21 نومبر 2018
تازہ ترین

نئے پاکستان کی نئی جمہوریت نئے پاکستان کی نئی جمہوریت

وہی ہوا جس کا خدشہ تھا، جنرل مشرف کی جعلی جمہوریت کے بعد پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے دو نیم جعلی ادوار گزار کر ہم ایک بار پھر جمالی، شوکت عزیز طرز حکومت کی جانب لوٹ گئے ہیں۔ بظاہر جمہوری لوازمات کا ہر عنصر موجود ہے مگر سب کو علم ہے کہ جو نظر آ رہا ہے وہ کیموفلاج ہے۔ منتخب نمائندوں، پارلیمنٹ اور سول حکومت کے تقریباً تمام اختیارات اداروں کو منتقل ہو گئے۔ آج ملک میں جس طرف بھی دیکھیں 1999ء کے مناظر دکھائی دیتے ہیں، ایک غیر یقینی کی کیفیت ہے۔ سول حکومت کے کل پرزے یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ان کے اختیارات کیا ہیں؟ اسلام آباد میں موجود بعض سینئر بیورو کریٹس بتاتے ہیں کہ بعض وزراء انہیں ہر دوسرے دن طلب کر کے پوچھتے ہیں کہ کام کیسے کرنا ہے؟ جوڈیشل ایکٹوازم زوروں پر ہے تو دوسری جانب نیب حکام ہر کسی کو دبوچنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ اداروں کی اپنی حکومت میں ایسی بے چینی اس سے قبل 1999ء میں اس وقت دیکھی گئی تھی جب جنرل مشرف نے نواز شریف حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ ’’سب کا احتساب‘‘ کے نام پر لوگوں کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگایا گیا۔ ملک کے ٹاپ 10 صنعتکاروں پر ہاتھ ڈالا گیا۔ حوالات کے فرش پر بیٹھے کھرب پتی حیران تھے کہ ان کے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔ باہر ان کی کمپنیوں میں کام کرنے والے لاکھوں ملازمین اس خوف کا شکار ہو گئے کہ نوکریاں گئیں کہ گئیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ نیب کو ہمیشہ سیاسی انتقام کے لیے استعمال کیا گیا۔ اب بھی کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ حکومتی جماعت اور اس کے حلیفوں میں سے بعض نام اگرچہ نیب کی فہرست میں ہیں، لیکن انہیں کوئی خطرہ نہیں۔ ایسا ضرور ہو سکتا ہے کہ بات نہ ماننے یا سرکشی دکھانے پر ان میں سے چند ایک کا بازو مروڑا جائے، لیکن اس سے زیادہ کچھ نہیں ہو گا۔ حکومتی سائیڈ سے کوئی چھوٹی موٹی گرفتاری کی بھی گئی تو یہ محض اصل ٹارگٹ سے لوگوں کی توجہ عارضی طور پر ہٹانے کی کوشش ہو گی۔ ایک زیرک سیاستدان کا کہنا ہے کہ جنرل مشرف کے دور میں صرف 10صنعتکار ہی پکڑے گئے تھے تو پورے ملک کا معاشی نظام جھٹکے کھانے لگا تھا۔ اب پی ٹی آئی کی حکومت اپنے وزیر اطلاعات کے ذریعے پہلے مرحلے میں سو کاروباری شخصیات کے خلاف کارروائی کا عندیہ دے رہی ہے تو یہ جاننے کیلئے کسی راکٹ سائنس کا علم ہونا ضروری نہیں کہ آنے والے دن تجارتی سرگرمیوں کے حوالے سے کیسے ہو سکتے ہیں؟ ضروری تو یہ بھی نہیں کہ سچ میں کوئی کارروائی ہو۔
