21 اگست 2019
تازہ ترین

وینزویلاپر امریکی بائیں بازو کی آواز وینزویلاپر امریکی بائیں بازو کی آواز

ٹرمپ انتظامیہ کو وینزویلا میں ایک امتحان کا سامنا ہے۔ اسے ایسی خارجہ پالیسی کی کوشش کرنا ہے جس میں امریکی استعماریت کا تاثر قائم کئے بغیر نیکولس ماڈورو حکومت کا خاتمہ ممکن ہو سکے؛ ایسی سیاسی تبدیلی کو سپورٹ کرنا ہے جوکہ پرانے گارڈز کیلئے ایسا خطرہ پیدا نہ کرے جس کا نتیجہ لڑائی کی صورت میں برآمد ہو۔ گزشتہ ایک دہائی سے تباہی کی شکار وینزویلا کو بحران سے نکالنے کیلئے امریکا دیگر ملکوں کیساتھ مل کر کوشش کرے۔ اس کیلئے جارحانہ نہیں بلکہ ایک محتاط ، کثیر جہتی اور خاموش دباؤ پر مبنی ڈپلومیسی کی ضرورت ہے۔ وینزویلا ڈیموکریٹک پارٹی کیلئے بھی چیلنج بنا ہوا ہے۔ اب تک کے اشارے بتاتے ہیں کہ ڈیموکریٹک خارجہ پالیسی ٹرمپ کی ’امریکا سب سے پہلے‘ کے نعرے سے زیادہ مختلف نہیں ہو گی۔
ہوائی سے رکن کانگریس تلسی گابرڈ کہتی ہیں’’ امریکا وینزویلا سے دور رہے۔ بہتر ہو گا کہ وینزویلا کے عوام اپنے مستقبل کا تعین کریں‘‘۔ ادھر مینسوٹا کی رکن الہان عمر کہتی ہیں’’ ملٹی نیشنل کارپوریٹ کمپنیوں کے مفاد میں ہم دیگر ملکوں کی رہنما مرضی سے چن نہیں سکتے‘‘۔ ورمونٹ کے سینیٹر برنی سینڈرز لکھتے ہیں’’ ہمیں ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے حکومت کی تبدیلی یا بغاوتوں کی حمایت سے دور رہنا چاہیے‘‘۔ بائیں بازو کے دانشور نوم چومسکی اور 70دیگر ماہرین و کارکنوں نے ایک خط پر دستخط کئے ہیں جس میں امریکی اقدامات کو وینزویلا کے بحران کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ 
حالانکہ وضاحت اس بات کی ہونی چاہیے کہ کیا وینزویلاکے موجودہ مسائل بنیادی طور پر وہاں کے اپنے حکمرانوں کی پیدا کردہ نہیں ؟ جہاں تک وینزویلا کے عوام کا تعلق ہے، انہیں ہوگو شاویز کے وقت سے کبھی مرضی کے رہنمامنتخب کرنے اور مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کی اجازت نہیں ملی۔ موجودہ حکومت بھی دھاندلی زدہ انتخابات کی وجہ سے اقتدار سے چمٹی ہوئی ہے، جس کیلئے اس نے اپوزیشن جماعتوں کو کچلا، میڈیا کی جبری زبان بندی کی ، اور مظاہرین کے خلاف ریاستی طاقت کھل کر استعمال کی۔ اقوام متحدہ کے مطابق جنوری کے پہلے ہفتے میں ماڈورو نواز سکیورٹی فورسز نے 30مظاہرین کو ہلاک جبکہ 850سے زائد کو گرفتار کیا۔ وینزویلا جوکہ کبھی لاطینی امریکا کا امیر ترین ملک تھا، شاویز اور ماڈورو حکومتوں نے اسے تباہ و برباد کرکے رکھ دیا، افراط زر کی شرح دس لاکھ فیصد تک پہنچا دی جس کا تصور کرنا بھی محال ہے۔ آج حالت یہ ہے کہ 30لاکھ سے زائد شہری ملک سے نقل مکانی کر چکے ہیں،جوکہ ملکی آبادی کا دس فیصد ہیں۔
