20 مارچ 2019
تازہ ترین

ٹرمپ کا خودساختہ بحران ٹرمپ کا خودساختہ بحران

دیوار میکسیکو کیلئے فنڈز کے حصول کی کوشش میں صدر ٹرمپ کو ابھی تک صرف یہ کامیابی ملی کہ قوم کی توجہ حاصل کرنے کیلئے خودساختہ ایمرجنسی  کی کیفیت پیدا کرکے حکومتی مشینری مفلوج کر دی؛اب وہ کانگریس کو بائی پاس کرنے کیلئے وہ ایمر جنسی کے نفاذ کا اعلان کر سکتے ہیں۔ اگر وہ  ابھی تک ناکام ہیں، تو اس پر تشویش ٹرمپ کو نہیں، ہمیں ہونی چاہیے ، کہ کیا کوئی صدر ایسا کچھ کر سکتا ہے، جوکہ ٹرمپ کر چکے ہیں۔
پہلے یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ ملک میں کوئی بحران نہیں۔ امریکا میں غیرقانونی ذرائع سے آنے والے تارکین کی تعداد گزشتہ ایک دھائی سے مسلسل گر رہی ہے۔ مغربی سرحد سے امریکا داخل ہونیوالوں کی تعداد میں بھی گزشتہ 20کے دوران مسلسل کمی آئی، جبکہ 70 ء کی دھائی میں یہ تعداد بہت زیادہ تھی۔ جنوبی سرحد سے غیر قانونی داخلے ہونیوالوں سے کہیں زیادہ افراد قانونی دستاویزات کیساتھ ہر سال امریکا پہنچتے ہیں۔ اعدادوشمار کے مطابق سال 2017ء میں پانچ کروڑ 20لاکھ غیر ملکی امریکا آئے، ان میں98.7فیصد ویزے کے مطابق واپس چلے گئے۔ باقی 1.3فیصد کی اکثریت قدرے تاخیر سے واپس گئی، سرکاری اندازے کے مطابق 2017ء میں امریکا داخل ہونیوالوں میں سے   0.8فیصد 2018ء کے وسط تک یہیں رہے۔
جہاں تک دہشت گردی کا تعلق ہے، کیٹو انسٹیٹیوٹ کی سٹڈی کے مطابق 1975ء سے 2017ء کے دوران کوئی ایک شخص بھی مغربی سرحد سے امریکا داخل ہونیوالوں کے دہشت گرد حملے میں ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔ جہاں تک منشیات کا تعلق ہے، تو سب سے بڑا خطرہ مارفین اور اس کے جوہر سے بننے والی ادویات ہیں، یہ مسکن خواص کی حامل مواد کے استعمال کی بڑی وجہ ہیں۔مارفین زیادہ تر چین سے براہ راست امریکا برآمد ہوتی ہے، باقی کینیڈا یا میکسیکو کے راستے سمگل ہوتی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے چینی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ مارفین کی برآمدات کے خلاف کریک ڈاؤن کریں۔ یہ دیوار میکسیکو کی تعمیر سے کہیں زیادہ موثر سٹریٹجی ہے۔ ڈرگ انفورسمنٹ ایجنسی نے  اپنی گزشتہ سال کی رپورٹ میں نشاندہی کی کہ اگرچہ جنوبی سرحد ہیروئن اور دیگر منشیات کے امریکا داخلے کا بڑا ذریعہ ہے، مگر منشیات کی کثیر مقدار داخلے کے قانونی پوائنٹس سے امریکا پہنچتی ہے،اسے گاڑیوں، اور دیگر اشیا اور سامان میں چھپا کر لایا جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ دیوار میکسیکو اس سمگلنگ کو روکنے میں خاص کردار ادا نہیں کر سکتی۔
ان حقائق کے باوجود یہ سب وائٹ ہاؤس کے اختیارات کا کمال ہے کہ ٹرمپ نے دیوار میکسیکو کو ایک اہم مسئلہ بنا دیا ہے، کئی سرکاری محکمے شٹ ڈاؤن ہو چکے ہیں، ٹی وی چینل گمراہ کن کہانیاں اوردہشت پھیلانے والے بیانات نشر کر رہے ہیں، اب ایمرجنسی کے اعلان کی باتیں ہونے لگیں ہیں۔ لگتا ہے کہ ٹرمپ دنیا کی سرکردہ آئینی جمہوریہ کے صدر نہیں، بلکہ ولادی میرپیوٹن، طیب اردگان، یا عبدالفتح السیسی ہیں ، جو کہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ 
 امریکی حکومت نے ماضی میں جب بھی ایمرجنسی اور بحرانی کیفیت کا پروپیگنڈہ کیا ، اس کا مقصد لوگوں کو خوفزدہ کرکے صدارتی اختیارات کو توسیع دینا اور اپوزیشن کو خاموش کرانے کے علاوہ کچھ نہ تھا۔ ایلین اینڈ سیڈیشن ایکٹ سے لے کر صدام حسین کے وسیع پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں تک ہر بار امریکی سوچ مفلوج کر دی گئی۔ آج کا جائزہ بتاتا ہے کہ نہ مسائل سنگین تھے، اور نہ دشمن اتنا مضبوط تھا کہ امریکا کا کچھ بگاڑ سکتا۔شہری حقوق معطل کرکے شہریوں و غیر وں کو بند کرنے ، قوم کو جنگ میں جھونکنے جیسی کارروائیاں سنگین غلطیاں تھیں،جن کے اکثر و بیشتر تباہ کن نتائج برآمد ہوئے۔
اس کے باوجود صدارتی اختیارات میں توسیع ہوتی رہی۔ جدید میڈیا کلچر نے صدور کیلئے اپنا ایجنڈہ طے کرنا مزید آسان بنا دیاہے؛ جس کی وجہ وائٹ ہاؤس پر زیادہ فوکس اور ہمیشہ سے توجہ کا مرکز ہونا ہے۔ اس حقیقت کا ٹرمپ کچھ ایسے استعمال کرتے ہیںکہ وہ اچھی خبربھی بری بنا دیتے ہیں، سلامتی کو خطرہ بنا کر پیش کرتے ہیں،جہاں کوئی بحران نہیں، وہاں کیلئے خود ساختہ بحران تیار کرتے ہیں ۔ یہ حقیقت ٹرمپ کے دو سالہ دور میں کھل کر عیاں ہوئی ہے۔ امریکی صدر کی آج جو اختیارات ہے، امریکا کے بانیوں نے ان کا تصور بھی نہیں کیا تھا ، کانگریس جیسا بااختیار ادارہ انہوں نے اسی مقصد کیلئے قائم کیاتھا۔ مگر گزشتہ 9دہائیوں کے دوران ایوان صدارت کے رسمی و غیر رسمی اختیارات میں تسلسل کیساتھ اضافہ ہوتار ہا۔
آج ٹرمپ جس طرح من مانی کر رہے ہیں،قبل اس کے کہ امریکا بھی پیوتن ازم کا شکار ہوجائے، کانگریس کو ٹھوس قدم اٹھاتے ہوئے نئے قانون تشکیل دینا ہوں گے، جن کے ذریعے ایوان صدر کے اختیارات محددو اور ان کے استعمال پر مؤثر نظر رکھ سکے۔ 
(ترجمہ: ایم سعید۔۔۔ بشکریہ: واشنگٹن پوسٹ)