20 ستمبر 2018
تازہ ترین

وزیراعلیٰ اور آئی جی پنجاب سے پُرزور مطالبہ وزیراعلیٰ اور آئی جی پنجاب سے پُرزور مطالبہ

پاکستان میں انصاف کی جلد فراہمی بہت بڑا مسئلہ ہے تو دوسری جانب متعلقہ اداروں کے حکام بالا کی جانب سے انصاف کے طلب گاروں کے ساتھ عدم تعاون کے باعث ایک کے بعد ایک نیا سانحہ جنم لینے میں وقت نہیں لگتا۔ گزشتہ ہفتے ڈیرہ غازی خان کی مشہور سماجی و سیاسی شخصیت آسیہ اکبر کے قتل کے حوالے سے کالم تحریر کیا تھا۔ مقتولہ کو تین مہینے گزر جانے کے باوجود ابھی تک انصاف نہیں مل سکا۔ کالم کی اشاعت کے بعد پاکستان سمیت بیرون ملک سے بھی پیغامات اور فون پر آسیہ اکبر کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے کوشش و کالم لکھے جانے پر ’جہان پاکستان‘ کا شکریہ ادا کیا گیا۔ کالم کی اشاعت کے بعد آسیہ اکبر کے قتل کے حوالے سے مزید ایسے معاملات سامنے آئے جنہوں نے مجھے ہلا کر رکھ دیا۔ چونکہ معاملہ قتل کا ہے اور اس کی تفتیش پولیس کو غیر جانب دار ہو کر کرنی چاہیے، اس لیے راقم نے جو معاملات پیش کیے، وہ اس مقدمے سے وابستہ مدعی و دیگر افراد کا موقف ہے۔ راقم نے جس جس سے رابطہ کیا، ذاتی گفتگو کی، تاکہ پولیس کو قانون کے مطابق غیر جانبداری کے ساتھ تفتیش کرنے میں معاونت ملے۔
اس قتل کے محرکات میں سب سے بڑا محرک آسیہ اکبر کی چھوٹی بہن اقصیٰ اکبر ولد میاں غلام اکبر قوم بودلہ کے شوہر حافظ جنید ولد محمد صابر حسین قوم ساہول کے درمیان متنازع رشتے کا تھا۔ آسیہ اکبر کا بھائی بلال اکبر ولد غلام اکبر اپنی سگی بہن کے قتل کا چشم دید گواہ اور مدعی ہے۔ قتل کا مقدمہ نمبر 18/357 بجرم 302/34ت پ تھانہ کوٹ چھٹہ میں 19 جون 2018 کو درج ہے۔ راقم نے جب آسیہ اکبر کی لاپتا بہن اقصیٰ کی بازیابی و تحفظ کے حوالے سے کالم میں لکھا تو مجھے لاہور سے تعلق بتانے والے (ح ش) نے رابطہ کر کے بتایا کہ اقصیٰ خیریت سے ہے اور اپنی جان بچانے کے لیے نامعلوم مقام پر چھپی ہوئی ہے، لیکن اس کا اقصیٰ سے باقاعدہ رابطہ نہیں ہے۔ وہ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ آسیہ کے قاتلوں کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ مجھے (ح ش) نے بتایا کہ وہ طالب علم ہے۔ سوشل میڈیا کی وجہ سے آسیہ کو جانتا تھا اور اسی لیے مدد کرنا چاہتا ہے۔ تاہم جب میں نے اس سے اقصیٰ کا وائس مسیج اور فون نمبر مانگا تو اس کے بعد اس نے اپنا فون بند کر دیا اور واٹس ایپ پر بھی رابطہ نہیں کیا۔
