26 ستمبر 2018
تازہ ترین

نیا پاکستان اور ایک پرانی کہانی نیا پاکستان اور ایک پرانی کہانی

 موجودہ حکومت کے قیام سے پہلے سے یہاں نیا پاکستان بنانے کی باتیں جاری ہیں۔ نئے پاکستان کا کھینچا گیا خاکہ انتہائی ہوشربا اور من موہ لینے والاہے۔ اس خاکے کی مکمل تصویر کشی کے لیے ابھی یہاں بہت کچھ شروع کیا جانا باقی ہے۔ جو کچھ شروع کیا جانا باقی ہے، اس کے شروع ہونے کا انتظار انتہائی تجسس سے کیا جا رہا ہے۔ یہ تجسس جس قسم کے عملی اقدامات سے ختم ہو سکتا ہے ان کے شروع ہونے یا نہ ہونے کے متعلق تو ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا، مگر تبدیلی کے دعویداروں نے اپنے تئیںجو کچھ شروع کیا ہے اس کے ذکر سے بات آگے بڑھائی جا سکتی ہے۔ نیا پاکستان بنانے کا آغاز وزیر اعظم ہاؤس کے زیر استعمال گاڑیوں کی تعداد میں کمی کے اعلان سے کر دیا گیا ہے۔ پاکستان میں اعلیٰ عہدیداروں کے زیر استعمال رہنے والی گاڑیوں کی اپنی ایک تاریخ ہے۔ اگر یادگار بنا دی گئی قائد اعظم کی گاڑیوں سے لیکر وزیر اعظم ہاؤس کی موجودہ گاڑیوں تک کی تفصیل مرتب کی جائے تو اچھی خاصی کتاب تیار کی جا سکتی ہے۔ سرکاری گاڑی، چاہے وزیر اعظم کے زیر استعمال ہو یا عام افسر کے، عام طور پر اس کا بے جا استعمال ہر جگہ کیا جاتا ہے۔ اس طرح کے بے جا استعمال کی مثال کے طور پر یہاں 1960ء کی دہائی میں ایک سرکاری افسر کے زیر استعمال رہنے والی گاڑی کی پرانی کہانی بیان کی جا رہی ہے۔ 
زیر تذکرہ گاڑی، تعمیراتی محکمہ میں کام کرنے والے ایک افسر کو کار سرکار کی احسن طریقہ سے ادائیگی کے جواز کے طور پر فراہم کی گئی تھی۔ گو کہ مذکورہ افسر کی طرح کا عہدہ رکھنے والے ہر افسر کو ایک یا ایک سے زیادہ گاڑیاں سرکاری کاموں کی انجام دہی کے لیے دی جاتی ہیں، مگر عام مشاہدہ ہے کہ کار سرکار کو پس پشت ڈال کر ان گاڑیوں کا زیادہ تر استعمال ذاتی مقاصد کے لیے کیا جاتا ہے۔ جس گاڑی کی کہانی بیان کی جا رہی ہے وہ بھی سرکاری سے زیادہ ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔ ذاتی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والی اس گاڑی سے مستفید ہونے والوں میں سرکاری افسر کا وہ بیٹا بھی شامل تھا جو کبھی ایچی سن کالج میں تعلیم حاصل کیا کرتا تھا۔ سرکاری افسر کا دفتر ٹیمپل روڈ لاہور پر جبکہ گھر ایچی سن کالج سے متصل اس آبادی میں واقع تھا جس کا ایک راستہ نہر پر اور دوسرا سندر داس روڈ پر نکلتا ہے۔ سرکاری افسر کا بیٹا گھر سے ایچی سن کالج اور پھر کالج سے گھر اپنے باپ کو ملنے والی سرکاری گاڑی میں آیا جایا کرتا تھا۔ صبح کے وقت تو سرکاری افسر کے فرزند ارجمند سرکاری گاڑی پر اپنے گھر سے سیدھے کالج جاتے، مگر ان کی واپسی کا روٹ نا صرف مختلف بلکہ طویل بھی ہوتا۔ کالج سے چھٹی کے وقت جب سرکاری گاڑی اپنے روزانہ کے غیر سرکاری مسافر کو واپسی کے لیے سوار کرتی تو کالج سے متصل آبادی میں واقع گھر کے بجائے ٹیمپل روڈ پر موجود دفتر کی طرف روانہ ہو جاتی۔ براہ راست گھر جانے کے بجائے دفتر کی طرف سفر بھی ان امور کا حصہ ہوتا تھا جنہیں سرکاری کے بجائے خالصتاً ذاتی کہا جاتا ہے۔ ان دنوں کیونکہ لاہور کی سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھی، اس لیے سرکاری گاڑی منٹوں میں ایچی سن کالج سے ٹیمپل روڈ پہنچ جاتی۔
