21 اگست 2019
تازہ ترین

نو کمنٹ… نو کمنٹ…

عام طور پر کسی ایسے سوال کا جواب دینے سے معذرت یا نو کمنٹ کے الفاظ ادا کیے جاتے ہیں، جس سے اہم ملکی راز افشا ہونے کا اندیشہ ہو۔ اس کے علاوہ کسی نامناسب یا معیار سے گرے سوال کا جواب دینے کے بجائے اہم اور ذمے دار مناصب پر فائز شخصیات نو کمنٹ کہنے پر اکتفا کرتی ہیں۔ سینئر سیاست دان اور موجودہ حکومت میں وزیر ریلوے کے کافی سوالات بھی اسی زمرے میں شمار ہوتے ہیں۔ اگرچہ قومی اسمبلی کے محترم سپیکر نے شیخ رشید اور خواجہ سعد رفیق کو پی اے سی میں شامل کرنے سے معذرت کرکے ایک باب بند کردیا، تاہم چند روز قبل جب وزیر ریلوے کی پی اے سی میں شمولیت کی تکرار جاری تھی، اُس وقت ایک صحافی نے اپوزیشن لیڈر اور پی اے سی کے چیئرمین شہباز شریف سے سوال کیا کہ وزیر ریلوے کو پی اے سی میں شامل کرنا اس کمیٹی کا ماحول خراب کرنا تو نہیں۔ اس پر  شہباز شریف نے معذرت کی کہ وہ اس سوال کا جواب نہیں دیں گے۔
 اسی صحافی نے دوسرا سوال کیا کہ وزیر ریلوے نے پریس کانفرنس میں کہا ہے دو کمیٹیاں ہوں گی۔ ایک کا چیئرمین شہباز شریف اور دوسری کا میں یعنی شیخ رشید ہوں گا۔ اس پر سابق وزیراعلیٰ پنجاب نے نو کمنٹ کہا اور آگے بڑھ گئے۔ اس موقع پر نو کمنٹ کی حقیقت جاننے کے لیے دونوں شخصیات کی معاشرے میں اہمیت و افادیت سے آگاہی ضروری ہے۔ شیخ رشید متعدد بار وزیر رہے، لیکن جب وزارت ختم ہوئی تو ان کی گپ شپ، پیش گوئیوں  وغیرہ کے سوا ان کے بارے میں کسی کو کچھ یاد نہیں رہتا۔ شیخ رشید کیریئر کے لحاظ سے سینئر سیاست دان ہیں۔ مرحوم و مغفور نواب زادہ نصراللہ خاں بظاہر اکیلے تھے۔ پارٹی بھی منحنی سی تھی لیکن ان کی سیاست ان کی کارکردگی پہاڑ جتنی تھی۔ بڑی بڑی جماعتیں اور ان کے رہنما نواب زادہ نصر اللہ خاں کی اقتدا میں چلنا اپنے لیے باعث افتخار سمجھتے تھے۔ اقتدار کو نہیں بلکہ اصول، مضبوط موقف اور اس پر ثابت قدم رہنے کو اہمیت دیتے تھے۔ شیخ رشید ذہین سیاست دان ہیں۔ طالب علمی کے زمانے سے سیاست کے خارزار میں ہیں۔ کاش سنجیدگی اپناتے، کسی اصول کو لے کر چلتے اور اس پر قائم رہتے، تعمیری سرگرمیوں کو رواج دیتے۔
میاں شہباز شریف کو جب بھی موقع ملا، بھرپور تعمیری کارکردگی دکھائی۔ دنیا جانتی ہے کہ میاں نواز شریف نے لاہور سے اسلام آباد تک موٹروے بنانے کا پروگرام بنایا تو بعض سیاست دانوں کی طرف سے مخالفت کی گئی، لیکن میاں نواز شریف کی ثابت قدمی اور میاں شہباز شریف کے دن رات کی محنت سے موٹروے مکمل ہوئی۔ ہوائی جہاز کے متبادل سفری سہولت میسر آچکی ہے۔ جیل اور جلاوطنی میں کئی برس گزارنے کے بعد جب واپس عوام میں آئے، انہیں بھرپور پذیرائی ملی۔ میاں شہباز شریف نے صرف سیاست نہیں کی بلکہ راولپنڈی، اسلام آباد، ملتان، فیصل آباد میں موٹرویز اور میٹرو بس کے علاوہ انفرا سٹرکچر کا جال بچھایا۔ میاں نواز شریف اور میاں  شہباز شریف کی کامیاب حکمت عملی اور جرأت مندانہ اقدامات کی وجہ سے کراچی میں امن قائم ہوا اور کاروباری ماحول میں چہل پہل آئی۔ کاروباری سرگرمیوں کو اس قدر فروغ دیا گیا کہ جی ڈی پی گروتھ کو 5.8 فیصد پر پہنچادیا۔ لاہور میں ٹریفک کا ازدحام ختم کرنے کے لیے میٹرو بس چلانے کا منصوبہ سامنے لائے تو ایک بار پھر مخالفت لیکن صرف گیارہ ماہ کی قلیل مدت میں دیوہیکل منصوبہ مکمل ہوکر میٹرو بس چلنے لگی تھی۔ گنجان آباد شہر کے اوپر سے بس گزرتی ہے تو بعض غیرملکی بھی انگشت بدندان رہ جاتے ہیں۔ 
ان کے دور میں پاکستان کی سٹاک ایکسچینج دنیا کی بڑ ی پانچ چھ سٹاک ایکسچینجوں میں شمار ہونے لگی تھی۔ اورنج لائن ٹرین پر برق رفتاری سے کام کیا گیا۔ امید ہے موجودہ حکومت اس منصوبے کو جلد از جلد مکمل کرے گی۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں سے کلاشنکوف کلچر ختم کرنے کے لیے میاں شہباز شریف نے طلباء کے ہاتھ میں لیپ ٹاپ دے دیے جس پر والدین نے اطمینان کا سانس لیا۔ بجلی کا قحط ختم کرنے کے لیے کم از کم وقت میں بجلی گھروں کی تکمیل میں میاں شہباز شریف کی محنت کو کسی طور فراموش نہیں کیا جاسکتا۔