22 فروری 2019
تازہ ترین

وزیر اعظم کا فروغ اقبالیات کا عزم وزیر اعظم کا فروغ اقبالیات کا عزم

پاکستان کو ریاست مدینہ کے نمونے پر ڈھالنے کے لیے موجودہ حکومت اور خصوصاً وزیراعظم عمران خان نے جن خیالات کا اظہار بار بار اپنے اعلانات میں کیا ہے، اس بارے میں ان کی سنجیدگی کا اظہار علامہ اقبال اور اسلامی تاریخ سے ان کی وابستگی سے ہوتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق وزیراعظم نے کہا ہے کہ ریاست مدینہ کے بنیادی اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے آج بھی ہم اپنا وہی مقام حاصل کر سکتے ہیں، جسے ہم کھو چکے ہیں۔ مذہب اخلاقیات کا درس دیتا ہے۔ معاشی اور سماجی تنزلی سے پہلے اخلاقی تباہی واقع ہوتی ہے اور ہمارے معاشرے کا کرپشن کا ناسور اسی اخلاقی تباہی کا مظہر ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نئی نسل کو اسلامی تاریخ اور خصوصاً قومی شاعر علامہ محمد اقبال کے فلسفے اور سوچ سے روشناس کرانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں منعقدہ ایک اجلاس میں کیا۔ اجلاس میں وزیر تعلیم شفقت محمود اور پارٹی کے دوسرے راہنما، نمائندے اور ترجمان بھی موجود تھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ صوبائی حکومتوں کے مشورے سے اقبالیات اور اسلامی تاریخ کو نصاب میں شامل کیا جائے گا تاکہ نئی نسل کو اسلام کی تاریخ، مسلمانوں کے عروج اور برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کے سب سے بڑے مفکر علامہ محمد اقبال کی سوچ سے روشناس کرایا جا سکے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ علامہ محمد اقبال کا فلسفہ انسان کی سوچ کو آزاد اور تخیل کو بلندی عطا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست مدینہ کے اصول آج بھی اسی طرح مسلم ہیں جس طرح اسلام کے ابتدائی دور میں ان کی اہمیت مسلم تھی اور جن پر عمل پیرا ہو کر مسلمانوں نے دنیا کی امامت سنبھالی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس سے پہلے ربیع الاول کے مہینے میں منعقد کی جانے والی بین الاقوامی رحمت للعالمینؐ کانفرنس میں وزیر اعظم عمران خان نے انہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے یہ اعلان کیا تھا کہ پاکستان کی چند نمائندہ یونیورسٹیز میں ایسی چیئرز اور شعبے قائم کیے جائیں گے جو اسلام کی تاریخ پر اس حوالے سے تحقیق کریں گے جس سے آج کی نسل اس حقیقت سے روشناس ہو سکے کہ وہ کون سے بنیادی اصول تھے جن پر عمل کرتے ہوئے مسلمانوں نے عروج حاصل کیا۔ دنیا کو ایک نئی تہذیب دی اور حکومت کے ایسے أصول عطا کیے کہ آج بھی انسانیت کی بقا اور فلاح انہی اصولوں کی پیروی میں ہے۔ وزیراعظم کی طرف سے مختلف مواقع پر کیے جانے والے اس طرح کے اعلانات ان کی اس تمنا کا اظہار ہیں جو وہ پاکستان کو ریاست مدینہ کے نمونے پر ڈھالنے کے لیے رکھتے ہیں۔ مگر یہ خواب اس وقت ہی تعبیر میں ڈھل سکتا ہے کہ اعلانات اعلانات ہی نہ رہیں بلکہ اگلے اعلان سے قبل پہلے اعلان پر عمل درآمد اور وہ عملی صورت میں بدل چکا ہو۔
آج پاکستان کو ریاست مدینہ کے نمونے پر ڈھالنے کے لیے تحریک پاکستان کی طرح کے جذبے، حکمت عملی، بصیرت اور عملی جدوجہد کی ضرورت ہے۔ محض ایسا قانون، ضابطہ یا نظام اس منزل تک ہمیں نہیں پہنچا سکتا جس میں عوام الناس کا جذبہ اور حقیقی قلبی شمولیت موجود نہ ہو۔ یہ سب کچھ فکر اقبال کے ذریعے سے ممکن ہے۔ وزیراعظم کی یہ رائے بڑی صائب ہے کہ جب تک ہم نسل نو کو اسلامی تاریخ کی تعلیم سے آشنا نہیں کرتے جو ان اصولوں سے متعلق ہیں جن پر عمل کرتے ہوئے قرون اولیٰ کے مسلمان ایک نئی تہذیب کی بنیاد رکھتے ہوئے دنیا کے قائد بن گئے تھے ہم پاکستان کے قیام کے مقاصد کو حقیقت میں نہیں ڈھال سکتے۔ فکری آزادی، تخیل کی بلندی اور جذبہ عمل کی بیداری فکر اقبال کے بغیر ممکن نہیں۔ ریاست مدینہ کے قیام کا آغاز بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اخلاقی تربیت، فکری تطہیر اور علم و حکمت کے فروغ سے کیا۔ جب آپؐ مدینہ طیبہ تشریف لے گئے تو ہجرت کے بعد نئے خطے میں جن ابتدائی اقدامات کا آپؐ نے آغاز فرمایا ان میں ایک مسجد نبویؐ کا قیام تھا۔ مسجد نبویؐ ابتدائی اسلامی معاشرے کا پہلا مرکز تعلیم و تربیت تھا جس کے لیے آج ہم یونیورسٹی یا جامعہ کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ اس پہلے مرکز تعلیم و تربیت کا ایسا نصاب تشکیل دیا گیا جس نے بیک وقت اخلاقی اصلاح، سماجی بہتری اور نئے قائم ہونے والے معاشرے کے ثقافتی و تہذیبی خطوط کا تعین کیا۔ قرآن حکیم کی روشنی میں اس پہلی اسلامی یونیورسٹی یا پہلے مرکز تعلیم و تربیت کا نصاب قرأت قرآن، تزکیہ، تعلیم کتاب، تعلیم حکمت اور نئے علوم کی تعلیم پر مشتمل تھا۔
یہ ایک المیہ ہے کہ اس وقت ہمارا قومی تعلیمی نصاب کئی طرح کے تضادات، اختلافات اور طبقاتی تقسیم کا شکار ہے۔ فکر اقبال کو قومی تعلیمی نصاب کا حصہ بنا کر ہم قومی تعلیمی نصاب کی تشکیل کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ پاکستان میں بیک وقت کئی متوازی نظام تعلیم بھی یکساں قومی سوچ کے فقدان کا سبب ہیں۔ نظام تعلیم میں پہلی تقسیم دین و دنیا کی دینی مدارس اور کالجز و یونیورسٹیوں کی صورت میں شروع ہو جاتی ہے۔ دینی مدارس کا نظام کئی ذیلی درجہ بندیوں اور باہم نصاباتی اختلافات کا حامل ہے۔ دنیاوی تعلیم جہاں اردو اور انگریزی میڈیم کی تقسیم کی حامل ہے تو اردو اور انگریزی دونوں میڈیم ذیلی تقسیم کے حامل ہیں۔ سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے ایک دوسرے سے بالکل الگ نظام اور نصاب لے کر چل رہے ہیں۔ انگریزی میڈیم سکولوں میں برٹش سکول سسٹم اور امریکن سکول سسٹم رائج ہیں، جن میں کئی ذیلی تقسیمات موجود ہیں۔ جب بھی کسی قوم کے لیے تعلیمی نظام اور نصاب طے کیا جاتا ہے تو اس کے مقاصد واضح اور متعین ہوتے ہیں۔ کیونکہ تعلیمی نظام سے ہجوم نہیں، تربیت یافتہ اور مہذب معاشرہ تیار کرنا مقصود ہوتا ہے۔ ہر تعلیمی نظام اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ اس قوم کی اقدار کو اگلی نسلوں تک منتقل کیا جائے اور یہ اقدار اس قوم کی ثقافت اور تہذیب میں پیوستہ ہوتی ہیں۔ مضبوط اقدار ہی مستحکم معاشروں کی تشکیل کرتی ہیں۔ مگر ہمارے ہاں نہ ایک نظام ہے نہ ایک نصاب۔ سرکاری سکول عدم سرپرستی اور نجی سکول سسٹم، امریکن اور برطانوی سکول سسٹم کی نرسریوں کا منظر پیش کرتے ہیں۔ جن کے ذریعے باہر کے تعلیمی ادارے اس ملک سے سرمایہ بھی کما رہے ہیں اور اپنے ساتھ ذہنی ہم آہنگی رکھنے والی ایسی نسل بھی تیار کر رہے ہیں جو اپنی تہذیب اور اپنے معاشرے سے کہیں زیادہ ان ممالک کی تاریخ اقدار اور روایات سے متاثر ہو کر ان کے قریب ہو رہی ہے۔
جیسا کہ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے قومی تعلیمی نصاب میں یکسانیت کے فقدان کا ازالہ فکر اقبال کو نصاب کا موثر بنانے سے ممکن ہے۔ ہمارے قومی تعلیمی نصاب میں کبھی بھی فکر اقبال کو وہ مقام نہیں دیا گیا، جس کی ضرورت تھی۔ اس سے قوم میں فکری اور شعوری انتشار، پراگندگی اور بے مقصدیت بھی پیدا ہوئی اور قومی تعلیمی نصاب اور نظام بھی یکسانیت سے عاری رہا۔ اگر ہم نے پاکستان کی نظریاتی اساس کے مطابق قومی تشخص کی تشکیل کرنی ہے اور اسے نسل نو کے شعور کا حصہ بنانا ہے، نسل نو میں اعلیٰ اقدار پیدا کرنی ہیں یعنی خود انحصاری، وقار قومی، حریت، عزت نفس، قومی مفاد کے لیے ذاتی مفاد کو قربان کرنے کا جذبہ جو اقبال کے تصور خودی کے اجزائے ترکیبی ہیں اور دورجدید کے چیلنجوں کے مقابل نسل نو کو اعتماد کا حامل بنانا ہے تو یہ فکر اقبال کو قومی تعلیمی نصاب اور نظام کا حصہ بنائے بغیر ممکن نہ ہو گا۔     (جاری ہے)