24 اپریل 2019
تازہ ترین

وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے والے بیوروکریٹ اور پنجاب وکٹ کے دونوں طرف کھیلنے والے بیوروکریٹ اور پنجاب

بستیاں سنہری تھیں لوگ بھی سنہرے تھے
کونسی جگہ تھی وہ ہم جہاں پہ ٹھہرے تھے
اب سلیمؔ اکیلے ہو، ورنہ عمر بھر تو تم
دوستی میں اندھے تھے، دشمنی میں بہرے تھے
(سلیم کوثر)
گزشتہ ہفتے چار دن داتا کی نگری (لاہور) میں گزرے۔ برادرم راؤ ضمیر کی صاحبزادی کی شادی تھی۔ داتا حضور کے در پر حاضری کا شرف بھی نصیب ہوا۔ اسلام آباد سے ارادہ کر کے گیا تھا۔ پھر اس قدر دل مچلا کہ نانگا مست کو فون کیا۔ جہانزیب بلوچ بھی ہمراہ تھا۔ اگلے دو گھنٹے میں جناب عثمان ہجویریؒ کے قدموں میں تھے۔ پھر وہیں سے واپسی کی راہ لی۔
لاہور میں کئی دوستوں سے ملاقاتیں رہیں۔ صحافی کچھ نہ بھی کر رہا ہو، تب بھی وہ خبر کی تلاش میں رہتا ہے۔ وہاں پر ایک عجیب منظر بھی میرا منتظر تھا۔ میں نے ایک صوبائی وزیر کی آنکھوں سے ٹپ، ٹپ گرتے آنسو دیکھے۔ میں حیران تھا۔ وزیر اپنے دوستوں سے مالی حالت بیان کرتے رو پڑے۔ کئی لاکھ کے مقروض ہونے کا رونا رو رہے تھے۔ کہنے لگے، آج گھر 20 ہزار روپیہ ایزی پیسہ ادھار لیکر کرایا ہے۔ حلقے کے لوگ آتے ہیں۔ ان کی خدمت کرنا ہی ہوتی ہے۔ ایسے میں میرے اوپر کرپشن کے الزامات لگ رہے ہیں۔ میں حیران تھا۔میں نے پڑھا تھا کہ روتی عورت اور ہنستے مرد پر کبھی اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔ مگر روتے مرد کے حوالے سے مفکر خاموش رہا۔ مگر تجربہ کار لوگ کہتے ہیں کہ مرد بہت ہی مجبوری میں، جب ٹوٹنے کے قریب جاتا ہے۔ بے بسی اس کے پاؤں کی زنجیر بن کر اس سے لپٹتی ہے تو وہ روتا ہے۔
میں نے جب اپنے دوست سے وزیر کے جانے کے بعد پوچھا تو میرے دوست نے کہا کہ یہ وزیر خوراک و زراعت سمیع اللہ تھے۔ حیرت ہے میں انہیں پہچان نہیں سکا، میری ان سے گیارہ سال پہلے کی ملاقاتیں تھیں۔ برادرم میاں افتخار کے ساتھ، بلیغ الرحمان کے راج پر، وقت کی دھول نے انہیں کافی بدل دیا۔میں نے کہا کہ بلوچ یار قضیہ کیا ہے۔ بلوچ نے کہا کہ سمیع اللہ چودھری سفید پوش آدمی ہے۔ آج بھی وہی پرانا مکان ہے۔ اس کو ہمارے ’’بابوؤں‘‘ نے بڑے طریقے سے جال میں پھنسایا ہے۔ بابو لوگ کسی بڑی ملٹی نیشنل کمپنی کو ’’ڈوز‘‘ دینا چاہتے تھے، ڈوز بھی خود دلوائی، الزام بھی وزیر پر لگا دیا۔ وزیر خوراک نے اپنے سیکرٹری سے کئی مرتبہ 9 ارب کی سبسڈی پر فرانزک آڈٹ کا کہا، یہی وہ نکتہ تھا۔ جہاں بابوؤں نے اس کے گرد گھیرا تنگ کیا اور ملٹی نیشنل کمپنی کو وزیر کا نام فراہم کر کے اس کی شکایت اعلیٰ ترین ایوانوں میں کر دی کہ آپ کے وزیر کیا کر رہے ہیں۔ حساس ادارے کے کچھ لوگ کام نہ کرنے پر پہلے ہی وزیر پر تاؤ کھائے بیٹھے تھے۔ انہوں نے بھی موقع غنیمت جانا اور اپنا حساب کتاب برابر کر دیا۔
