی پالیسیوں یا کامیابیوں کی بنیاد پر اپنی بھرپور حمایت ان کے پلڑے میں ڈال دیں گے۔یہی وجہ ہے کہ فاکس نیوز کو انٹرویو کے دوران صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اگر ان کا مواخذہ ہوا تو امریکی معیشت سنگین بحران کو شکار ہو جائیگی ، سٹاک مارکیٹ کا دھڑن تختہ ہو جائے گا، بے روزگاری اور غربت پھیل جائے گی۔
ٹرمپ اپنے مواخذے کا تعلق معاشی بحران اور ناگہانی افراتفری سے جوڑ کر دراصل اپنے ووٹروں کو یہ پیغام دے رہے تھے کہ وہ وسط مدت کے انتخابات کیلئے خود کو سڑکوں پر آنے کیلئے تیار رکھیں؛ 2020ء کے صدارتی انتخابات کے دوران بھی سڑکوں پر نکلنے کیلئے تیار رہیں۔ صدر ٹرمپ کی باتوں سے لگتا ہے کہ مواخذہ نام کی بندوق کا رخ ٹرمپ کی جانب نہیں، بلکہ یہ ان کے اپنے ہاتھ کا کھلونا بن چکی ہے۔
(ترجمہ: ایم سعید۔۔۔ بشکریہ العربیہ)