19 دسمبر 2018
تازہ ترین

نسخہ ہائے ’’سیل پروموشن‘‘ نسخہ ہائے ’’سیل پروموشن‘‘

معزز قارئین! دنیا میں سخن فہم اور باذوق حضرات کی کمی نہیں۔ گزشتہ اتوار ہم ایک چپل خریدنے کے لیے مارکیٹ پہنچے۔ جوتوں کی ایک سجی سجائی دکان نظر آئی۔ ہم اس میں داخل ہوئے تو جوتوں کے ایک ’’ریک‘‘ کے اوپر لکھا ہوا یہ شعر نظر آیا:
ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں
اب ٹھیرتی ہے دیکھئے جا کر نظر کہاں
حالی کے اس شعر کو جس معنوی اعتبار سے اس جوتا فروش نے پیش کیا، ہم اسے داد دیے بغیر نہ رہ سکے۔ نتیجتاً ہم نے اس دکان سے ایک عدد چپل خرید ہی لیا۔ ایسی دکان سے خالی ہاتھ جانا گناہِ کبیرہ سے کم نہ تھا۔
صاحبو! جوتا فروش کے حوالے سے ہمیں اکبر الہ آبادی یاد آ گئے۔ ایک شو میکر اکبر الہ آبادی کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے جوتوں کی دکان کھولی ہے۔ اس پر کوئی شعر عطا ہو جائے۔ حضرت نے یہ سن کر فی الفور کہا:
شُو میکری کی کھولی ہے ہم نے دکان آج
روٹی کو ہم کمائیں گے جوتے کے زور سے
صاحبو! اکبر کے ذکر سے ہمیں ان کا ایک مشہور قطعہ یاد آ گیا جو انہوںنے ’’بے پردہ بیبیوں‘‘کے بارے میں کہا تھا۔ اس قطعے کو کسی پردہ ساز کمپنی کے خوش ذوق ’’پی۔آر۔او‘‘ نے کمپنی کے اشتہار میں یوں استعمال کیا کہ کیا کہنا۔ آپ کی تفننِ طبع کے لیے پورا اشتہار ہی درج ذیل ہے:
بے پردہ کل جو نظر آئیں چند بیبیاں
اکبر زمیں میں غیرتِ قومی سے گڑ گیا
پوچھا جو اُن سے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا
کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کی پڑ گیا
بہرحال اب پردہ بیبیوں کے لیے تو رہا ہی نہیں، مردوں کی عقل پر ڈالنے کے لیے ضرورت ہی نہیں رہی، اس لیے ’’گاما گھیٹا کرٹن پلازہ سے ہر قسم کے پردے بنوائیے۔ نیز کھڑکیوں اور دروازوں کے ریڈی میڈ پردے بھی دستیاب ہیں۔ ایک بار ضرور آزمائیے۔
صاحبو! اس قسم کے اشتہار کو پڑھنے کے بعد ہم نے اسی قسم کے اور اشتہاروںکی تلاش شروع کر دی۔ چنانچہ جلد ہی ہمیں ایک ہفتہ روزہ جریدے میں درج ذیل اشتہار مل گیا۔ ملاحظہ فرمائیے:
قوتِ جولانی
مغرب کی استحصالی طاقتیں مسلمانوں کی ترقی بھلا کیسے برداشت کر سکتی ہے اب تو وہ کھلم کھلا کہنے لگے ہیں کہ ہم مسلمانوں کو زیرِدام کر کے ہی دم لیں گے۔ ہمیں تو خطرہ ہے کہ وہ افغانستان کے ساتھ ایران، عراق اور پھر ہم پاکستانیوں کو بھی ہدف بنانے کی مذموم کوشش نہ کریں۔ ان کے مقابلے کے لیے ضروری ہے کہ ہم صحت مند ہوں، تنو مند ہوں اور اچھی صحت کے لیے خمیرہ گاؤ زبان اور جوارش شاہی سے تیار کردہ نسخہ حاصل کرنے کے لیے استاد الحکماء حکیم پھتو خان سہارنپور والے کے پاس تشریف لائیں۔ اُلّو کے سوا ہر قسم کے پٹھوں کی مضبوطی کے کشتہ جات بھی دستیاب ہیں۔ 
قارئین! ایک اور اشتہار دیکھئے:
علاجِ دردِ سر
محبت کوڑیوں کے ہو اگر مول
بنی آدمی نہ لے یہ دردِ سر مول
بالکل درست۔ لیکن دردِ سر تو آج کل اتنا مقبول ہو چکا ہے کہ جس کو دیکھو سر پکڑ کر بیٹھا۔ پہلے وقتوں میں لوگ جگر تھام کر بیٹھتے تھے یا دردِ دل میںگرفتار ہوتے تھے۔ لیکن آج کل تو دل یا جگر کوئی نہیں تھامتا۔ جس کو دیکھو سر تھامے بیٹھا ہے۔ دردِ سر کے لیے ہماری تیار کردہ ببرشیرمارکہ پینا ڈول کھائیے اور دردِسر سے نجات پائیے۔
صاحبو! اشتہار بازی کے میدان میں بھلا ٹیلر کیسے پیچھے رہ سکتے ہیں۔ ایک درزی کا اشتہار ملاحظہ فرمائیں:
ماڈرن ٹیلرز
عجب زمانہ آیا ہے کہ لوگ جامے میں پھولے نہیں سماتے۔ کیوں؟ آخر کیوں۔۔۔؟ اس لیے کہ سلائی ناقص ہوتی ہے۔ دھاگہ کچا ہوتا ہے، قصور جامے کا نہیں۔ جامہ بنانے والوں کا ہے۔ عزتِ نفس کے لیے ضروری ہے کہ انسان کو جامے میں ہی سمانا چاہیے جس کیلیے بہترین کٹائی اور سلائی ضروری ہے۔ نت نئے نمونے، نت نئے ڈیزائن، زنانہ، مردانہ، بچگانہ ہر قسم کی سلائی کے لیے سائیں الف دین ٹیلر ماسٹر قلعہ والی گلی کو یاد رکھیں۔
قارئین! اگر ٹی۔ وی کے اشتہاروں پر نظر ڈالیںتو وہاں ایک اور ہی دنیا دکھائی دیتی ہے۔ مثلاً دیا سلائی کے اشتہار میں ایک خاتون خانہ ماچس جلا رہی ہوتی ہے۔ ماچس اور خاتو ن! بھلا اس زمانے میں یہ کہاں کا جوڑ ہے۔ دیا سلائی جلوانی ہے تو کسی مرد سے جلوائیں کیونکہ باورچی خانے کا سارا انتظام تو آج کل مردوں کے پاس ہوتا ہے۔بیوی تو اکثر کچن میں راؤنڈ لگا کر مُنّے کو آواز دیتی ہے ۔ مُنّا آتا ہے تو اُسے کہتی ہے کہ :
بہت گندے برتن کچن میں پڑے ہیں
ذرا اپنے ابا کو آواز دینا