19 جنوری 2019
تازہ ترین

وزیراعظم کے کامیاب دورے وزیراعظم کے کامیاب دورے

وزیراعظم عمران خان کے بیرون ممالک کے کامیاب دوروں کے نتیجے میں ناصرف پاکستان کا عالمی تشخص بحال ہورہا ہے، بلکہ قومی معیشت کے استحکام کی کاوشیں بھی کارگر ثابت ہورہی ہیں، آزمائش کے ہرمعیار پر پورے اترنے والے عوامی جمہوریہ چین، برادر اسلامی ممالک سعودی عرب، ملائیشیا، قطر، ترکی، متحدہ عرب امارات کے دوروں کے دوران جہاں دو طرفہ تجارتی تعاون، صنعتی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور باہمی تعلقات کو مزید بڑھانے اور پاکستانی کی افرادی قوت کو ملازمتوں کے مواقع حاصل ہونے اور تاجروں و صنعت کاروں کے لیے باہمی تجارت کے نئے مواقع پیداہونے کے ساتھ ان ملکوں سے تعلقات کو مستحکم کرنے کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ 
وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں تحریک انصاف حکومت نے قومی سلامتی کے تحفظ کے عزم کے ساتھ ملک کو درپیش اقتصادی چیلنجز سے نجات دلانے کے لیے پہلے ایک سو دنوں اور ان کے بعد جو کامیابیاں حاصل کیں، اپنی مثال آپ ہیں، جس طرح عمران خان نے انتخابات سے قبل اعلانیہ واضح کیا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے انہیں عوامی خدمت کا موقع دیا تو وہ ملک کی دولت لوٹنے اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کو ہرگز معاف نہیں کریں گے اور ان کے خلاف قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ قوم سے کیے اپنے اس وعدے کی تکمیل کے لیے وزیراعظم شروع دن سے کوشاں ہیں اور سابق حکمرانوں کو عدالتوں سے ملنے والی سزاؤں اور قومی اداروں کی طرف سے کرپٹ عناصر کے خلاف کارروائی سے ثابت ہوگیا کہ حکومت کسی سیاسی مصلحت کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے قومی مفاد کو اولیت دیتے ہوئے ملک و قوم کے خوشحال مستقبل کے لیے کوشاں ہے اور وزیراعظم عمران خان کا قائدانہ کردار قابل فخر ہے، جنہوں نے اپنے غیر ملکی دوروں کے دوران ملک کی ترقی اور معاشی استحکام کو مقدم رکھتے ہوئے عالمی رہنماؤں کو اپنی حکومت کی ترجیحات سے آگاہ کیا اور باور کرایا کہ کرپشن کے خاتمے کے لیے ان کا آہنی عزم کبھی متزلزل نہیں ہوگا اور قومی اداروںکو نقصان پہنچانے والوں کو اپنے کیے کا جواب دہ ہونا ہوگا۔ 
ملک کے معاشی حالات کو دیکھتے ہوئے یہ امر ناگزیر تھا کہ سب سے پہلے اقتصادی حالات کی بہتری کی طرف قدم اٹھایا جائے، اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے قوم پر واضح کیا تھا کہ آسان حل یہ ہے سابقہ حکومتوں کی طرح آئی ایم ایف سے رجوع کیا جائے اور قرضہ حاصل کرکے معاملات چلائے جائیں، لیکن دوسرا حل یہ ہے کہ اخراجات میں ممکن حد تک کمی کرکے مشکل حالات میں دوست ممالک کا تعاون حاصل کیا جائے، اس سلسلے میں انہوں نے بیرونی دورے کیے اور معاشی و اقتصادی حالات کی بہتری کے لیے تعاون طلب کیا اور اپنی حکومت کی ترجیحات اور کرپشن کے خاتمے کے خلاف عزم کا اعادہ کرتے ہوئے یہ بتایا کہ اب کسی عالمی معاہدے یا معاشی امداد میں کوئی ذاتی مفاد، ذاتی کاروباری فوائد، کک بیکس یا کمیشن شامل نہیں اور جو کچھ بھی حاصل ہوگا، وہ پاکستان کی تعمیر و ترقی پر صَرف ہوگا۔ اس کا براہ راست فائدہ ملک و قوم کو حاصل ہوگا۔ 