تاہم دوکروڑ سے زائد شہری ابھی تک حکومت کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں۔ وہ کثیر تعداد میں حکومت کے خلاف ووٹ دینے کیلئے نکلتے رہے ہیں؛ 2013ء کے انتخابات میں دھاندلی کے باوجود ماڈورو کو شکست ہو گئی تھی، حتیٰ کہ 2015ء میں پارلیمنٹ میں اپوزیشن نے اکثریت حاصل کر لی۔ گزشتہ کچھ سالوں سے وینزویلا کے عوام حکومت کے خلاف ریلیاں نکال رہے ہیں، جو کہ آنسو گیس، گرفتاریوں اور کسی نہ کسی کی  ہلاکت تک جاری رہتے ہیں۔ اپوزیشن رہنما جوآن گائیڈو کی ریلیوں کی قیادت کر رہے ہیں، ماڈورو کو ہٹانے کیلئے تمام آئینی حربے استعمال میں لائے جا رہے ہیں، جن کا واحد ہدف نیکولس ماڈورو سے منتخب پارلیمنٹ کو اختیارات کی منتقلی ہے۔
گزشتہ سالوں کے دوران وینزویلا کی حکومت نے لاطینی خطے میں کیوبا سے نیکاراگوا تک امریکا مخالف تحریکوں کو سپورٹ کرنے کیلئے تیل کی دولت کا بھرپور استعمال کیا۔ وینزویلا حکومت کے منشیات کی اسمگلروں سے بھی قریبی رابطے ہیں، اور یہ حقائق بھی منظر عام پر آ چکے ہیں کہ ایران اور حزب اللہ کیساتھ بھی قریبی روابط قائم کر چکی ہے۔ یہ امر حیران کن نہیں کہ ماڈورو حکومت کو صدر پیوتن ، چینی صدر کے علاوہ ترک صدر طیب اردگان اور ایرانی ملاؤں جیسے آمروں کی حمایت حاصل ہے۔ وینزویلا سے متعلق جامع خارجہ پالیسی سیر حاصل بحث کا تقاضا کرتی ہے ۔ دنیا بھر میں پھیلی امریکی فوجی طاقت سے لے کر فوجی مداخلت کے تلخ تجربات سے سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ وینزویلا سے متعلق پالیسی کیلئے فراست، احتیاط ، علاقائی تعاون سمیت کئی اہم باتوں پر غوروخوض کرنا ہو گا۔ تاہم غلطیوں کے خطرہ کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ خاموشی اختیار کر لی جائے۔ 
گزشتہ سال سیاسی فلاسفر مائیکل والزر کی فکر انگیز کتاب ’’ بائیں بازو کی خارجہ پالیسی‘‘ شائع ہوئی ، جس میں وہ لکھتے ہیں کہ بائیں بازو کا پہلے سے طے شدہ موقف خاموشی کی وجہ بن سکتا ہے۔ پیچیدہ عالمی معاملات میں امریکی طاقت کا غلط استعمال ہو سکتا ہے، جہاں معلومات اس حد تک نا کافی ہوتی ہیں کہ بہتر یہی لگتا ہے کہ دور رہا جائے۔ اکثر ناکافی معلومات نے داخلی امور میں بھی یہی نتائج دیئے ہیں۔ والزر مزید لکھتے ہیں ’’ ایسی دنیا جوکہ جنگوں اور خانہ جنگی، مذہبی انتہا پسندی، دہشت گردی، قوم پرستی، استبدادی حکومتوں، سنگین عدم مساوات، غربت، بھوک میں گھری ہے، اسے صاحب بصیرت بائیں بازو کی توجہ کی ضرورت ہے‘‘۔ 
ایک سادہ مثال یہ ہے کہ دنیا کی 95فیصد آبادی کو بھرپور طریقے سے ساتھ ملائے بغیر موسمیاتی تبدیلی جیسے مسئلے سے بھی نبرد آزما نہیں ہو جا سکتا۔ والزر لکھتے ہیں’’ دنیا بھر کے لوگوں سے یکجہتی کا ہمارا عزم مشکلات کا شکار ہے‘‘۔ 
(ترجمہ: ایم سعید۔۔۔بشکریہ: واشنگٹن پوسٹ)