ناستلجیا کا دیہانت ناستلجیا کا دیہانت

ٹہنیوں سے لٹکتے قرمزی پھول، ہر پھول کے بطن سے ابھرنے کی کوشش کرتی لمبی پتلی زرد ڈنڈی جس کے آخری سرے پر زردانوں کا دلکش گچھا، گہرے سبز چمکدار دندانے دار پتوں والے بھرپور گڑھل کے پودے تلے بچھے زمین کی سطح سے چھ انچ بلند تخت پر سجدے کی جگہ پر چنبیلی کی کلیاں دھرے تسبیح و عبادت میں مشغول ماں تو ربع پیشتر کسی اور جہاں سدھار گئی تھیں۔ نہ وہ پودا رہا، نہ وہ پھول رہے نہ وہ تخت رہا۔ اب تو اس پکے برآمدے میں، جو ان کی مرض کے دوران تعمیر ہوا تھا اور اس کمرے سے جہاں وہ ایک عشرہ مفلوج پڑی رہیں، شاید وہ اسے دیکھ ہی نہ پائی ہوں، بچھے اڑھائی فٹ اونچے تخت پر نماز پڑھنے کو چڑھنا، ان کے بوڑھے بیٹے بیٹیوں کے لیے دشوار ہے۔
رات کے سناٹے میں گھر کے پیچھے کھیتوں کے اس طرف کچے راستے پر قطار میں چلتے اونٹوں کے گلے میں بندھی گھنٹیوں کی صدائے جرس میں ساربان کے ہونٹوں میں دبے ساز چنگ کی آواز کا سبک پن ہوا ہو چکا کیونکہ جہاں ہمارا گھر سیمنٹ والی سفید حویلی میں بدل گیا ہے وہاں کھیت گھنی آبادی کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ کچا راستہ اسفالٹ والی سڑک میں بدل چکا ہے۔ اونٹوں کی جگہ ٹرکوں اور ویگنوں نے لے لی ہے۔
اب تو بھکاری بھی دروازہ کھٹکھٹا کر بھیک مانگتے ہیں۔ ماہ رمضان المبارک میں بازو پہ چڑھے سٹیل کے چوڑوں کو ہتھیلی میں پکڑے چھوٹے سے ڈنڈے سے بجانے کی چھنک کے ساتھ پھیری لگانے والے فقیر کی گمبھیر مدھر آواز میں مدح خدا و رسولؐ اب کہاں۔ شاید پھیری والے کے بیٹے بھی ڈاکٹر انجینئر بن چکے ہوں اور پھیری والا گلبرک لاہور، یا گل گشت ملتان میں اپنی کوٹھی کے لان میں بیٹھا چائے پی اور اخبار پڑھ رہا ہو۔ ایسا عین ممکن ہے کیونکہ میرے ڈسپنسر کا بیٹا ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہے اور بیٹی ایم ایس سی۔
اب تو ناستلجیا کا بھی ناستلجیا باقی بچ رہا ہے۔ کچھ عرصے کی بات ہے کہ یہ بھی تمام ہو جائے گا۔ گھر میں جو بچے تھے اب ان کے بھی بچے ہیں۔ تاحال تو شکر ہے کہ بڑے بھائی نے حویلی کے اس طرف جہاں کھیت ہوتا تھا، بارہ مرلے کے ایک پلاٹ میں گلزار بنایا ہوا ہے۔ بیریاں، امرود، پالم، انار، کھجور کے چھوٹے بڑے درخت ہیں۔ کچھ حصہ اینٹوں کے فرش والا ہے جس پر گول گول سبز، زرد، بھورے بڑے بڑے بیر بکھرے رہتے ہیں۔ محلے کے بچے آتے ہیں، بیر چنتے ہیں اور شاپر بھر بھر کے لے جاتے ہیں۔ مگر برادر بزرگ کی عمر پچاسی برس سے تجاوز کرتی ہوئی ہے۔ ابھی ان میں باغیچہ سنبھالنے کی سکت ہے مگر اللہ نہ کرے، ان کے بعد۔
پہلے سب سے بڑے بھائی ہوتے تھے، ان کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہوتے تھے۔ وہ میاں بیوی دنیا سے سدھار گئے۔ ان کا بیاہتا چھوٹا بیٹا بھی ناگہانی طور پر دو بچے اور ایک بیوہ چھوڑ کر چل بسا۔ بیوہ بچوں کو لے کے باپ کے گھر چلی گئی۔ بڑا بیٹا، اس کی اہلیہ اور بچے لاہور منتقل ہو گئے۔ اب ان کے ملحق گھر میں میری اسی اور اکاسی برس کی بوڑھی ناکتخدا بہنیں کھانا پکاتی، پروستی ہیں۔ اس عمر میں بھی متحرک ہیں۔
دوسرے بڑے بھائی کے بچے تو ویسے ہی کراچی میں ہیں جیسے سب سے چھوٹے بھائی کے۔ درمیانے بڑے بھائی کے بچے اپنے کاموں پر دوسرے شہروں میں ہیں۔ آبائی گھر میں ان کے دو بیٹے اور ایک بہو اپنے دو چھوٹے بچوں کے ہمراہ ہے۔ یہ کنبہ بھی ملتان منتقل ہونے کی تیاری کر رہا ہے۔ ہماری پیاری اور سیانی منتظم مزاج بھتیجی سب کی خدمت بجا لانے کو بھاگی پھرتی ہے۔ اس گھر سے اس گھر تک آنے جانے میں بھی تین سے پانچ منٹ لگتے ہیں۔ ایک اور ملحق گھر کے اس طرف والے صحن کے ساتھ والے برآمدے کو فعال رکھنے کو وہاں ایک موٹر سائیکل کپڑے سے ڈھانپا کھڑا ہے جسے کبھی کبھار نوجوان استعمال میں لاتے ہیں یا کپڑے استری کرنے کو میز اور استری وہاں دھرے ہیں۔
دنیا ہے ہی بدلے جانے کا نام۔ اس طرف کی گلی میں جہاں سبزی بیچنے والوں کی صدا ہوتی تھی اب موٹر سائیکلوں کی آوازوں کا شور ہے۔ وقت کے ساتھ سب کچھ بدل گیا البتہ نالیاں گہری ہو گئیں جو اسی طرح گندی ہیں جیسے پچاس برس پہلے ہوتی تھیں۔ ان کی سڑاند ناستلجیا کو ناستلجیا نہیں رہنے دیتی، حال کی حقیقت میں ڈھال دیتی ہے۔ گلی میں نہ مجھے کوئی پہچانتا ہے نہ میں کسی کو جانتا ہوں۔ کل ایک خاتون آئی تھی جو ایک زمانے میں طرح دار دلکش لڑکی ہوا کرتی تھی اب وہ سنجیدہ بردبار عورت ہے جس کے پوتے پوتیاں بھی کالجوں میں پڑھ رہے ہیں۔ جب وہ لڑکی تھی تب ان کے گھروں میں لڑکیوں کو صرف قرآن پڑھایا جاتا تھا، جو وہ میری والدہ سے پڑھی تھی۔