19 مارچ 2019
تازہ ترین

ناگپور کے ہندوئوں کی سینہ زوری ناگپور کے ہندوئوں کی سینہ زوری

(14 نومبر 1923ء کی تحریر)
 ہم پہلے لکھ چکے ہیں کہ ناگپور کا معاملہ نہایت نازک صورت اختیارکر رہا ہے۔ یہ مسلمانوں کی عبادت میں صریح خلل اندازی کا سامان ہے۔ ایک مسلمان کے مصروف عبادت ہونے کے وقت خانہ خدا کے سامنے کھڑے ہو کر باجے بجانے سے ان کے دل پر اتنی ہی چوٹ لگتی ہے جتنی کہ ایک ہندو کے اپنے مکان یا مندر کے سامنے گائے ذبح ہوتی دیکھ کر۔ تو پھر سمجھ میں نہیں آتا کہ مسجد کے سامنے باجے بجانے پر اصرار کیا معنی رکھتا ہے؟ رہنمایان ملک کا فرض ہے کہ وہ جلد اس معاملہ پر متوجہ ہوں اور اس کے ناقابل علاج ہو جانے سے پیشتر اس کا ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دیں۔ ہندوبزرگوں کو اس طرف خاص توجہ کرنی چاہئے اس لئے کہ اس معاملے میں پیش دستی ان کی قوم کی طرف سے ہو رہی ہے۔ اگر ہمارے ہندو بھائی جلوس نکالتے وقت مسجد کے قریب دس بیس قدم باجے بند کر دیں تو ہم نہیں سمجھتے کہ اس سے ان کی نے نوازانہ عبادت میں کیاخلل پیدا ہو سکتا ہے۔ جو مذہب اپنے غیر مذہب ہمسایہ بھائیوں کے ساتھ اتنی رواداری کی بھی اجازت نہیںدیتا کہ ان کی عبادت گاہوں کے احترام کو برقرار رکھے ہم نہیں سمجھتے کہ اس مذہب کے پیروئوں کو دوسروں سے رواداری کے مطالبہ کا کیا حق حاصل ہے۔ کیا یہی وہ رواداری ہے جس کے بل پر سلاطین اسلام کو بے بنیاد الزامات کا مورد قرار دیا جاتا ہے۔ اگر ہندو یہ کہہ سکتے ہیں کہ انہیں مسجد کے سامنے باجے بجانے سے روکنا ان کی عبادت میں خلل پیدا کرتا ہے تو مسلمان اس قسم کے صدہا اذیت دہ بہانوں سے کام لے سکتے ہیں۔ ان کے مذہب میں گائے کا گوشت حلال ہے اس کے ذبح کرنے کے لئے شریعت نے کسی خاص جگہ کی قید نہیںلگائی۔ وہ انہیں حسب منشا ہر مقام پر ذبح کرنے کا مطالبہ کریں گے پھر ہندوئوں کو آسانی سے محسوس ہو جائے گاکہ مسجد کے سامنے باجے بجانے کے دھارمک حق کی حیثیت کیا ہے۔ لیکن اس قسم کی کشمکشوں کا نتیجہ کیا نکلے گا؟ ہندوستان کی حریت، ہندوستان کی آرزو اور متحدہ قومیت کی تنظیم کا خواب پریشان ہو جائے گا اور گزشتہ دو تین سال کی عظیم الشان قربانیاں ضایع ہو جائیں گی۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہندو بھائی فہم و خرد سے کام لیں گے۔ رہنمایان ملک اس طرف جلد توجہ فرمائیں گے۔ ہمیں حیرت ہے کہ صوبہ متوسط کے بے تاج بادشاہ اور ہندوستان کی حریت کے قابل فخر علمبردار سیٹھ جمنا لال بجاج نے ابھی تک اس معاملے کی طرف کیوں توجہ نہیں کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یومِ جزیرۃ العرب
(15 نومبر 1923ء کی تحریر)
مجلس عالیہ مرکزیہ خلافت کی طرف سے یہ اعلان وہ چکا ہے کہ 16 نومبر کو ہندوستان میں یوم جزیرۃ العرب منایا جائے۔ ہندوستان کے ہر فرزند توحید کا فرض ہے کہ وہ اس دن تہیہ ایثار و قربانی کا ایسا صحیح اور غیر مشتبہ مظاہرہ کرے جس سے یہ واضح ہو جائے کہ وہ اس پاک و مقدس سرزمین کو کفر و بغاوت کے تسلط و اقتدار سے آزاد کرانے کی خاطر اپنی زندگی کی ہر متاع کو راہ حق میں قربان کر دینے پر آمادہ و طیار ہے۔ اب تک ہماری طرف سے خلافت کیلئے جو کچھ ہوا وہ ہمارے راستے کی پہلی منزل تھی۔ جزیرۃ العرب کی آزادی اس سے بدرجہا اہم و اقدم چیز ہے اس لئے ہمیں یقین ہے کہ مسلمان اپنی حق پرستانہ جدوجہد اور سعی و کوشش میں مزید سرگرمی اور فداکاری کا ثبوت دیں گے۔ مجلس خلافت نے انتظام کیا ہے کہ اس روز محض ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ دنیائے اسلام کے ہر حصے میں یوم جزیرۃ العرب منایا جائے۔ چنانچہ اس مقصد کی تکمیل کیلئے اس نے تمام اسلامی ممالک اور اسلامی آبادیوں سے استدعا کی ہے کہ وہ 16 نومبر کو یاد رکھیں اور جزیرۃ العرب کی آزادی کی خاطر مسلمانان ہند کے عزم صمیم میںشرکت و شمولیت کا اظہار کریں۔
پیشتر ازیں ہم مسئلہ تحفظ خلافت کے متعلق بمبےؔ کرانیکل کے دو مضمون ترجمہ کر کے شایع کر چکے ہیں اور خود بھی اسی موضوع پر مستقل مضامین لکھ چکے ہیں۔ مسلمانان ہند کا فرض ہے کہ وہ جزیرۃ العرب کی آزادی کے تہیہ کے ساتھ ساتھ منصب خلافت کے صحیح اسلامی اصول پر قیام کی تدابیر کو بھی پیش نظر رکھیں اور ایسی تدابیر اختیار کریں جن سے خلافت صحیح معنوں میں اسلامی خلافت بن جائے۔ وہ عالم اسلام کا مرکز ہو، تمام  منتشر و متفرق اجزائے اسلامیہ کی شیرازہ بند ہو، ناموس شریعت کی محافظ و نگہبان ہو، دنیا کیلئے اخوت اسلامی کا اعلیٰ اور اکمل نمونہ ہو اور وہ سب کچھ ہو جو خلافت راشدہ تھی اور جس کی تصویر شریعت حقہ اسلامیہ نے کھینچی ہے۔ بمبے کرنیکلؔ نے یہ بالکل صحیح لکھا تھا کہ اگر خلافت کے حقیقی نصب و قیام سے ہم غافل رہے، اس کے اختیارات و اقتدارات کی ہم نے توضیح و تشریح نہ کی، اس کیلئے ضروری قوت و طاقت کا سامان فراہم نہ کیا تو پھر جزیرۃ العرب کی آزادی ہمیں کیا فایدہ پہنچائے گی۔ (جاری ہے)