 سرکاری افسر کے سب انجینئر قسم کے ماتحت عملے نے گوشت، سبزی اور گھریلو استعمال کے دیگر سودا سلف پر مشتمل جو تھیلے تیار کیے ہوتے، وہ جس قدر جلد ممکن ہوتا گاڑی میں رکھ دیے جاتے۔ اگر کبھی سامان رکھنے میں کچھ دیر ہو جاتی تو سرکاری گاڑی کا غیر سرکاری مسافر بہت زیادہ ناراض ہو جایا کرتا۔ راوی بیان کرتا ہے کہ اس سودا سلف کی ادائیگی کے لیے رقم سرکاری افسر صاحب کی جیب خاص سے برآمد نہیں ہوا کرتی تھی بلکہ سب انجینئر قسم کے لوگ اس کا انتظام کرتے تھے۔ بعد ازاں خرچ کردہ اس رقم کی بازیافت ہینڈ رسیدیں بنا کر کی جاتی تھی۔ قصہ مختصر یہ کہ ایچی سن کالج سے متصل آبادی میں رہنے والے افسر صاحب نا صرف خود بلکہ ان کے خاندان کے دیگر افراد بھی جس حد تک ممکن تھا، سرکاری گاڑی کا ناجائز استعمال کیا کرتے تھے۔ ویسے تو کہنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ مذکورہ افسر جب تک نوکری سے سبکدوش نہیں کیے گئے تھے، اس وقت تک ان کی تنخواہ کبھی اتنی نہیں رہی تھی کہ وہ صرف اسی پر انحصار کرتے ہوئے ایک پوش علاقے میں بڑا گھر بنانے کے ساتھ ساتھ اپنے برخوردار کی ایچی سن کالج کی فیسیں بھی ادا کر پاتے۔
 لوگوں کا خیال ہے کہ صرف جائز ذرائع پر انحصار کر کے پرانے دور کے پرانے پاکستان میں بھی نہ تو پوش علاقوں میں گھر بنائے جا سکتے تھے اور نہ ہی اپنے بچوں کو ایسے اداروں میں تعلیم دلوائی جا سکتی تھی، جہاں فیوڈل لارڈز کے بچے پڑھتے ہوں۔ خیر، جو کوئی سرکاری گاڑی کا ناجائز استعمال کر سکتا ہے، اس کے لیے ناجائز ذرائع پر انحصار کیوں ممکن نہیں ہو سکتا۔ایک سرکاری گاڑی کے استعمال سے شروع ہونے والی کہانی جائز و ناجائز ذرائع کے بیان تک جا پہنچی ہے۔ احتیاطاً، کسی کا نام لیے بغیر بیان کی گئی اس کہانی کی حقانیت پر کسی کو بھی شک کا حق حاصل ہے، مگر وضاحت کے لیے عرض ہے کہ عرصہ پہلے سنی گئی اس کہانی کے مندرجات کی ٹیمپل روڈ کے مذکورہ دفتر میں کام کرنے والے ایسے مختلف لوگوں سے تصدیق کی گئی جو اپنی عمر کے اس حصہ میں پہنچ چکے ہیں، جہاں عموماً غیر ضروری جھوٹ نہیں بولا جاتا۔ ویسے بھی یہ لوگ نا صرف اس بات کے قائل ہیں کہ کسی بیٹے کو باپ کے کردار کے آئینے میں نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ آخری عمر میں تبدیل شدہ اور بہتر پاکستان دیکھنے کے خواہاں بھی ہیں۔
اگر وزیر اعظم پاکستان نے نیا پاکستان بنانے کا سفر اپنے استعمال کے لیے مختص گاڑیوں کی تعداد میں کمی کے اعلان سے نہ کیا ہوتا تو شاید عرصہ پہلے سنی ہوئی کہانی یہاں بیان کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ یہ کہانی کسی کے ذاتی تجربہ کا حصہ نہ بھی رہی ہو تو پھر بھی اسے یہ احساس ضرور ہونا چاہیے کہ اس طرح کی کہانیاں خاص طور پر تعمیراتی محکموں میں کام کرنے والے تقریباً تمام افسران بالا کے زیر استعمال گاڑیوں سے جڑی ہوئی ہیں۔ وزیر اعظم نے اپنے استعمال کے لیے رکھی گئی 80 گاڑیوں کی تعداد میں خاطر خواہ کمی کا فیصلہ یقیناً بے جا 
تصرف کے خاتمے اور سرکاری اخراجات کم سے کم کرنے کی کوششوں کے تحت کیا ہے۔ کچھ تحفظات کے باوجود اس فیصلے کو ہر طرح سے نیک نیتی پر مبنی قرار دیا جا سکتا ہے، مگر یاد رہے کہ صرف وزیر اعظم ہاؤس کی گاڑیوں کی تعداد میں کمی سے اس مد میں ہونے والے سرکاری اخراجات میں خاطر خواہ کمی ممکن نہیں ہو سکے گی۔ وزیر اعظم ہاؤس کی 80 گاڑیوں کے مقابلے میں سرکاری افسران کے زیر استعمال گاڑیوں کی تعداد سیکڑوں اور ہزاروں میں ہے۔ ان کے گاڑیوں کے بے جا اور غیر قانونی استعمال کی وجہ سے ہر سال سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا جاتا ہے۔ اس نقصان سے بچنے کے لیے جلد از جلد ایسے اقدامات کرنے ضروری ہیں جن کی وجہ سے کوئی افسر سرکاری گاڑی کا اپنے گھر کے افراد کے لیے بے جا استعمال نہ کر سکے۔