اس حوالے سے سب سے اہم کردار مدعی محمد بلال ہے۔ میری اس سے فون پر بات ہوئی۔ خوف زدہ بلال نے ہوش رُبا انکشاف کیا کہ اس کی بہن کے قتل میں اس کی والدہ پروین بی بی شریک ہے۔ مدعی بلال نے پروین بی بی پر ایک اور سنگین الزام لگایا۔ مدعی بلال کے مطابق اس نے پولیس کے افسران بالا کو مؤرخہ 07 اگست 2018 کو باقاعدہ تحریری درخواست اور حلف نامہ جمع کرایا، جس کی کاپی مجھے بھی ارسال کی اور اُسے پڑھ کر میں شدید حیران ہو گیا۔ مدعی بلال نے اپنے بیان اور اسٹیمپ پیپر پر تحریری حلف نامے میں سجاد عرف بگا کا ذکر کرتے ہوئے الزام لگایا ہے ملزم کا بھائی اسے قتل کرنے کی دھمکی دے رہا اور زبردستی صلح پر مجبور کر رہا ہے۔ مقامی پولیس مدعی محمد بلال کے ساتھ تعاون نہیں کر رہی۔
مقتولہ آسیہ کی بہن اقصیٰ نے سینئر سول جج فیملی کورٹ رحیم یار خان میں 02اپریل2018 کو اپنے شوہر جنید ولد محمد صابر حسین کے خلاف خلع کا مقدمہ نمبر 351 شاہد ایڈووکیٹ کے توسط سے متذکرہ عدالت میں 
داخل کیا تھا۔ جس کی آئندہ پیشی کی تاریخ 22 مئی2018 مقرر کی گئی تھی۔ شاہد ایڈووکیٹ سے راقم نے مقدمے کی صورت حال کے حوالے سے تفصیلات حاصل کیں تو انہوں نے تصدیق کی یہ مقدمہ دائر تھا، لیکن مدعیہ اقصیٰ اپنی بہن آسیہ کے قتل کے بعد سے حاضر نہیں ہو سکی اور مدعیہ کی عدم پیروی کی بنا پر کیس خارج کر دیا گیا۔ مقتولہ آسیہ اکبر کے سابق شوہر سے بھی میرا رابطہ ہوا، اس نے اپنی خانگی زندگی خراب ہونے کا الزام مقتولہ آسیہ کی والدہ پر عائد کیا۔ سیف اللہ ارشد کے مطابق آسیہ اکبر نے اپنے قتل کی دھمکیوں کے حوالے سے16جون 2018 کو مدد طلب کی تھی۔ 18جون 2018 کو مقتولہ آسیہ نے سیف اللہ ارشد کو واٹس ایپ پر میسج بھی کیا کہ خوشی خان کے مکان میں اس کے گھر والے پہنچ گئے، میری مدد کرو، یہ لوگ مجھے مار دیں گے۔ گزشتہ کالم میں خوشی خان کا راقم نے ذکر کیا تھا کہ اس کے بھائی کے ماورائے عدالت قتل پر حصول انصاف کے لیے مقتولہ آسیہ نے اس کی مدد کی تھی۔ تاہم مدعی بلال سمیت کئی ذرائع اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ مقتولہ آسیہ کی پوشیدگی کا کسی کو بھی علم نہیں تھا، مبینہ طور پر خوشی خان نے مقتولہ آسیہ کی والدہ پروین سے پچاس ہزار روپے لے کر پناہ گاہ سے آگاہ کر دیا۔ میری خوشی خان سے بات ہوئی تو اس نے اس الزام سے انکار کیا لیکن اس نے مجھے بھی یہی بتایا کہ مقتولہ کے قتل کی سازش میں جہاں دیگر ملزمان ملوث ہیں وہاں مبینہ طور پر آسیہ کے والدین بھی ملوث ہیں، جنہوں نے اقصیٰ کے سسرال والوں کے ساتھ مل کر یہ سازش تیار کی اور صابر حسین نے آسیہ کو قتل کیا اور اب وہ اقصیٰ کو بھی قتل کرنا چاہتے ہیں۔ واٹس ایپ میسج کی کاپی بھی مدعی بلال نے DPOڈسٹرکٹ ڈیرہ غازی خان کو دی جانے والی اپنی درخواست کے ساتھ منسلک کی ہوئی ہے۔
