15 نومبر 2018
تازہ ترین

ناکردہ گناہ کی سزا ناکردہ گناہ کی سزا

اسلام دین امن ہےجوروئے زمین پر بسنے والے انسانوں کے حقوق کا محافظ ہے لیکن بدقسمتی سے اکیسویں صدی شروع ہوتے ہی  اس دین کو ماننے والوں پر زمین تنگ کردی گئی اورآج تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ عالم کفر متحد ہوکرملت اسلامیہ پر حملہ آور ہے ا اور اس کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لیے نت نئے حربے استعمال کر رہا ہے۔ دنیا کا کوئی ایسا اسلامی ملک نہیں جو بین الاقوامی سازشوں سے خود کو بچا سکا ہو، ان میں سے کچھ تو سازشوں کا شکار اور کچھ خود بھی سازشوں میں شریک ہیں۔ہم نے یہ تو سنا تھا کہ بسا اوقات لمحوں کی خطا صدیوں کی سزا بن جایاکرتی ہےلیکن بغیر خطا کے سزا کا تصور تو کبھی رہم و گمان بھی نہ تھا ، گزشتہ دو دہائیوں سے ملت اسلامیہ نے صرف سنا ہی نہیں بلکہ اپنی آنکھوں سے دیکھ بھی لیا ہے کہ کبھی کبھی  بغیرخطا کے بھی سزا مل جایا کرتی ہے ، مسلم دنیا پچھلے سترہ سال سے جس ’’خطا ‘‘ کی سزا بھگت رہی ہے ، حقیقت میں یہ اُس سے سرزد ہوئی ہی نہیں۔ہم اپنے اوپر ہونے والے مظالم کا نوحہ ہم پچھلے سترہ برس سے پڑھتے چلے آرہے ہیںلیکن اغیار کے ستم ہیں کہ ختم ہونے کے نام ہی نہیں لے رہے۔
آج کا دن ایک بار پھر ہمارے زخم تازہ کر گیا ہم آج پھر اس ناکردہ ’’خطا ‘‘کو یاد کر رہے ہیں جو ٹھیک ستارہ برس پہلے کسی اور نے کی،مجرم مسلمان ٹھہرے۔ 11 ستمبر 2001ء کی صبح تقریباً آٹھ بجے امریکا کے ٹوئن ٹاور کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا ، پہلے ایک مسافر بردار بوئنگ طیارہ 757 نیو یارک کے 110 منزلہ ٹاور سے ٹکرایا، حملوں میں اس خوفناک حملے کی اطلاع پوری دنیا میں جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی ،اس حملے کی تباہی کے مناظر ٹیلی ویژن چینلز لائیو دکھا رہے تھے، پوری دنیا میں لوگ دہشت و خوف کے عالم میں مبتلا تھے اور اس حملے پر دلگرفتہ بھی ، اسی اثنا میں دوسرا بوئنگ طیارہ فضا میں نمودار ہوا اس کا رخ دوسرے ٹاور کی جانب تھا ، اس سے پہلے کہ دنیا کی واحد سپر پاورکا دفاعی نظام حرکت میں آتا اور اس طیارے کا رخ موڑتا یا اسے فضا میں ہی تباہ کرتا یہ طیارہ لمحوں میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے دوسرے ٹاور سے ٹکرا جاتا ہے یعنی چند منٹوں میں دو مسافر ہوائی جہاز نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی بلند و بالا عمارتوں سے ٹکرا گئےاور یہ عمارتیں دیکھتے ہی دیکھتے زمین بوس ہو گئیں۔کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی ، اطلاع موصول ہوئیں کہ ایک اغوا شدہ مسافر جہاز بوئنگ 757 امریکی محکمہ دفاع کے ہیڈ کوارٹر پینٹا گان پر گرادیا گیا جس سے پینٹا گان کو جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے ۔اس تیسرے جہاز کے گرنے کے تقریباً تیس منٹ بعد خبر آئی کہ ایک اور بوئنگ جہاز کو اغوا کے بعد وائٹ ہائوس پر حملہ کرنے کے لیے لے جایا جارہا ہے لیکن اسے روکنے کے لیے امریکا کا دفاعی نظام حرکت میں آتا ہے اور اسے امریکی لڑاکا طیارے پنسلوانیا کے مقام پر مار گراتے ہیں۔تمام تو شکوک و شبہات کے باوجود17سال بعدآج بھی  ان حملوں کی یادیںترو تازہ ہیں، شاید امریکی عوام تو انہیں بھول جائیں لیکن روئے زمین پر بسنے والے مسلمان کیسے بھول سکتے ہیں؟ کیونکہ یہی وہ حملے تھے جن کی آڑ میں مسلم دنیا کے گرد گھیرا تنگ کردیاگیا، کئی اسلامی ملکوں پر براہ راست حملے کئے اور ان پر قابض ہوا۔
