16 نومبر 2018
تازہ ترین

وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا کڑا امتحان وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا کڑا امتحان

وزیراعظم عمران خان نے پنجاب میں اکثریت حاصل کرنے کے فوری بعد کہا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت کی کارکردگی کا اصل امتحان پنجاب میں ہوگا، جہاں پی ٹی آئی حکومت ایسا نظام قائم کرے گی جس سے صوبے کے عوام کو تبدیلی ہوتی نظر آئے گی۔ عمران خان پنجاب میں سب سے پہلی تبدیلی تو صوبے کے وزیراعلیٰ کے لیے طاقتور امیدواروں کے نام رد کرکے پسماندہ علاقے تونسہ سے تعلق رکھنے والے سردار عثمان بزدار کو منتخب کرکے لائے ہیں۔ بزدار پنجاب کے وزیراعلیٰ تو بن گئے لیکن انہیں صوبے کے ہر دلعزیز وزیراعلیٰ بننے کے لیے اب کڑے امتحان کاسامنا ہے، کئی مشکلات اور مسائل ان کے راستے میں حائل ہوں گے، لیکن ثابت قدمی کامیابی کا زینہ بن سکتی ہے۔ پنجاب کے نئے وزیراعلیٰ کو یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف نے کروڑوں روپے کی جائیداد کا مالک ہونے کے باوجود اپنے نام کے ساتھ ’خادم اعلیٰ‘ کا لاحقہ لگایا تو عوام نے ان کے کام کے ساتھ نام کو بھی پسند کیا۔ عثمان بزدار کو بھی چاہیے کہ وہ عوام کے ساتھ قریبی تعلق رکھنے کے لیے اپنے نام کے ساتھ سردار کا لاحقہ لگانے کے بجائے عثمان بزدار ہی لکھیں تو صوبے کے دس کروڑ عوام کو ان میں بھی اپنا آپ جھلکتا نظر آئے گا۔
صوبے کے بڑے مسائل میں امن وامان، صحت، تعلیم اور انصاف کی فراہمی کے علاوہ ہر شعبے میں میرٹ کی حکمرانی قائم کرنا نئے وزیراعلیٰ کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے، جسے اگر وہ خوش اسلوبی سے سر کرگئے تو ان کا نام پنجاب کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ پی ٹی آئی نے گزشتہ دس برس کے دوران سابق وزیراعلیٰ پر جو سب سے بڑی تنقید کی کہ شہباز شریف نے اربوں روپے کا بجٹ میٹرو بس، اورنج ٹرین، سڑکوں، پلوں اور اوور ہیڈ برجز پر خرچ کردیا۔ انہیں اس پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہاکہ انہوں نے ترقیاتی منصوبوں میں لاہور، راولپنڈی، ملتان، فیصل آباد، گوجرانوالا، سیالکوٹ اور چند بڑے شہروں کو فوقیت دی، لیکن جنوبی پنجاب کے اضلاع پر توجہ نہ دی۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار صوبے کے پسماندہ اور غیر ترقی یافتہ اضلاع میں نئے ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کرکے عوام کا دل جیت سکتے ہیں۔ اس دوران صوبے کے بڑے اضلاع میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کرنا بھی ضروری ہے۔
لاہور سمیت صوبے کے تمام اضلاع میں صاف پانی بڑا مسئلہ ہے۔ نئے وزیراعلیٰ کو اس پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ شہباز حکومت صاف پانی کمپنی بنانے اور چار ارب روپے خرچ کرنے کے باوجود پسماندہ اضلاع میں ایک بوند بھی صاف پانی مہیا نہیں کرسکی۔ بزدار کو صوبے کے عوام کو گھر گھر صاف پانی پہنچانے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے۔ اس کے لیے نئے فلٹر پلانٹ لگاکر عارضی اقدامات کرنے کے بجائے گھروں میں جانے والی سرکاری پانی کی لائنوں میں صاف پانی مہیا کرنے کے اقدامات کو ترجیح دینا ہوگی۔ وزیراعلیٰ پنجاب کو یہ بھی مدنظر رکھنا ہے کہ صوبے میں سرکاری ہسپتالوں، سکولوں اور کالجوں کی تعداد آبادی کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ لاہور جیسے شہر کے میو ہسپتال، سروسز، گنگارام، چلڈرن، گلاب دیوی ہسپتال اور پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں ایک بیڈ پر دو دو اور تین تین مریضوں کو لٹاکر علاج کرنا پڑتا ہے۔ ایمرجنسی وارڈ میں بیڈ کم ہونے کے باعث وہیل چیئر اور بینچوں پر بٹھاکر مریضوں کو ڈرپ لگانا پڑتی ہے۔ کئی ہسپتالوں میں گائنی وارڈ میں جگہ نہ ہونے پر فٹ پاتھوں اور راہداریوں میں بعض بچوں کی پیدائش ہوچکی ہیں۔ صوبے کے سرکاری سکولوں کا معیار تعلیم کم ہونے سے کروڑوں بچے پرائیویٹ سکولوں میں پڑھنے پر مجبور اور لاکھوں تعلیم کی بنیادی سہولت سے ہی محروم ہیں۔ صوبے میں سرکاری کالجوں کی تعداد اتنی کم ہے کہ میٹرک پاس ساٹھ فیصد سے زائد طلبا کو کسی سرکاری کالج میں داخلہ نہ ملنے پر والدین کو مجبوراً لاکھوں روپے خرچ کرکے پرائیویٹ کالجز میں داخلہ کروانا پڑتا ہے۔
سابق وزیراعلیٰ نے صوبے کے تمام سکولوں کو بہتر بنانے کے بجائے دانش سکول بنانے کا تجربہ کیا جو ناکام ہوگیا۔ اس لیے عثمان بزدار سے عوام کی توقعات ہیں کہ وہ صوبے کے تمام سرکاری سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کا معیار تعلیم بلند کرکے اور ٹیچرز و پروفیسرز کا انتخاب میرٹ پر کرکے ایسا  مساوی نظام تعلیم قائم کریں گے کہ لاکھوں والدین پرائیویٹ کے بجائے سرکاری اداروں میں بچّوں کو داخلہ دلوائیں گے۔ صوبے میں ہر ضلع میں کم از کم لڑکیوں اور لڑکوں کے ایک ایک نئے ڈگری کالج کا اضافہ کیا جائے اور نئی یونیورسٹیاں قائم کی جائیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے لیے ایک اور چیلنج صوبے میں پولیس کے نظام کو عوام دوست بنانا ہے۔ ماضی کی کئی حکومتیں اربوں روپے خرچ کرکے بھی تھانہ کلچر تبدیل نہ کرسکیں۔ شہباز دور میں کروڑ وں روپے خرچ کرکے پنجاب میں سو ماڈل تھانے بنائے گئے، لیکن تھانہ کلچر تبدیل نہ ہوسکا۔ شہباز شریف نے اربوں روپے کابجٹ مخصوص کرکے پنجاب پولیس کی تنخواہوں میں اضافہ کیا، تھانوں میں نئے رپورٹنگ روم بنائے گئے، گریجویٹ ایڈمن افسر لگائے گئے لیکن تھانوں میں جعلی ایف آئی آر درج کرنے اور بے گناہ شہریوں کو حبس بے جا میں رکھ کر تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعات ختم نہیں کیے جاسکے۔ تھانہ کلچر کی تبدیلی کے لیے اربوں روپے سے پنجاب میں مجاہد سکواڈ، شاہین فورس، جانباز فورس، پیرو فورس، ڈولفن سکواڈ، اینٹی کار و موٹر سائیکل لفٹنگ سکواڈ، اینٹی رائیڈز فورس سمیت کئی فورسز بنانے کے تجربات بھی ڈاکوؤں اور راہزنوں کے گروہوں کو قابو نہ کرسکے۔ صوبے میں اب بھی ہر ایک گھنٹے بعد قتل، ڈکیتی، راہزنی اور چوری کی کوئی نہ کوئی واردات ہورہی ہے۔
ماضی میں کسی حکمران نے پنجاب میں تھانہ کلچر کی تبدیلی کے لیے پولیس میں سیاسی مداخلت کو ختم کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ جب وزیراعلیٰ خود پنجاب  کے مختلف اضلاع میں ڈی پی اوز وغیرہ لگانے کے لیے ذاتی طور پر ان کے انٹرویو کرے گا تو وہ کیسے خودمختار ہوکر اپنے ماتحتوں کو احکامات دے سکیں گے۔ لاہور سمیت بڑے شہروں میں تو تھانوں میں لگے ایس ایچ اوز کے بارے میں بھی کئی افراد کو پتا ہوتا ہے کہ فلاں تھانے کا ایس ایچ او فلاں ایم این اے، ایم پی اے یا صوبائی وزیر کے کہنے پر لگایا گیا ہے۔ اس صورتحال میں مقدمات کا اندراج اور تفتیش خاک میرٹ پر ہوگی۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار پر عمران خان نے اعتماد کیا ہے تاکہ پنجاب کے عوام کو پتا چل سکے کہ پسماندہ علاقے کا ایک عام ایم پی اے بھی میرٹ اور شفافیت کو اپنی حکمرانی کا بنیادی اصول بنالے تو وہ صوبے کے عوام کے دلوں کی ترجمانی کرسکتا ہے۔ عثمان بزدار بھی اس کڑے امتحان میں کامیاب ہوسکتے ہیں، بشرط یہ کہ ان میں وہی جذبہ ہو جس کی وزیراعظم عمران خان ان سے توقع کررہے ہیں۔ انہوں نے ایسا نہ کیا تو بہت جلد صوبے میں قیادت کی تبدیلی کا شور پی ٹی آئی کے اپنے ہی حلقوں سے بلند ہوسکتا ہے۔