یہاں یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ اقصیٰ کو اغوا نہیں کیا گیا، بلکہ وہ اپنی مرضی سے سسرال کو چھوڑ کر اپنی بہن کے ساتھ گئی تھی۔ لاہور کے علاقے علامہ اقبال ٹاؤن میں رہائش اختیار کر لی تھی۔ مؤرخہ 12جون کو علاقہ مجسٹریٹ کے روبرو زیر دفعہ164 کے تحت بیان حلفی میں اقصیٰ نے تحریری بیان جمع کرایا کہ وہ کوٹ چھٹہ سے اغوا نہیں کی گئی، آسیہ اکبر ودیگرکے خلاف مقدمہ نمبر 313/2018 بجرم 496/A تھانہ کوٹ چھٹہ میں درج مقدمہ جھوٹا ہے۔ راقم کو اس بیان حلفی کی کاپی بھی بطور ثبوت ارسال کی گئی کہ اقصیٰ کے مطابق اس کے سسرالیوں نے اپنے گھر سے اُسے نکالا تھا۔ اس کی سگی بہن اس کو اغوا کیوں کر سکتی ہے۔ 
اس معاملے کا حاصل وصول یہ ہے کہ مدعی کو اپنی بہن مقتولہ آسیہ کی قتل کی سازش میں ملوث ہر اُس شخص کو شامل تفتیش کرانے کا قانونی حق ہے، جس سے اُسے انصاف فراہم ہو سکے۔ راقم نے پروین بی بی سے بھی رابطے کی کوشش کی لیکن اس کا فون نمبر مسلسل بند جا رہا ہے۔ کسی خاتون رشتے دار نے اپنے ایک میسج میں خود کو مقتولہ آسیہ کی آنٹی ظاہر کیا، لیکن اس کے بعد دوبارہ رابطہ نہیں کیا۔ مقتولہ کے والدین پروین بی بی اور میاں اکبر نے ملزمان کے ساتھ صلح (مدعی کے مطابق 80لاکھ روپے) دیت لے کر مقامی عدالت میں کیس خارج کرنے کی استدعا کی ہے۔ 5 ستمبر کو مقدمے کی سماعت تھی، لیکن مقدمے کا اصل مدعی صلح نہیں، بلکہ انصاف چاہتا ہے۔ مدعی کے مطابق آسیہ کے قتل میں شریک اس کے والدین کو اس لیے شامل تفتیش اور گرفتار نہیں کیا جا رہا، کیونکہ اس طرح وہ مقدمے کو خارج کرانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
مدعی محمد بلال نے پولیس کے اعلیٰ حکام کو درخواست صلح سے قبل پروین بی بی و دیگر کو شامل تفتیش کرنے کے لیے درخواست دی تھی لیکن ابھی تک اس پر کوئی عمل درآمد نہیں کیا جا رہا اور مقامی پولیس تعاون نہیں کر رہی۔ اب 12ستمبر کو ورثا کی فہرست مقامی عدالت نے طلب کی ہے۔ اگر انصاف کی فراہمی میں اسی طرح سست روی کا مظاہرہ کیا جاتا رہا تو عوام کا اعتماد قانون و اداروں سے اٹھ جائے گا۔ قانون کے مطابق مدعی بلال کو انصاف فراہم کیا جائے۔ اقصیٰ کو تحفظ دیا جائے، کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ اسے بھی غیرت کے نام پر اپنی بہن کی طرح قتل کر دیا جائے گا اور صلح کے نام پر پیسوں کے بدلے معاملہ دفن کر دیا جائے گا۔ مدعی بلال نے انصاف و تحفظ فراہم کرنے کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب و پولیس کے اعلیٰ حکام سے پُرزور اپیل کی ہے۔ حکام بالا کو کسی نئے سانحے سے قبل سنجیدگی کے ساتھ اس اہم معاملے کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔ غیرت کے نام پر قتل کے ایسے واقعات پر خاموشی دراصل انصاف کا بھی قتل ہوتا ہے۔