نائن الیون کی آڑ میں امریکا نے پیشگی حملوں کی ڈاکٹرائن متعارف کرائی ، پھر اسی پر عمل کرتے ہوئے عراق اور افغانستان کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی ۔ امریکا کے اس اقدام نے پوری دنیا کے امن کو چنگاری دکھا دی تھی ، اس حماقت کے اثرات صرف عراق یا افغانستان تک ہی محدود نہ رہے بلکہ دہشت گردی نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ نائن الیون کے بعد امریکا میں جتنے بھی صدور آئے ، وہ ایک سے بڑے کر ایک ثابت ہوئے، سب کا انداز الگ الگ تھا لیکن مقصد صرف امت مسلمہ کو ہدف بنانا تھا۔ گزشتہ سترہ برس کے دوران امریکا کا دوغلا پن اور دہشت گردی کھل کر سامنے آگئی ۔اسے نائن الیون کے واقعہ میں مرنے والےاپنے چند ہزار افراد تو یاد رہ جاتے ہیں اور ہر سال ان کی برسی بھی منائی جاتی ہے لیکن امریکی جنگوں میں جو معصوم لاکھوں لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ، ان کا مرثیہ کون پڑھے گا ، 
ان کے لواحقین کی اشک شوئی کون کرے گا، ان کے زخموں پر مرہم کیسے رکھا جائے؟ امریکا محض ڈھونگ رچانے کے لیے یہ برسیاں مناتا ہے۔ اس کی مکاری، عیاری، بدمعاشی کتنی عیاں ہے کہ ایک طرف نائن الیون کے افسوس میں تقریب منعقد کررہاہوتا ہے اور دوسری جانب عین انہی لمحات میں مختلف مسلم ممالک میں مسلمانوں کا خون پی رہاہوتا ہے۔ امریکاکی گردن میں سپرپاور ہونے کا جو سریا گڑا ہوا ہے اس کی طاقت اپنی میعاد پوری کرنے کے قریب ہے۔اس نے نائن الیون کے بعد اسلام دشمنی پر مشتمل جو جنگ شروع کی تھی اب تک اس میں اسے کتنے فیصد کامیابی ملی ہے؟ یہ پوری دنیا کو معلوم ہے ، عراق میں اسے ذلت کے سوا کچھ نہیں ملا ، افغانستان امریکی فوجیوں کا قبرستان بنا ہوا ہے ، امریکااس جنگ میں براہ راست تباہ و برباد ہوچکا ہے، لاکھوں لوگوں کو موت کے منہ میں دھکیل دیا اور کبھی اس پر ایک حرف افسوس کہنے کی بھی زحمت گوارا نہیں کی اور زحمت کرتا بھی کیوں؟ امریکا کی طرف سے شروع کردہ یہ جنگ ایک تہذیبی اورصلیبی جنگ ہے، یہ اسلام دشمنی کی جنگ ہے،اس کا بغور جائزہ لیں تو بدقسمتی سے کئی مسلم ممالک کے حکمران اس جنگ میں طاغوت کے آلہ کار بنے ہوئے بھی دکھائی دیں گےاور اس کے ایجنڈے کی تکمیل کی خاطر ’’شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ‘‘بنے۔ وار آن ٹیرردر اصل مسلم قوم کو اپنا غلام بنائے رکھنے کی جنگ ہے،پاکستان بھی اس جنگ میں امریکا کا اتحادی بنا ررہا ۔ امریکا نے نائن الیون پر اتنا نقصان نہیں اٹھایا ہوگا جتنا پاکستان نے اس کا ساتھ دے کر برداشت کیالیکن اس کی ہوس ختم نہ ہوئی ، ڈو مور ، ڈومور کی گردان الاپنے والے کی زبان نہ تھکی ، اس کا ساتھ دیتے دیتے پورا پاکستان زخمی ہوگیا۔ 
نائن الیون کے بعد سے آج تک امریکا اس خطے میں موجود ہےاور پوری طاقت کے ساتھ کھڑا ہےلیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ سترہ برس تک افغانستان کی خاک چھاننے کے بعد بھی اسے مکمل ریاست پر کنٹرول نہیں مل سکا۔ آج بھی افغانستان کے60فیصد سے زائد حصے پر طالبان کا کنٹرول ہے۔ امریکا کا ایک بڑا خواب یہ بھی تھا کہ بھارت کو اس خطے کا چوہدری بنا کر چین کے سامنے کھڑا کیا جائے، اس مقصد کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بھی نجانے کیا کیا پاپڑ بیلے گئے، یہاں تک کہ سی پیک جیسے عظیم الشان منصوبے کو بھی ٹارگٹ کیا گیا لیکن کامیابی نہ مل سکی۔ امریکا نے خود ساختہ ڈرامے کے نتیجے میں جو شطرنج بچھائی تھی اب سترہ برس بعد وہ الٹتی دکھائی دے رہی ہے۔ ہر آنے والا دن امریکا ’’بہادر ‘‘کے لیے مشکلات کاباعث بن رہا ہے ۔ اب تو اسے پاکستان کا ساتھ بھی ویسے میسر نہیں جیسے سابقہ ادوار میں ہوا کرتا تھا کیونکہ یہاں ایسی تبدیلی آچکی ہے جو امریکا کے آگے گھٹنے ٹیکنے کے لیے تیار دکھائی نہیں دیتی بلکہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کے دعوے کرتی ہے۔ کسی کو شک ہو تو مائیک پومپیو کے حالیہ دورۂ پاکستان کی فوٹیج نکلوا کر دیکھ لے،  اس سارے دورے کی کارروائی بھی آسانی سے مل جائے گی۔اگر ہر اسلامی ملک امریکا کے تسلط سے باہر نکلے اور تھوڑی سی جرات کا مظاہرہ کرے تو مسلم امہ کے حالات بدل سکتے ہیںکیونکہ اس امہ نے ناکردہ گناہ کی بہت سزا پا لی ۔