اس یقین دہانی اور پی ٹی آئی حکومت کی شفافیت اور موجودہ قیادت کے جذبے کو دیکھتے ہوئے دوست ممالک نے دیدہ و دل فرش راہ کیے اور پاکستان کو اقتصادی بحران سے نکالنے کے لیے تعاون کا ناصرف یقین دلایا، بلکہ عملی مظاہرہ بھی کیا، متحدہ عرب امارات کے ولی عہد کے دورۂ پاکستان کے موقع پر انہوں نے پاکستان سے بھرپور تعاون جاری رکھنے اور باہمی تجارت کے فروغ کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ ترکی اور پاکستان دونوں محبت اور اخوت کے گہرے رشتوں میں بندھے ہیں اور دونوں ملکوں کے مابین ہر آنے والے وقت میں یہ تعلقات مضبوط تر ہوں گے۔ اس سے قبل وزیراعظم نے جب دوست ممالک کے دورے کیے تو ان کا کس طرح پُرتپاک استقبال کیا گیا اور انہیں عزت و تکریم حاصل ہوئی، یہ دیکھ کر مخالفین بھی انگشت بدنداں رہ گئے۔ یہ کہا جارہا تھا کہ ترکی تو سابق حکمرانوں کا دوست ہے، لیکن ترک صدر اور اسلامی دنیا کے عظیم رہنما طیب اردوان نے جس محبت اور اخوت کے جذبے کے ساتھ وزیراعظم عمران خان کا خیرمقدم کیا، اپنے خیالات کے اظہار کے دوران جس طرح ان کے لیے نیک کلمات کہے، پاکستان کے لیے عمران خان کی کوششوں کی تعریف کی، اس سے ثابت ہوگیا کہ ملکوں اور حکومتوں کے باہمی تعلقات کسی فرد واحد کے مرہون منت نہیں ہوتے، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان اسلامی دنیا کی پہلی ایٹمی قوت ہے اور خطے میں ایسے جغرافیائی مقام پر واقع ہے، جس کی اہمیت کو کوئی نظرانداز نہیں کرسکتا۔ اسی لیے دنیا کی نظریں اس وقت پاکستان پر ہیں اور یہاں تک امریکی صدر ٹرمپ نے بھی افغانستان کے مسئلے پر پاکستان سے مدد کی درخواست کی ہے۔ دنیا پاکستان کی موجودہ قیادت پر اعتماد کرتے ہوئے اسے کس قدر اہمیت دے رہی ہے، اس کا اندازہ وزیراعظم عمران خان کے حالیہ بیرونی دوروں میں ان کی پذیرائی سے کیا جاسکتا ہے۔ ان دوروں کے دوران اوورسیز پاکستانیوں، سرمایہ کاری اور تجارتی شخصیات سے بھی ملاقاتیں ہوئیں اور بزنس فورمز سے خطاب کرکے اس امر کی یقین دہانی کرائی کہ پاکستان اس وقت سرمایہ کاری کے لیے محفوظ ترین ملک ہے، جہاں بدعنوانی کے نام پر کسی سے لوٹ مار کی کوئی جرأت نہیں کرسکتا، امن و امان کی صورت حال ماضی کے مقابلے میں بہت بہتر ہے اور افواج پاکستان کی شبانہ روز کاوشوں سے دہشت گردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی گئی ہے، ان حالات میں سرمایہ کار خوشی سے پاکستان کا رخ کرسکتے ہیں اور اس سے ملک میں روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ 
وزیراعظم پاکستان اور ان کے وفد کے غیر ملکی دوروں کو چاہے جس رخ سے دیکھا جائے، ان کے ہمہ جہت مثبت پہلو نمایاں نظر آتے ہیں اور مستقبل قریب میں قوی امید ہے کہ باہمی تجارت اور مالی تعاون سے ان شاء اللہ ملکی معیشت مضبوط بنیادوں پر استوار ہوگی۔ قومی معیشت کا پہیہ حرکت میں آگیا ہے، اداروں کا اعتماد بحال ہوا ہے اور اقتصادی حالات میں مسلسل بہتری آرہی ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے بیرون ممالک کے دوروں سے بھی بہتری ممکن ہوئی ہے، عالمی امور کے بارے میں پاکستان کے موقف کو بہتر اور مثبت انداز میں سمجھا جارہا ہے اور باہمی تجارتی روابط میں بھی تیزی آرہی ہے۔ ان شاء اللہ وہ دن دُور نہیں جب پاکستان کی معیشت تیزی سے ٹیک آف کرے گی اور برآمدات کے فروغ اور سرمایہ کاری سے وطن عزیز ترقی اور خوش حالی کی منزل سے ہمکنار ہوگا۔