18 نومبر 2018
تازہ ترین

ن لیگ کو بلدیاتی نظام کا خوف ن لیگ کو بلدیاتی نظام کا خوف

ایک آدھ کو چھوڑ کر اپنے ہی ہم خیال میڈیا پرسنز کے ساتھ ملاقات کے دوران ایک موقع پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جو حالات ہمیں آج درپیش ہیں، اس کے لیے ہم تیار نہیں تھے۔ فرینڈلی میٹنگ میں بھی بعض دوستوں نے اپنی اہمیت بنائے رکھنے کی خاطر سوالات کی بوچھاڑ تابڑ توڑ حملوں کے انداز میں کی۔ وزیراعظم کو سوچ کر جواب دینا پڑے۔ اگر کسی مرحلے پر غصہ آیا بھی تو پی جانا پڑا کیونکہ وہ اچھی طرح سے جانتے تھے کہ اسی میں بہتری ہے۔ یہ کہنا کہ وزیراعظم حکومت کرنے کیلئے اس انداز میں تیار نہیں تھے جس طرح ہونا چاہیے تھا، زیادہ درست نہیں لگتا۔ 2014ء کے دھرنوں کے بعد قومی منظر نامے پر مسلسل پیش آنے والے واقعات کے بعد بہت واضح ہو گیا تھا کہ اب آگے کیا ہونے والا ہے۔ 2018ء کے عام انتخابات سے قبل حکمران جماعت ن لیگ کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ اس بات کا اعلان تھا کہ اقتدار کے دن گزر چکے۔ سینیٹ الیکشن کے موقع پر بلوچستان میں راتوں رات کی جانے والی کارروائی کے بعد کوئی راز باقی نہیں رہ گیا تھا۔ سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے افراد کو اس بات کا بھی بخوبی اندازہ ہو گیا تھا کہ ن لیگ کو وفاق سے ہی نہیں پنجاب سے بھی رخصت کیا جائیگا۔ بالآخر ایسا ہی ہوا۔ اس تمام صورت حال میں سیاسی طور پر تمام تر فائدہ تحریک انصاف نے ہی اٹھانا تھا۔
2014ء کے دھرنوں سے بھی بہت پہلے بنائے جانے والے منصوبے پر عملدرآمد کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ تاثر یہی ہے کہ یہ بہت پہلے ہی طے کر لیا گیا تھا کہ سیاست، معیشت اور میڈیا کے شعبوں میں معاملات کو کس طرح سے آگے بڑھایا جائے۔ پی ٹی آئی کی حکومت بے شک نئی نویلی ہے لیکن اسے جو گائیڈ لائنز فراہم کی جا رہی ہیں، وہ شاید کافی پہلے تیار کر لی گئی تھیں۔ وفاق اور پنجاب سے ن لیگ کے اقتدار کا صفایا کرنے کے بعد اب پارٹی کا سائز کم کرنا اہم ٹارگٹ ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف اپنی جانشین صاحبزادی مریم سمیت قیدی بن چکے۔ شہباز شریف کے متعلق بھی ایسی ہی اطلاعات ہیں کہ کسی این آر او نہ ہونے کی صورت میں وہ بھی جلد ہی دھر لیے جائیں گے۔ اس دوران ضروری ہے کہ خصوصاً پنجاب میں پی ٹی آئی کا کلہ مضبوط بنایا جائے۔
اس سے بھی کہیں زیادہ ضروری یہ ہے کہ ن لیگ کی صفوں کو تتربتر کیا جائے۔ نئی حکومت قائم ہونے کے اعلان کی ابھی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی کہ پنجاب میں نیا بلدیاتی نظام لانے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ یہ بات بھی نوٹ کی جانی چاہیے کہ صوبے میں بلدیات کا قلمدان سینئر وزیر علیم خان کو سونپا گیا، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بعض دیگر پارٹی رہنماؤں کی طرح اسی بااختیار کمیٹی میں شامل ہیں جو باہمی مشورے سے صوبے کو چلائے گی۔ علیم خان اس سے پہلے وزارت اعلیٰ کیلئے خود سب سے مضبوط امیدوار تھے مگر بعض ’’تکنیکی‘‘ معاملات اور اپنی ہی پارٹی کے دوست آڑے آ گئے۔ خیر اب بھی ان کا مقام ڈی فیکٹو وزیراعلیٰ سے کم نہیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت بنتے ہی نئے بلدیاتی نظام کا اعلان خود اس امر کی نشاندہی کر رہا ہے کہ اس حوالے سے منصوبہ بہت پہلے ہی تیار کر لیا گیا تھا۔ بلدیاتی اداروں کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا، دلچسپ بات لیکن یہ ہے کہ یہ 
ادارے ہر مارشل لاء دور میں فوجی آمروں کیلئے سہارا بنتے رہے۔ جنرل ایوب، جنرل ضیاء الحق اور جنرل 
