وزراتِ اعلیٰ کا ہما کس کے سر بیٹھے گا؟ وزراتِ اعلیٰ کا ہما کس کے سر بیٹھے گا؟


ملکی سیاست میں میاں صاحب کے نااہل ہونے کے بعد ہلچل مچی ہوئی ہے جنہوں نے کبھی خواب میں بھی وزارتِ عظمیٰ نہیں دیکھی تھی وہ بھی وزارت عظمیٰ کے امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں بلکہ کچھ نے تو وزارت عظمیٰ کے لئے کاغذات بھی جمع کرا دیے تھے۔ اس عمل کا مقصد یہ ہو سکتا ہے کہ وہ ساری زندگی یہ کہہ یا وزٹنگ کارڈ پر لکھ سکیں ’’سابق امیدوار برائے وزارتِ عظمیٰ‘‘۔ اس سے لطیفہ یادآ گیا ’ایک صاحب تھے جو اپنے ہر ایک دوست یا ملنے والے سے کہتے پھرتے تھے کہ لوگوں نے میرا لاکھوں روپیہ دینا ہے مگر نہیں دیتے دوست آگے سے پوچھتے تم کام دھندہ تو کوئی کرتے نہیں پھر لوگ تمہارے ’’قرض دار‘‘ کیسے ہو گئے؟ اس پر اس نے اسی پوچھنے والے دوست سے کہا یار ایک سو روپیہ تو دینا جس پر وہ کہتا ہے میرے پاس تو نہیں ہے اس کا فوراً جواب آتا ہے دیکھا میں نہ کہتا تھا کہ لوگوں نے میرا لاکھوں روپیہ دینا ہے جب مانگو تو دیتے ہی نہیں۔۔۔ ایسا ہی حال کچھ وزارتِ عظمیٰ کے امیدواروں کا ہے جن میں شیخ رشید بھی شامل ہو گئے ہیں، جن کے بارے عمران خاں نے کہا تھا کہ میں تو اسے چپڑاسی بھی نہ رکھوں جو چپڑاسی کے عہدے پر بقول عمراں خان پورا نہیں اترتا تھا آج ان کا وزارتِ اعظمی کا امیدوار ہے۔ کسی نے ایسے ہی نہیں کہا تھا لفط آپ کا مرنے کے بعد بھی پیچھا کرتے ہیں۔ اس لئے زندگی میں ایسا بولو جس سے پچھتاوا نہ ہو لیکن پاکستانی سیاسی ڈکشنری میں شاید ندامت پچھتاوا اور معافی جیسے الفاظ ہی نہیں ہیں۔
دوسری جانب اس وقت ملک میں جو سیاسی کلچر ایک ’’ابھرتی ہوئی‘‘ سیاسی جماعت نے کچھ عرصہ سے پروان چڑھایا ہے یہی کلچر ایک دن اس کے اپنے لیڈروں کے گلے پڑے گا کہ دنیا دیکھے گی ’بدتمیزی اور بد تہذیبی کو مہذب معاشروں میں کوئی جگہ نہیں ملتی اور اس کی عمر بھی کم ہوتی ہے لیکن جتنا عرصہ یہ کلچر رہے معاشرے کے تار پور بکھیر کر رکھ دیتا ہے جیسا کہ اس وقت حال ہے ملک کا کوئی ادارہ، جماعت یا شخص اس کلچر کو فروغ دینے والی جماعت کے افراد کے علاوہ پارسا صادق و امین اور نیک نہیں رہا۔ اپنے اپنے مخالفوں کی نفرت نے ہمیں انسانیت کے درجے سے بھی گرا دیا ہے اخلاقیات کا جنازہ اٹھ چکا ہے بس دفن کرنا باقی ہے۔
بات سیاسی ہلچل سے شروع ہوئی تھی اور چلی کہیں اور گئی اس وقت صرف مسلم لیگ ہی امتحان سے دوچار نہیں باقی سیاسی جماعتیں بھی پریشان دکھائی دیتی ہیں لیکن مخالفت برائے مخالفت انہیں کسی ایک نقطہ اشتراک پر اکٹھا نہیں ہونے دیتیں ورنہ میاں صاحب کو جس طرح باہر نکالا گیا ہے اس پر خوش ہونے کا نہیں بلکہ ماتم کرنے کا مقام ہے۔ سیاسی جماعتوں کو یہ بات یاد رکھنا ہو گی کہ آج یہ فیصلہ نواز شریف کے خلاف آیا ہے، کل عمران خان اور جہانگیر ترین یا کوئی دوسرا اس کی زد میں آ سکتا ہے۔ نواز شریف سے اتفاق یا اختلاف سے قطع نظر ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں کو یہ طے کرنا ہے کہ وہ اختیار اور اقتدار کا مرکز پارلیمنٹ کو رکھنا چاہتی ہیں یا درپردہ ڈوریاں ہلانے والوں کو یہ اختیار دینا چاہتی ہیں کہ وہ پارلیمنٹ سے بالا بالا سیاستدانوں کے علاوہ ملک کی تقدیر کے فیصلے کریں۔
دوسری جانب اب میاں صاحب کی سیاسی بصیرت کا امتحان شروع ہوا ہے کہ وہ پی پی پی کی طرح اس سیاسی امتحان میں پورا اتر پائیں گے یا ’’جبر‘‘ کے آگے جھک جائیں گے آئندہ چند ماہ میں ان کی بصیرت کا پتا چل جائے گا کہ یہ اپنی بصیرت سے اپنی جماعت کو کتنا مضبوط اور عوام میں مقبول بناتے ہیں۔ میاں برادران اگر اس انتہائی مشکل وقت میں پارٹی کو اکٹھا رکھنے میں کامیاب ہوئے اور عبوری وزیراعظم سے بہتر طریقے سے کام لے سکے اور بعد ازاں شہباز شریف نے وزیراعظم کی خالی ہونے والی نشست سے الیکشن لڑ کر حکومت سنبھال لی تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ سب کچھ ختم نہیں ہوا ہے بلکہ ایک نئی توانائی اور عزم کے ساتھ آگے بڑھنے کا مزید موقع مل جائے گا۔ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ پنجاب میں شہباز شریف کا جانشین کیسے معاملات کو چلائے گا اور کیا اس کی انتظامی مشینری پر گرفت ویسی ہی مضبوط ہو گی جیسی کہ شہباز شریف کی تھی۔ یہ وہ سوالات ہیں جن کی روشنی میں آئندہ الیکشن میں اس اہم صوبے کی قسمت کا فیصلہ ہو گا اگر پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) جیسی جماعتیں مسلم لیگ (ن) کے اراکین اسمبلی کو توڑنے میں کامیاب ہو گئیں تو حالات بالکل مختلف ہو جائیں گے۔
ن لیگ نے اپنی حکمت عملی وضع کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو وزیراعظم بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ لاہور میں نوازشریف کی خالی کردہ نشست حلقہ ایک سو بیس سے الیکشن لڑ کر قومی اسمبلی میں پہنچیں گے۔ لیکن یہ سوال ہنوز جواب طلب ہے کہ شہباز شریف کے بعد پنجاب کا وزیراعلیٰ کون ہو گا؟ قیاس آرائیوں کے مطابق حمزہ شہباز کا نام سامنے آ رہا ہے لیکن پارٹی میں ابھی تک اس ضمن میں کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا۔ ہم سمجھتے ہیں مسلم لیگ ن کو پنجاب کے وزیر اعلیٰ کا چناؤ کرتے وقت اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ وہ ایسے شخص کا چناؤ کرے جو پنجاب پر پارٹی کی گرفت کمزور نہ ہونے دے جس میں قائدانہ صلاحیت کے ساتھ سب کو ساتھ لے کر چلنے کا ہنر بھی آتا ہو۔ ملکی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگاروں کا بھی یہ کہنا ہے کہ ان حاالات میں آئندہ الیکشن کے قریب سیاسی اعتبار سے کسی کمزور شخصیت کو وزارت اعلیٰ سونپنے کا خطرہ مول نہیں لیا جانا چاہے۔ شاید یہ بات درست ہو کہ شہباز شریف اپنے صاحبزادے حمزہ کو وزیراعلیٰ بنانا چاہتے ہوں جن کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ ان کے ’’نائب‘‘ ہیں۔ وہ اپنے بیٹے کو اعلیٰ حکومتی عہدے سنبھالنے کی تربیت بھی دینا چاہتے ہیں جو الیکشن سے قبل پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے ذریعے انہیں بآسانی حاصل ہو سکتی ہے۔ لیکن ایسا کرنے سے ہو سکتا ہے اس عمل سے ایک طرف مخالفین ان پر اقربا پروری کا الزام لگا سکتے ہیں تو دوسری جانب پارٹی میں بھی اچھا تاثر پیدا نہیں ہو گا۔
 بادیٔ النظر میں وزارتِ اعلیٰ چھوڑنے کے بعد بھی پنجاب کے معاملات کی نگرانی شہباز شریف ہی کریں گے جبکہ نوازشریف رائیونڈ میں بیٹھ کر مرکز کو دیکھیں گے۔ آن لائن ویب کے تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر حمزہ شہباز بقیہ مدت کے لیے پنجاب کے وزیراعلیٰ بنائے جاتے ہیں تو غالب امکان یہی ہے کہ 2018 کے الیکشن کے بعد بھی حمزہ ہی وزیراعلیٰ بنیں گے۔ کہا جا رہا ہے کہ حمزہ کو وزیراعلیٰ بنانے کا فیصلہ ہوا تو وہ قومی اسمبلی کی سیٹ سے مستعفی ہو کر رائے ونڈ میں اپنے والد کی خالی کردہ نشست سے صوبائی اسمبلی کا انتخاب لڑیں گے۔ اس سے قبل ڈیڑھ ماہ کے لیے عبوری وزیراعلیٰ کا انتخاب عمل میں آئے گا جس کے لیے راجہ اشفاق سرور، میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان، رانا ثناء اللہ اور بلال یاسین کے نام زیر غور ہیں۔ وزارتِ اعلیٰ حمزہ شہباز کو نہ ملی تو ان چاروں میں سے کوئی ایک یہ عہدے لے سکتا ہے۔ شہباز شریف صوبائی وزیر قانون رانا ثناء اللہ پر بھرپور اعتماد کرتے ہیں اور دونوں میں بہترین ورکنگ ریلیشن شپ ہے۔ صوبائی وزیر ایکسائز و ٹیکسیشن مجتبیٰ شجاع الرحمان کا تعلق لاہور کی بااثر ارائیں برادری سے ہے۔ ان کے والد میاں شجاع الرحمان لاہور کے لارڈ میئر رہ چکے ہیں اور اس خاندان کے شریف فیملی سے دیرینہ مراسم ہیں۔ صوبائی وزیر خوراک بلال یاسین کلثوم نواز کے قریبی رشتہ دار ہیں اور اسی بنا پر وہ اس عہدے کے لیے
 عمدہ انتخاب ہو سکتے ہیں۔ آخری نام راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیر محنت و افرادی قوت راجہ اشفاق سرور کا ہے جو نوازشریف کے دیرینہ ساتھی اور مسلم لیگ (ن) پنجاب کے سیکرٹری جنرل ہیں۔ شریف برادران راجہ اشفاق سرور پر بے حد اعتماد کرتے ہیں چنانچہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے ان کا انتخاب بھی ممکن ہے۔ مسلم لیگ کے لئے اصل امتحان تو اب شروع ہوا ہے جس میں سرخرو ہونے میں ہی بقا ہے۔