نواز، بلاول ملاقات کے بعد نواز، بلاول ملاقات کے بعد

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور بلاول بھٹو زرداری کی ملاقات کی خبر تو پرانی ہو چکی، مگر اس پر تبصرے اب تک جاری ہیں۔ اس ملاقات کا مقصد بظاہر تو اس شخص کی عیادت بتایا گیا تھا جو تین مرتبہ وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز رہا، جو ملک کی سب سے زیادہ ووٹ بنک رکھنے کی دعویدار جماعت کا عہدیدار نہ ہونے کے باوجود اس کے تمام فیصلے کرنے کا اختیار رکھتا ہے اور جو اس وقت اسیر مریض کے طور پر کوٹ لکھپت جیل لاہور میں موجود ہے۔ اتنی بڑی سیاسی شخصیت سے ملک کی سابقہ سب سے بڑی سیاسی جماعت پیپلز پارٹی کا چیئرمین جب ملاقات کرتا ہے تو ملنے کا سبب جو بھی بتایا گیا ہو یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ایک گھنٹے سے زیادہ وقت تک جاری رہنے والی ان کی ملاقات سیاسی گفتگو کے بغیر مکمل ہو جائے۔۔۔ ویسے یہ بیان تو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے ترجمانوں نے ملاقات سے پہلے ہی جاری کر دیا تھا کہ دو سیاستدان کیسے بھی حالات میں ملیں، سیاسی معاملات ان کی گفتگو کا حصہ ضرور بنتے ہیں ۔ یہ بات طے ہے کہ ملاقات کے دوران سیاست دانوں نے سیاسی باتیں ضرور کی ہونگی مگر اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ بلاول کی طرف سے میاں نواز شریف کی عیادت کو محض رسمی سیاسی کارروائی سمجھا جائے۔ یہ بات ذہنوں سے محو نہیں ہو سکتی کہ باہمی تعلقات کے حوالے سے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کا ماضی تلخ یادوں سے بھر پور ہے۔ ان تلخیوں کی کسک بلاول کے حصہ میں اس لیے زیادہ ہے کہ جس مائنڈ سیٹ کے لوگوں کے ساتھ میاں نواز شریف نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ گزارا، اسی مائنڈ سیٹ کی طرف سے بلاول کے خاندان کو بدترین سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا اور اس کے بے گناہ پارٹی کارکنوں کو طویل عرصہ تک بلاوجہ سختیاں برداشت کرنا پڑیں۔ آج جب ملک میں سیاسی مخالفوں کو بدترین دشمن سمجھنے کا کلچر پروان چڑھایا جا رہا ہے تو ایسے وقت میں بلاول کا تلخ ماضی فراموش کرتے ہوئے میاں نواز شریف کی عیادت کرنا یقیناً ایک مستحسن قدم ہے۔
بلاول کی عیادت کے بعد بھی میاں نوازشریف کی صحت کے معاملات جوں کے توں ہیں۔ میاں نوازشریف اپنے علاج سے غیر مطمئن ہیں۔ میاں صاحب کی بیماری کے متعلق حکومت اور مسلم لیگ ن کے ترجمانوں کے دعوے متضاد ہیں مگر دونوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ میاں صاحب کا علاج جیل کے بجائے ہسپتال میں ہونا چاہیے۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کی خواہش ہے کہ ان کا علاج بیرون ملک ہو۔ دوسری طرف حکومتی لوگ اس بات سے تو خوفزدہ ہیں کہ اگر خدانخواستہ میاں نوازشریف کو جیل میں کچھ ہو گیا تو ان کی پہلے سے کمزور اخلاقی حیثیت کا عوام میں مزید مذاق بن سکتا ہے، اسی وجہ سے انہیں میاں صاحب کو علاج کے لیے جیل سے کسی پاکستانی ہسپتال بھیجنا تو منظور ہے مگر ملک سے باہر بھیجنا ہرگز گوارا نہیں ہے۔ یاد رہے کہ میاں نواز شریف کے علاج کے معاملے میں حکومت اور ریاست کی اخلاقی حیثیت اس لیے کمزور ہے کیونکہ لوگ جانتے ہیں کہ ملک سے غداری کے ملزم 
جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف اسی ملک پاکستان سے کمر درد کا علاج کرانے کے بہانے کیسے باہر گئے اور بیرون ملک روانگی کی سہولت کاری کے لیے کن افراد کے پس پردہ کردار کا ذکر کرتے رہے۔ یہ بات بھی یہاں ہر خاص و عام کے علم میں ہے کہ کمر درد کے مریض بہادر بعد ازاں کیسے اپنی پسندیدہ محفلوں میں ٹھمکے لگاتے پائے گئے۔ اس پس منظر میں ان حکومتی ترجمانوں کی باتیں انتہائی کھوکھلی معلوم ہوتی ہیں جو یہ کہتے نہیں تھکتے کہ وہ خاص و عام میں کوئی فرق نہیں سمجھتے اور علاج کی جو سہولتیں عام لوگوں کو میسر نہیں وہ میاں نواز شریف جیسے خاص بندے کو کیسے فراہم کی جا سکتی ہیں۔
میاں نواز شریف کے بیرون ملک علاج سے متعلق حکومت کا موقف جو بھی ہو مگر یہ بات صاف ظاہر ہے کہ ایک وقت میں ان کی سب سے بڑی مخالف رہ چکی پیپلز پارٹی کو ان کے کسی بھی جگہ علاج کرانے پر کوئی اعتراض نہیں۔ اس سلسلے میں پیپلز پارٹی کے سید خورشید شاہ نے تو مسلم لیگ ن کے لوگوں سے بھی بڑھ کر میاں نواز شریف کی حمایت کر ڈالی، شاہ صاحب نے ایک بیان میں فرمایا کہ میاں صاحب کو جیل میں خدانخواستہ کچھ ہو گیا تو اس کا مقدمہ حکمرانوں کے خلاف درج کرایا جائے گا۔ پیپلز پارٹی کے لوگوں کی طرف سے میاں نوازشریف کی اس قدر حمایت کے بعد بعض لوگ خود ہی یہ سوال اٹھا کر کہ اس طرح کی حمایت سے پیپلز پارٹی کو کیا فائدہ مل رہا ہے، خود ہی جواب دیتے ہیں کہ فی الوقت دونوں جماعتوں نے خود کو ایک دوسرے کی تنقید سے محفوظ بنایا ہوا ہے۔
لوگ چاہے جو بھی کہتے رہیں مگر بلاول نے میاں نواز شریف کی عیادت کے بعد کوٹ لکھپت جیل کے باہر میڈیا سے جو گفتگو کی، اس میں انہوں نے زیادہ تر زور میثاق جمہوریت کی ان شقوںکو بروئے کار لانے پر دیا جن کواتفاق رائے کے باوجود پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی حکومتیں اپنے اپنے ادوار میں قابل عمل نہ بنا سکیں۔ اس طرح کی باتیں کرنے کے ساتھ ساتھ بلاول نے یہ تاثر بھی دیا کہ ملاقات کے دوران میاں نواز شریف اور ان کے درمیان اتفاق رائے پایا گیا۔ بلاول نے تو میاں صاحب سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں اپنی باتیں کر لیں مگر میاں نواز شریف قیدی ہونے کی وجہ سے ایسا نہ کر سکے۔ مسلم لیگ کے ترجمانوں کی طرف سے کیونکہ بلاول کی باتوں کی کسی طرح کی تردید سامنے نہیں آئی، اس لیے یہ تصور کرنے میں کوئی حرج نہیں کہ بلاول نے اتفاق رائے کی جو بات کی وہ درست ہے۔
پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن تو میثاق جمہوریت کے احیا کی بات کر رہے ہیں مگر عمران خان اور ان کے ہمنواؤں کی باتیں اس کے برعکس ہیں۔ عمران خان اکثر میثاق جمہوریت کو موجودہ دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں کے درمیان مک مکا قرار دیتے رہتے ہیں، لہٰذا ان سے یہ توقع بھی نہیں کی جانی چاہیے کہ وہ اس موقف پر بھی کوئی یوٹرن لے کر لوگوں کو حیران کر دیں گے۔ مگر یاد رہے کہ جب 2006ء میں میاں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان میثاق جمہوریت طے ہوا تھا، اس وقت جنرل مشرف کی مخالفت میں مصروف عمران نے اس معاہدے کے متعلق اس طرح کا کوئی بیان نہیں دیا تھا جو وہ اب دیتے رہتے ہیں۔ یہ بات شاید بہت سے لوگوں کے لیے حیران کن ہو کہ 2006ء میں عمران خان نے میثاق جمہوریت کو مک مکا قرار دینے کے بجائے اس کی مشروط حمایت کا اعلان کیا تھا۔ عمران خان میثاق جمہوریت کے متعلق جو کچھ مرضی کہتے رہیں مگر دانشوروں کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ مؤرخ اس میثاق کو پاکستان میں سول بالادستی کی طرف ایک اہم پیش قدمی کے طور پر رقم کرے گا۔ پاکستان میں گو مگو کے سے حالات میں یہ بات خوش آئند قرار دی جا سکتی ہے کہ بلاول اور میاں نوازشریف نے اپنی ملاقات میں میثاق جمہوریت کے احیا پر اتفاق کیا۔