پاناما لیکس کا معاملہ سامنے ہے کہ جہاں ایک خاندان کو نشانہ بنا کر باقی سیکڑوں کی جانب ہلکا سا اشارہ کرنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی گئی۔ یہ بات مگر یقینی ہے کہ عالمی تنہائی کے اس دور میں حکومت نہ چاہتے ہوئے بھی ایسے اقدامات پر مجبور ہو جائے گی جو فوری طور پر مہنگائی کا سبب بنیں گے۔ اختیارات پی ٹی آئی حکومت کا مسئلہ اس لیے نہیں کہ سب کچھ اداروں نے خود سنبھال رکھا ہے اور سول حکومت کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں بلکہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ انگلی پکڑ کر چلا رہے ہیں۔ ایک پیج کا دعویٰ تو بہت دور کی بات ہے، سب ایک ہی لائن پر موجود ہیں۔ مثالی ہم آہنگی کی بات کرنا اس لیے مناسب نہیں کہ سرتابی کرنے کی رتی برابر گنجائش سرے سے موجود ہی نہیں۔ بظاہر ہر لحاظ سے مکمل ہو کر آنے والا حکومتی سیٹ اپ پوری طرح سے اداروں کا مرہون منت ہے۔ ان حالات میں اگر یہ کہا جائے کہ ملک میں جمہوری اقدار تیزی سے فروغ پا رہی ہیں جو مستقبل میں مزید مضبوط اور مستحکم ہوں گی تو سوچنا پڑے گا کہ عوام اور خواص کے نزدیک جمہوریت کی تعریف اور تشریح ہی مختلف ہے۔ جنرل مشرف اکثر کہا کرتے تھے ’’جو میں کہتا ہوں وہی جمہوریت ہے، رہ گیا عالمی برادری کو مطمئن کرنے کا معاملہ تو ملک میں الیکشن کرا کے یہ لیبل بھی چسپاںکر دیا جائے گا‘‘۔ پھر ایسا ہی ہوا 2002ء کے عام انتخابات کے بعد ظفراللہ جمالی کو وزیراعظم بنایا گیا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں بااختیار وزیراعظم محمد خان جونیجو کے کردار کو سامنے رکھتے ہوئے یقینی بنایا گیا کہ جمالی ڈمی حکمران بن کر رہیں۔ اہل صحافت خوب جانتے ہیں کہ ظفراللہ جمالی وزیراعظم ہونے کے باوجود غیر سیاسی شخصیت کے ساتھ ساتھ اپنی پارٹی اور کابینہ کے بعض ارکان کو ’’باس‘ ‘ سمجھ کر ڈیل کرتے تھے۔ ظفراللہ جمالی وزارت عظمیٰ بچانے کے لیے یہ بھی کہا کرتے تھے کہ جنرل مشرف میرے باس ہیں۔ ظفراللہ جمالی وزیراعظم ہونے کے باوجود عملاً وفاقی دارالحکومت کے چند ایک معاملات کے متعلق بااختیار تھے۔ صوبوں میں ان کی کوئی نہیں سنتا تھا۔ اسلام آباد میں ان کا یہ مقام تھا کہ ایک مرتبہ کسی بات سے ناراض ہو کر انہوں نے ا س وقت کے ایس ایس پی کلیم امام کو تبدیل کرنے کا حکم دیا تو جنرل مشرف نے ناگواری کا اظہار کیا۔ وزیراعظم جمالی کو پیغام بھجوایا گیا کہ اس قسم کی حرکات سے باز رہیں۔
پاکستان سے مشرف آمریت کا سایہ ہٹنے سے پہلے پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی۔ اس سے قبل راولپنڈی میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی جان لینے کا انتہائی سنگین واقعہ رونما ہو چکا تھا۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے کچھ عرصہ بعد ہی جنرل مشرف کی ایوان صدر سے بھی چھٹی کرا دی اور آصف زرداری براجمان ہو گئے۔ پورے پانچ سال کا یہ دور ایک رولر کوسٹر کی طرح رہا۔ میڈیا مخصوص حلقوں سے ہدایات لینے کے بعد پی پی حکومت پر پل پڑا۔ پورا ملک دھماکوں کی زد میں تھا۔ آصف زرداری کو صدر پاکستان ہونے کے باوجود اپنی نقل و حرکت بے حد محدود رکھنا پڑی۔ سول حکومت کو تیز و تند چیف جسٹس افتخار چودھری کے جوڈیشل ایکٹوازم کا ایک حملے کی صورت میں سامنا تھا۔ دوسری طرف مسلح افواج سے بھی تنائو چلتا رہا۔ کیری لوگر بل اور ایبٹ آباد میں امریکی آپریشن کے بعد تویوں لگا سب کچھ لپیٹ دیا جائے گا۔ جیسے تیسے یہ دور گزرا اور 2013 ء میں پھر عام انتخابات ہوئے تو نواز شریف کی قیادت میں ن لیگ برسراقتدار آگئی۔ تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے والے نواز شریف کی ٹیم کے ارکان نہایت زیرک اور تجربہ کار تھے۔ یہ توقع کی جارہی تھی کہ جمہوری عمل حقیقی معنوں میں مضبوط ہو گامگر یہ خام خیالی ہی نکلی ۔2014 ء میں طاہر القادری اور عمران خان کے دھرنوں نے نظام کی چولیں ہلا دیں۔ بظاہر یہ دھرنے مبینہ انتخابی دھاندلی کے نام پر دیے گئے تھے مگر اس کے پس پردہ بعض عالمی مقاصد بھی تھے۔ دھرنوں سے حکومت بچ تو گئی مگر اپاہج ہو کر رہ گئی۔ نواز شریف حکومت کی کوشش رہی کہ کسی طرح بچتے بچاتے سی پیک معاہدہ ،لوڈشیڈنگ کا خاتمہ اور دیگر میگا منصوبے شروع یا مکمل کر لیے جائیں تاکہ الیکشن 2018 ء میں پھر سے کامیاب ہو کر مضبوطی کے ساتھ حالات کا سامنا کیا جا سکے۔ پاناما لیکس کے نام سے سامنے آنے والے انٹرنیشنل سکینڈل کے بعد وزیراعظم کے پورے خاندان کا تماشا بنا دیا گیا۔ مخصوص میڈیا گروپ اپنی مہم میں پہلے سے بھی زیادہ شدت لے آئے۔ عدالتیں روزانہ سماعت کرنے لگیں۔ نیب متحرک ہو گیا۔ مشہور زمانہ جے آئی ٹی بنی اور انجام کار نواز شریف پہلے نااہل کیے گئے پھر بیٹی سمیت جیل میں ڈال دیا گیا۔ ن لیگ نے الیکشن کیا لڑنا تھا اس کو تو اس تمام وقت میں لینے کے دینے پڑ گئے۔ رہی سہی کسر پولنگ ڈے پر آر ٹی ایس سسٹم نے نکال دی۔ کہنے کو تو تیسرا جمہوری دور مکمل ہو کے، مسلسل چوتھے دور میں چلا گیا مگر حقیقت صرف اتنی ہے کہ سول حکومت برائے نام رہ چکی۔ فیصلہ سازی کہیں اور ہورہی ہے۔ اس حکومت کے وزیراعظم ہوں یا وزراء، طے شدہ سکرپٹ سے ایک انچ ادھر ادھر نہیں ہٹ سکتے۔ اب تو حکومت گرانے یا کمزور کرنے کے لیے کسی دھرنے، دنگے کی بھی ضرورت نہیں۔ کوئی بھی کسی بھی وقت نیب کی زد میں آسکتا ہے اور تاحیات نااہلی ہو سکتی ہے۔ رہ گئی نئے پاکستان کی خالق پی ٹی آئی تو یہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کہ یہ موجودہ دورکی ق لیگ ہے۔ اشارہ ہوتے ہی اس کے کم از کم 80فیصد ارکان خم ٹھونک کر اپنے ہی پارٹی سربراہ اور وزیراعظم کے سامنے آجائیں گے۔ آزاد تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ سول ڈھانچے میں کوئی کتنے ہی بڑے عہدے پر کیوں نہ ہو اسے طے شدہ گائیڈ لائن کے مطابق چلنا ہو گا۔ ہر شعبے کے حوالے سے وہی اقدامات کیے جائیں گے جن کی پیشگی منظوری لی گئی ہو گی۔ حکومت کااپنا اختیار بھی ہو گا،چھوٹے، موٹے ترقیاتی کاموں اور بلدیاتی امور میں کسی حدتک فری ہینڈ ملے گا۔خطے میں کیا ہورہا ہے؟ اس سے کم از کم سول حکومت اور عوام کو کوئی غرض نہیں ہونی چاہیے۔ مہنگائی مزید بڑھے گی کیونکہ ملک چلانے کیلئے باہر سے امداد ملنے کے امکانات ہر گزرتے دن کے ساتھ محدود ہوتے جا رہے ہیں۔ عالمی دبائو بڑھتا جارہا ہے۔ سارا پیسہ ملک سے ہی نکالنا ہے تو اس کے براہ راست متاثرین عوام ہی ہونگے۔ دیکھنا تو یہ ہے کہ نئے پاکستان کا نیا نظام کب تک اور کیسے چل پاتا ہے۔؟