21 ستمبر 2018
تازہ ترین

وہ وقت چلاگیا وہ وقت چلاگیا

وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور ہر دور کی قدریں جدا ہوتی ہیں۔ انسان کی سوچ بدلتی رہتی ہے۔ ہر دور میں انسان کا مزاج اور طرح کا رہا ہے۔ پرانے زمانے میں انسان دوسروں سے بڑی محبت کرتا تھا۔ آج کا انسان خودغرضی سے بھرا پڑا ہے۔ محبت ہو بھی کیسے سکتی ہے۔ دل میں لالچ نے طوفان مچا رکھا ہے۔ انسان کی طمع نے دنیا کے سارے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ اس نے جو سب سے بڑا ظلم کیا وہ انسان سے نفرت کا ہے۔ انسان جب صرف اپنی ذات میں گم ہوجائے گا تو پھر دوسروں سے محبت کہاں کرے گا۔ اب تو اس کے پاس خود سے محبت کرنے کا وقت نہیں رہا۔ اسے اپنی زندگی کے بارے میں علم کم ہوتا جارہا ہے۔ صرف دولت کی فکرہے، جو انسان کو انسان سے غافل کردیتی ہے۔ یقیناً آپ میری بات سے اتفاق کریں گے۔ جب ہمارے والدین کا زمانہ تھا تو لوگ اپنا زیادہ وقت دوسروں کی فکر میں بسر کرتے تھے، اب تو اپنی خاطر وقت نہیں رہا۔ اگر آج کا انسان کسی کو کچھ وقت دیتا تو وہ تنقید کے لیے دیتا ہے یا دوسروں کی غیبت کے لیے تھوڑا بہت وقت نکال لیتا ہے۔ محبت اور بھائی چارے کے لیے وقت نہیں۔ آج کا انسان تمام زندگی کی سہولتوں کے ہوتے ہوئے بالکل تنہا ہے، اتنا تنہا پہلے کبھی نہ تھا، حالانکہ اب دنیا میں بڑی رونق ہے، ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں ہیں، خوبصورت گھر ہیں، اعلیٰ کار ہے، کھانے کو اعلیٰ غذا موجود ہے، آج جو کپڑا انسان کو میسر ہے وہ کبھی اسے قدیم زمانے میں ملا ہی نہیں تھا۔ قدیم زمانے میں اکثر لوگ ننگے پائوں ہوتے تھے، جو تیاں نہیں ہوتی تھیں 
اور اکثر کپڑے پھٹے ہوتے تھے، نئے کپڑے تو بادشاہوں کو ملا کرتے تھے۔ آج کا انسان بادشاہوں سے اچھا لباس پہنتا ہے مگر خوش نہیں۔ شاید شکر کرنا بھول گیا ہے اور کیا کمال ہے ہر انسان، انسان کو تلاش کررہا ہے مگر کسی کو انسان مل ہی نہیں رہا۔ اس کی وجہ، یہ کہ انسان نے خود کو دولت کی ہوس میں گم کردیا ہے، اس لیے اسے دوسرے انسان نظر نہیں آرہے، حالانکہ ہر انسان انسانوں کے جنگل میں رہتا ہے، ہر فرد کے گرد لاکھوں لوگ موجود ہیں۔
یوں تو بڑا حجم تھا میرے گھر کے چاروں اطراف
لیکن کوئی مکاں نہ تھا میرے مکان کے بعد
جب انسان کسی کے دکھ بانٹنے کے لیے نہیں آتا تو پھر مکان کہاں ہوگا، یہ زمین انسانوں سے بھرگئی ہے، مگر احساس خالی ہوگیا ہے۔ بڑے  بڑے پوش ایریا میں صرف کوٹھیاں ہیں، احساس والے انسان نہیں۔ اگر پتھروں کے پہاڑوں سے ساری زمین بھر جائے مگر دکھ درد بانٹنے کے لیے کوئی نہ ہو، پھر اس دنیا کا فائدہ؟ اگر دنیا کے ملکوں کو دیکھا جائے تو صرف اپنی خاطر جی رہے ہیں۔ ہم بھارت سے ڈرتے ہیں، بھارت ہم سے ڈرتا ہے، افغانستان ہمارے جوان مارتا ہے ہم اس کے دہشت گردوں کو مارتے ہیں، ہر ملک اپنی حفاظت کا بندوبست کرتا ہے، بس یہ  ہے آج کا انسان۔ اﷲ تعالیٰ نے آدمؑ کو حکم دیا تھا، اُتر جائو اس زمین پر ایک مقررہ مدت کے لیے، گویا انسان کا ٹھکانہ یہ زمین تھی اور یہ ایک ہی ملک تھا۔ اب زمین کے ٹوٹے ہوگئے ہیں، اسی طرح انسان کے بھی ٹوٹے ہوگئے۔ ایک منٹ کے لیے فرض کریں کہ دنیا ایک ملک ہوجائے اور ہم جہاں چاہیں چلے جائیں، آپ کہیں گے ایسا  کیسے ہوسکتا ہے۔ جب آدمؑ اس زمین پر آئے تھے تو ہزاروں برس یہ زمین ایک ہی ملک رہا تھا مگر انسان کی ہوس نے اس کے ٹوٹے کردیے۔ اب بھی ہوسکتا ہے ایک دن ایسا ہو جب اﷲ تعالیٰ سارے انسانوں کو ایک پل میں ختم کردے اور صرف کچھ لوگ باقی رہیں، پھر وہ اس زمین پر ایک سلطنت کی طرح  رہیں گے اور پھر وہی محبت کے زمانے آجائیں گے۔ اﷲ فرماتا ہے، پہاڑ ریزہ ریزہ ہوکر اُڑ جائیں گے، سو سو کوس پر ایک آدمی ہوگا۔ 
اﷲ نے انسان کو عبادت اور محبت کے لیے پیدا کیا ہے مگر انسان تو بالکل بدل گیا ہے، اسے اپنی ذات کے علاوہ کچھ یاد نہیں۔ اﷲ کے لیے کیا مشکل ہے کہ وہ تمہاری جگہ دوسری مخلوق لے آئے اور تم چلے جائو اور اﷲ نے یہ بات کہہ رکھی ہے کہ میں ایسا کرسکتا ہوں۔ انسانوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے یہ سارے کھیل ہورہے ہیں، آپ خود اندازہ کریں، جب آپ 
کے شہر کی آبادی کم تھی تو اتنا سکون تھا، کتنی محبت تھی، مجھے یاد ہے لوگوں میں بڑی محبت ہوا کرتی تھی اور یہ کوئی نئی بات نہیں کہ انسان اس دنیا میں زیادہ ہوگئے، ایسا پہلے بھی ہوتا رہا ہے، پھر اﷲ انسانوں کو کم کردیتا تھا۔ اب دیکھیں جس گھر میں لوگ کم ہوں گے، وہاں سکون ہوگا، جہاں ایک گھر میں درجنوں افراد ہوں گے، وہاں سکون کہاں ہوگا۔ آج بھی پاکستان کے چھوٹے شہر بڑے پُرسکون ہیں، ہر آدمی دوسرے کو جانتا ہے، ہر فرد کو دوسرے کی پریشانیوں کا پتا ہے، لہٰذا وہاں وہی پرانا وقت ہے، انسان ترقی کرتا اتنی دُور چلاگیا ہے کہ اب اس کی واپسی مشکل ہوگئی ہے۔ مطلب کہ آپ کا خاندان بہت بڑا ہی سہی مگر آپ دوسروں سے محبت ضرور کریں۔ اگر محبت سے خالی ہوگئے تو اﷲ کو پتھروں کی ضرورت نہیں، انسانوں کی ضرورت ہے اور محبت اور پیار کرنے والے انسان کی۔ کچھ وقت دوسروں کے لیے ضرور نکالا کریں تاکہ لوگ آپ کے لیے وقت نکالیں، دنیا تب ہی محبت کا گھر ہوگی ورنہ جنگل کی طرح انسان اس دنیا میں رہتا رہے گا۔ ا نسان بڑی محبت والی مخلوق ہے۔   
بہت سارے انسان کس کام کے ہیں
کیا انسان فقط اک نام کے ہیں 
کہاں ہے بھائی چارہ کہاں محبت ہے
یہ سارے  فتنے فرازیؔ چھوٹے کلام کے ہیں
ہر شخص سکون تلاش کرتا پھر رہا ہے مگر دوسروں کو سکون ہوجانے پر تیار نہیں، ابھی وقت ہے کہ یہ سکون حاصل کرے، کل کی کس کو خبر ہے۔