مشرف نے بااختیار بلدیاتی ادارے بنائے، خوب فنڈز وغیرہ بھی دیے، ان سب کاموں کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ مقامی حکومتوں کے ذریعے عام آدمی کے مسائل حل کرانے والے منتخب نمائندے ان کی غیر آئینی حکومتوں کی نیک نامی کا سبب بنیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ متحرک سیاسی کارکنوں کی ایک بہت بڑی تعداد کو بھی سیاسی طور پر انگیج کر کے اپنے ساتھ ملا لیا جاتا تھا، اس کے برعکس سیاسی حکومتوں نے بلدیاتی اداروں کو یکسر اہمیت نہیں دی، اگر ان ادوار میں بلدیاتی انتخابات کرائے بھی گئے تو منتخب نمائندوں کو ہرگز کوئی اہمیت نہیں دی گئی۔ مسلم لیگ(ن) کے پچھلے دور حکومت میں تو بلدیاتی ادارے باقاعدہ ’’رُل‘‘ کر رہ گئے، الیکشن ہوئے تو اداروں کی باڈیز مکمل کرنے میں سال سے بھی زائد کا عرصہ لگا دیا گیا۔ مسلم لیگ(ن) نے پنجاب میں بلدیاتی انتخابات میں کلین سویپ کرنے کے بعد اپنی ہی 
جماعت کے متحرک سیاسی کارکنوں کو بُری طرح سے نظر انداز کیا، اگر یہ کہا جائے کہ دھتکار ڈالا تو غلط نہ ہو گا۔
پنجاب کے دور دراز کے علاقے تو دور کی بات لاہور جیسے بڑے شہر میں اپنی ہی پارٹی کے منتخب نمائندوں سے اتنا بُرا سلوک کیا گیا کہ وہ احتجاجی مظاہرے کرنے پر مجبور ہو گئے۔ سیاسی مبصرین حیرت زدہ تھے، کئی ایک نے تو مختلف چینلوں پر بیٹھ کر یا اپنی تحریروں کے ذریعے حکومت وقت کو باور کرانے کی کوشش کی کہ بلدیاتی نمائندوں کو بااختیار بنائیں۔ ان کے ذریعے نچلی سطح پر ترقیاتی کام کرائیں، یہ نا صرف عوامی مسائل کو جلد حل کر دیں گے بلکہ پارٹی کی مقبولیت کا بھی سبب بنیں گے۔ پارٹی کی مقامی سطح پر تنظیم سازی میں بھی ان کا کردار سب سے زیادہ اہم ہو گا، بُرا وقت آنے پر یہی سرمایہ کاری  پارٹی کے لیے شرطیہ اثاثہ ثابت ہو گی۔ سچ تو یہ ہے کہ ہوا کے گھوڑے پر سوار ن لیگ کی حکومت نے منتخب بلدیاتی نمائندوں کو تو کیا کئی ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کو بھی بالکل لفٹ نہیں کرائی۔ آج پارٹی پر بُرا وقت ہے تو حریف جماعت نے بالکل صحیح حکمت عملی کے تحت موجودہ بلدیاتی ادارے ختم کر کے نئے لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ پنجاب میں بلدیاتی الیکشن نومبر میں کرانے کا منصوبہ ہے، جیتے گا کون؟ شاید یہ بتانے کی ضرورت ہی نہیں۔ ان بلدیاتی انتخابات کے ذریعے پی ٹی آئی نا صرف اپنے کارکنوں اور حامیوں کو اکاموڈیٹ کرے گی بلکہ ن لیگ سے لوٹے بھی کھینچ لائے گی۔ بحران کا شکار سابق حکمران جماعت اپنی موجودہ قیادت کی کوئی سمت طے نہ ہونے پر پہلے ہی ایسی کشتی کی طرح تیر رہی ہے جس کا کوئی ملاح نہ ہو، منصوبہ سازوں نے ن لیگ کو کٹ ٹو سائز کرنے کے لیے جو پلان تیار کیا ہے ان حالات میں بالکل موزوں ہے۔ بااختیار بلدیاتی اداروں سے لوگوں کے مسائل مقامی سطح پر حل ہوں گے تو صوبے پر پی ٹی آئی کی گرفت تیزی سے مضبوط ہونا شروع ہو جائے گی، ن لیگ کی چھاپ بھی اسی تیزی سے اترنا شروع ہو جائے گی۔
اس امر میں شک کی گنجائش بہت کم ہے کہ موجودہ حکومتی سیٹ اپ کو مقتدر حلقوں اور اداروں کی بھرپور حمایت حاصل ہے، کہنے والے تو یہاں تک کہتے ہیں کہ یہ حکومت ریاستی اداروں کا ہی ایک چہرہ ہے۔ ریاست کی تمام اہم پالیسیوں پر مشاورت ہو گی مگر حتمی فیصلہ ادارے خود ہی کریں گے، سول حکمرانوں کو محض اس کا اعلان کرنا ہو گا، عمل درآمد کی ذمہ داری اداروں کے سر ہو گی۔ خارجہ امور، داخلہ پالیسی، خزانہ کیسے بھرنا ہے اور ایسے ہی دیگر تمام معاملات پر گائیڈ لائنز پہلے ہی سے تیار ہیں، سول حکومت کے پاس اپنے کرنے کا یہی کام ہے کہ دستیاب فنڈز کو سوشل ویلفیئر کے کاموں پر صرف کرے۔ بلدیاتی ادارے ہی اصل ادارے ہیں جو موجودہ حکومتی سیٹ اپ کی عوام میں پذیرائی کا موجب بن سکتے ہیں۔ مکرر عرض ہے کہ حکمرانوں کے پاس بھی کرنے کے لیے اب یہی ایک کام ہے، بہر طور جو بھی ہو، عوام کو ریلیف ملنا چاہیے۔
اس تمام صورت حال کو بھانپ کر ن لیگ بہت پریشان اور خائف نظر آ رہی ہے۔ سابق وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ ہم موجودہ بلدیاتی اداروں کے خلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ بندہ پوچھے آپ نے اقتدار میں رہ کر اپنی حکومت بچا لی تھی کیا؟ تو پھر بلدیاتی اداروں کا دفاع کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ مسلم لیگ(ن) جب تک پارٹی پالیسی واضح نہیں کرتی لیڈروں اور پارٹی کو مزید دھچکوں کے لیے تیار رہنا ہو گا۔