16 نومبر 2018

ویشنوماتا کے پجاری ویشنوماتا کے پجاری

عورت کو شکستی ، دیوی کہنے اور ماتا ویشنو دیوی کو پوجنے والے ہندوستان میں آج عورت کسم پرسی کی زندگی گزار رہی ہے جہاں عام عوام اور کم سن بچے بالعموم اور اقلیتیں (مثلاً مسلمان، عیسائی، دلت وغیرہ) بالخصوص شدت پسندی، نفرت، عصمت دری اور گینگ ریپ جیسے مسائل سے دو چار ہے۔ بعض مقامات پر عورتوں کو صرف اس لیے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ وہ ایک مخصوص اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہندوستان میں روزانہ کی بنیاد پر عصمت دری کے متعدد واقعات معمول کی بات بن چکی ہے جو کہ نہ صرف زندہ دل باشعور ہندوستانیوں بلکہ ہر ذی روح باشعور کے لیے باعث فکر و پریشانی ہے۔ اس طرح کے واقعات کا خود خواتین کے ساتھ پیش آنے کی وجوہات تو سمجھ میں آسکتی ہے لیکن درندگی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ تین پانچ ، چھ ، آٹھ سال کے بچے اور ستر سالہ بوڑھی خواتین بھی اس شرمناک رویہ کی زد میں خود کو غیر محفوظ تصور کرتی ہیں جس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ ہندوستانی معاشرے میں انسانیت، درندگی میں بدلتی جارہی ہے اور حکومت بہت سے معاملات میں خود ملوث ہونے کے باعث خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ گو کہ ماضی بعید میں بھی عصمت دری کے بہت سے واقعات ہو چکے ہیں لیکن ہم صرف پچھلے چند سالوں میں ہونے والے واقعات ، حقائق اور اعداد و شمار پر بات کریں گے۔
دسمبر 2012ء میں انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں پیرا میڈیکل طالبہ کے ساتھ چلتی ہوئی بس میں مبینہ اجتماعی جنسی زیادتی و آبروریزی اور قتل کے واقعہ سے پورے ملک سمیت دنیا بھر میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی تھی۔ بہت سے باشعورلوگ خصوصاً نوجوان طلبا و طالبات کے دھرنوں اور جلوسوں وغیرہ کی شکل میں شدید احتجاج کے باعث ملک کے دارالحکومت کا نظام مفلوج ہو کر رہ گیا تھا۔ اس واقعہ پر قومی و بین الاقوامی مذمت و احتجاج کے بعد یہ تصور کیا جا رہا تھا کہ حکومت اس سنگین معاملہ کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مناسب اقدامات کرے گی جس سے عورتوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ممکن ہوگا لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔ گو کہ وقتی طور پر حکومت کی جانب سے زنا بالجبر کی سزامیں چند ترامیم کی گئی لیکن بدقسمتی سے عصمت دری کے واقعات میں کمی کی بجائے اضافہ نظر آیا، السرئیوٹرز ٹرسٹ لاء گروپ کی 2012ء کی تحقیقی رپورٹ میں انڈیا کو عورتوں کے لیے دنیا کا بدترین ملک قرار دیا تھا۔ انسانی حقوق کے عالمی اہمیت کے ادارے ہیومن رائٹ واچ کی 2017ء کی رپورٹ میں بھی یہی انکشاف کیا گیا کہ ہندوستان میں عصمت دری کے قوانین و سزا میں تبدیلی کی باوجود متاثرین کو انصاف مہیا نہیں کیا گیا۔ اس رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ متاثرین کو انصاف مہیا کرنا تو دور، ان کے ساتھ پولیس و دیگر اداروں کے لوگوں کا رویہ ان کے لیے مزید پریشانی کا باعث ہے۔ 82صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں واضح طور پر بیان کیا گیا کہ متاثرین کو پولیس اسٹیشن و ہسپتال وغیرہ میں شرمناک و ذلت آمیز سوالات پوچھے جاتے ہیں اور بعض واقعات میں اگر متاثرہ عورت یا بچہ اگر غریب گھرانے سے تعلق رکھتا ہو تو پولیس کئی کئی دن تک ایف آی آر (FIR) ہی درج نہیں کرتی۔ اس رپورٹ میں بیان کردہ انتہائی افسوس ناک حقیقت یہ ہے کہ پولیس جب تک متاثرہ خاتون کا (ٹو فنگر ٹیسٹ) نہ کروا لے متاثرہ خاتون کی نہ تو ایف آئی آر لکھی جاتی ہے اور نہ ہی صحت کا کوئی خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ الجزیرہ کی 2012ء کی ایک رپورٹ کے مطابق بھارت میں ہر 20منٹ میں ایک خاتون زنا بالجبر کا شکار ہوتی ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کی 2011ء اور 2012ء کی رپورٹس کے مطابق پچھلے 40سالوں میں بھارت میں عصمت دری و زنا بالجبر کے واقعات میں 792فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ 
مختلف رپورٹس کے مطابق انڈیا میں خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم میں زنا بالجبر تیسرا یا چوتھا بڑا جرم ہے۔ انڈیا میں 2014ء میں عصمت دری کے 36735مقدمات درج کیے گئے تھے اور 95.5فیصد 
سے زائد متاثرین زانی مجرمین کو پہلے سے جانتی پہچانتی تھیں۔ انڈیا کے نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کی 2015ء کی رپورٹ کے مطابق 2012ء تا 2015ء کے تین سے چار سالہ مختصر دور میں انڈیا میں عورتوں کے خلاف ہونے والے جرائم میں 34فیصد تک اضافہ ہوا۔ اس رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ جنسی تشدد کا شکار ہونے والی خواتین میں 6سال تا 60سالہ خواتین بھی شامل ہیں۔ اس رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ صرف 2015ء میں 34651 سے بڑھ کر 38947 ہو گئی ہے۔ یہ بات نا صرف خلاف توقع اور حیران کن ہے بلکہ تشویش ناک حد تک خطرناک بھی ہے کہ 95فیصد سے زائد واقعات میں ملوث مجرم متاثرہ خواتین کے رشتہ دار یا جان پہچان کے لوگ تھے۔ انڈین نیشنل کرائم بیورو کے مطابق 2015ء میں اگر عصمت دری یا زنا بالجبر کے علاوہ خواتین کے ساتھ ہونے والے دیگر جرائم (مثلاً برہنہ کرنے کی کوشش ، شوہر کی جانب سے شدید تشدد، جنسی طور پر ہراساں کرنا، اغوا اور بیرون ممالک عورتوں کی انسانی سمگلنگ وغیرہ) کو بھی شامل کیا جائے تو کم و بیش 327394واقعات منظر عام پر آئے تھے۔
2016ء میں صرف دہلی میں پولیس کی جانب سے ریپ کے 2155مقدمات درج کے گئے جو کہ 2012ء کی نسبت 67فیصد زیادہ تھے۔ ایک تحقیقی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ انٹرویو کے دوران 18سال سے کم عمر متاثرہ خواتین سمیت دیگر نے بتایا کہ پولیس نے ان کو اپنا بیان بدلنے کے لیے نہ صرف دبائو ڈالا بلکہ تشدد بھی کیا۔ بلکہ ہندوستانی پولیس انسانیت و اخلاقیات کے دائرہ کار سے نکل کر معصوم متاثرہ خواتین پر مختلف میڈیکل ٹیسٹ کے ذریعے الزام تراشی بھی کرتی ہے کہ وہ خواتین پہلے ہی اپنی رضا سے زنا کی عادی ہیں۔ لہٰذا زبردستی انہیں مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی بجائے چپ چاپ تاریکی میں گم ہو جائیں۔ مذکورہ بالا حقائق سے واضح ہوتا ہے کہ اکثر واقعات میں پولیس نہ صرف مجرموں کی مدد کرتی ہے بلکہ بہت سے واقعات میں پولیس کے اپنے لوگ اس شرمناک جرم میں ملوث ہوتے ہیں۔ 
گلوبل پیس انڈیکس کی رپورٹ کے مطابق انڈیا دنیا میں عورتوں کے سفر کے لیے چوتھا خطرناک ترین ملک ہے۔ 2016ء کے اواخر میں ہندوستان کے وزیر برائے سیر و تفریح (Tourism) مہیش شرما بین الاقوامی دنیا سے آنے والی خواتین سمیت دیگر قومی خواتین کو بھی یہ تنبیہہ کر چکے ہیں کہ وہ انڈیا میں سکرٹس وغیرہ نہ پہنیں ارو نہ ہی رات کو اکیلے باہر نکلیں۔ انڈین گورنمنٹ کی جانب سے اس قسم کے بیان سے بالکل واضح ہو جاتا ہے کہ جو ملک چند دن کے لیے دیگر ممالک سے آنے والی خواتین کو اپنے بے مہار انسان نما درندوں سے تحفظ فراہم نہیں کر سکتا وہ ہندوستان کی عورتوں کے حقوق و عصمت کی حفاظت کیونکر کر رہا ہو گا۔ تھامسن ریوٹرز فائونڈیشن کی 2017ء کی تحقیقی رپورٹ میں نام نہاد سیکولر عظیم جمہوریت کے دارالحکومت ’’دہلی‘‘ کو انڈیا کا ’’ریپ کیپٹیل‘‘ قرار دیا گیا جو کہ انڈیا ابھی تک اپنے نام کے ساتھ سے نہیں ہٹا پایا۔