اب وزیر خوراک نے آفیشلی ’’بابو جی‘‘ سے 9 ارب کی سبسڈی کا حساب طلب کر لیا ہے۔ جبکہ وزیر خوراک اپنی لیڈر شپ کے سامنے بھی سیدھا ہو گیا۔ اس نے وزیراعظم کو کہا کہ اس پر کرپشن ثابت ہو جائے تو اس کو پھانسی لگا دیں۔ عمران خان نے جب الگ سے پوچھ گچھ کرائی تو بات کچھ اور ہی نکلی۔ سمیع اللہ چودھری کو عثمان بزدار کی قربت کی وجہ سے بھی ٹارگٹ کیا گیا۔ دوسرا جو آدمی ٹارگٹ پر ہے۔ وہ ڈاکٹر وسیم لنگڑیال ہے۔ سی ایم سے ان کی قربت لوگوں کو ہضم نہیں ہوتی۔اس وقت وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ میں عجیب کھچڑی پکی ہوئی ہے۔ نوکر شاہی کی کی پھرتیوں نے وزیر اعلیٰ پر مسلط کیے گئے ترجمان شہباز گل کے لیے الگ سے مسائل پیدا کر دیے ہیں۔ انتہائی عجلت میں جاری ہونے والے ایک متنازع نوٹیفکیشن کے ذریعے شہباز گل کو پنجاب بھر کے ہسپتالوں اور دیگر اداروں کی انسپکشن کا حیرت انگیز اختیار دے دیا گیا۔ حالانکہ وزیراعلیٰ پنجاب سے شہباز گل نے ایک دو ہسپتالوں کے دورے کی اجازت طلب کی تھی۔ سادہ لوح وزیراعلیٰ موصوف کے منصوبے کو نہیں سمجھ سکے۔ اب شنید ہے کہ شہباز گل کا نوٹیفکیشن کسی بھی وقت واپس ہو سکتا ہے۔
یہ بھی اطلاعات ہیں کہ عمران خان کو اب بڑی شدت سے احساس ہو رہا ہے کہ اس کے اتحادیوں نے اس سے بہت سی غلطیاں کرائی ہیں۔ سادہ لوح مگر صاف ستھرے وزیراعلیٰ کو ایک مضبوط چیف سیکرٹری، جو قابل اعتماد بھی ہوتا، دیا جانا ناگزیر تھا۔ بدقسمتی سے مرکز اور پنجاب میں غالب بیورو کریسی وہ ہے، جو وکٹ کے دونوں جانب کھیل رہی ہے۔ عمران کو سمجھنا ہو گا کہ اس پر تنقید کرنے والا میڈیا اس کا اتنا دشمن نہیں، جتنا وہ سمجھتا ہے۔ وہ تو اس کے منہ پر بات کر رہے ہیں۔ جن لوگوں نے اس سے سیاسی اور بابوؤں کی کمزور ٹیم لگوائی ہے، وہ اس کے اصل دشمن ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی حمایت یافتہ بیورو کریسی نے حکومتی گاڑی کے ٹائروں کی ہوا نکال دی ہے۔ پنجاب مرکز کا بیس کیمپ ہے پنجاب میں بے چینی تو سمجھو سب کچھ فارغ ہے۔ زرداری سندھ کارڈ کھیل کر سب کو پریشان کر رہا ہے۔ آپ کے پاس تو پاکستان کا نصف پنجاب ہے۔ حضور ذرا سیدھے ہوں۔ کوئی ’’مسلمان‘‘ بیورو کریٹ لیکر آئیں۔ جن کے اندر کوئی دم ہو ان سیاسی رہنماؤں کو میدان میں اتاریں۔ یہاں اخلاقیات کا سودا بیچنے کا وقت نہیں آیا۔ فاؤل پلے کرنے والوں سے کسی اخلاقیات، کوئی مضبوط، سیکرٹری داخلہ، چیئرمین ایف بی آر، ڈی جی ایف آئی اے، آئی جیز، چیف سیکرٹری لیکر آئیں۔ انہیں ٹیم بنانے دیں۔ ایک ایک دن میں سیکڑوں لوگوں کے تبادلے کریں۔ گیندوں کو روکنے والا عثمان بزدار بھی آپ کو میچ جتوا دے گا۔ شرط ہے کہ وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والوں کو طلاق دے دیں۔
حیرتوں کے سلسلے سوز نہاں تک آ گئے
ہم نظر تک چاہتے تھے، تم تو جاں تک آ گئے