 بھارتی حکومت کی بین الاقوامی دنیا سے آنے والی خواتین کو کپڑوں کے متعلق خبردار کرنے، ان معاملات میں لاپرواہی برتنے، مجرموں کی مدد کرنے اور ایسے دیگر کئی واقعات بھارت کی عالمی دنیا میں یہ صرف جگ ہنسائی کا باعث بنے بلکہ بہت سے تحقیقی اداروں، صحافیوں، اخباری ایجنسیوں سمیت دیگر دنیا کے حکمرانوں سے شدید مذمت کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ 
فروری 2018ء میں ٹائمز آف انڈیا کی پبلش ہونے والی رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں 2018ء کے پہلے 45دنوں میں ہی 2017ء کے پہلے 45دنوں کی نسبت جرائم میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ قتل ، اغواء برائے تاوان، جہیز نہ لانے پر عورت کا قتل اور زنا بالجبر کی جرائم میں اضافہ تشویشناک حد تک بڑھ سکتا ہے جبکہ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے حکومت کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسی رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں ہر دو دن میں ایک عورت کو جہیز نہ لانے پر قتل کر دیا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان 45دنوں کے موازنے سے ثابت ہوتا ہے کہ قتل کے مقدمات 53سے بڑھ کر 59اور زنا بالجبر کے واقعات 240سے بڑھ کر 243ہو چکے ہیں۔  2012ء میں دہلی میں میڈیکل کی طلبہ کے ساتھ ہونے والی اجتماعی زیادتی کے بعد رواں سال مقبوضہ کشمیر میں خانہ بدوش مسلمان برادری سے تعلق رکھنے والی آصفہ نامی آٹھ سالہ بچی کو ایک ہفتے تک اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے اور پھر پتھر مار کر قتل کر دینے کے ہولناک واقعے نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس سانحے میں ملوث 8افراد (ایک سابق سرکاری ملازم، چار پولیس اہلکار اور ایک نوجوان) کو گرفتار کرنے پر بھارت کی حکمران سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP)سے تعلق رکھنے والے ہزاروں انتہا پسند ہندو افراد ، ہندو انتہا پسند تنظیم ’’ہندو ایکتا منج‘‘ سمیت دیگر کئی شدت پسند ہندو تحریکوں نے ان 6افراد کی رہائی کے لیے شدید احتجاج بھی کیے جن میں بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP)کے 2وزرائے نے ملزموں کے حق میں شرکت بھی کی جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔ تحقیقات کے مطابق اس مخصوص واقعہ کا مقصد مسلمانوں کو ’’کاتھوا‘‘ کا علاقہ چھوڑنے پر مجبور کرنا تھا۔ اسی وجہ سے ہندو شدت پسندوں نے بچی کی میت کو اس علاقے میں دفن بھی نہیں کرنے دیا۔ اس مخصوص واقعہ کے بعد دنیا بھر میں مودی سرکار کے خلاف ایک شدید لہر اٹھی اور ہندوستان کو عالمی برادری میں شدید مذمت کا سامنا بھی ہوا۔ گو کہ موجودہ بی جے پی کی گورنمنٹ سے قبل بھی ہندوستان میں اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا تھا مگر بی جے پی کی حکومت میں یہ معاملہ سنگین ہو گیا کیونکہ شدت پسند ہندوئوں کو بی جے پی اور حکومت کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ بین االقوامی تحقیقی ادارہ پیئو ریسرچ سینٹر کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ انڈیا 198 ممالک میں چوتھا بدترین ملک ہے جہاں مذہبی انتہا پسندی اور اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی کی جاتی ہے۔ 
بقیہ: نقارخانہ