26 ستمبر 2018
تازہ ترین

نئے پاکستان میں پرانے انداز نئے پاکستان میں پرانے انداز

میں ہی نہیں، مجھ جیسے بہت سے لوگ اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ عمران خان ایک اچھے اپوزیشن لیڈر ثابت ہو سکتے ہیں لیکن وزیراعظم بننا ان کی قسمت میں نہیں۔ اس سوچ کو بہت سے نجومیوں اور سیاسی پنڈتوں نے یہ کہہ کر تقویت دی کہ عمران خان کے ہاتھ میں ایسی کوئی لکیر نہیں جو نشاندہی کرے کہ وہ اس اعلیٰ منصب تک پہنچ سکیں گے، لیکن انسان کچھ سوچتا ہے اور قدرت کچھ اور۔۔۔ تمام اندازے دھرے رہ گئے اور وہ اپنی تمام تر غلطیوں، یوٹرن کو روندتے ہوئے وزیراعظم کی کرسی پر براجمان ہو گئے۔ اب تضادات کا تماشا کھل کر سامنے آ چکا ہے، جس قومی اسمبلی کو چوروں، لٹیروں اور ڈاکوؤں کا ایوان قرار دیا جاتا رہا تھا، اسی کے خان صاحب قائد ہیں۔ جو پارلیمنٹ کے احترام اور بالا دستی کی بات کرتے تھے وہ الیکشن 2018ء جیتے یا ہارے، اسے جعلی اسمبلی گردان رہے ہیں اور اس تنقیدی رویے کے سب سے بڑے پہلوان حضرت مولانا فضل الرحمان صدارتی امیدوار بن کر اسمبلی ممبران کے دروازے پر ووٹ مانگتے بھی دیکھے گئے۔ سیاست میں کبھی کوئی چیز ناممکن نہیں ہوتی۔ اس لیے سمجھدار سیاستدان دروازے ہی نہیں کھڑکیاں بھی کھلی رکھتے ہیں یعنی نئے پاکستان کی ابتدا میں ہی ’’یوٹرن‘‘ پر اعتراض کرنے والوں نے بھی اسے اپنا لیا۔ اس طرح یوٹرن جائز قرار پایا، تب ہی تو حضرت مولانا نے صدارتی الیکشن میں جعلی اسمبلی کے ارکان سے فخریہ انداز میں ووٹ مانگے اور انہیں کسی قسم کی ندامت بھی نہیں بلکہ ان کا مطالبہ تھا کہ وہی اس منصب کے حقیقی حقدار ہیں۔ اس لیے مد مقابل دستبردار ہو جائیں۔ یقیناً یہ انداز پرانا تھا اور ایسا جمہوری روایات میں کبھی نہیں ہوتا۔ ہر شخص کو آئین پاکستان کی حدود میں رہتے ہوئے الیکشن لڑنے کی اجازت ہے۔ اسی طرح ضمنی انتخابات میں بھی الیکشن اور اسمبلیوں کو جعلی قرار دینے والوں کے امیدوار قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔ دعویٰ یہی ہے کہ میدان خالی چھوڑ کر ’’تحریک انصاف‘‘ یا کسی بھی سیاسی پارٹی کو ’’واک اوور‘‘ نہیں دے سکتے۔ شاید آپ لوگوں کو یاد ہو، میں نے الیکشن 2018ء کے انعقاد پر اپنی ’’جمع تفریق‘‘ میں نشاندہی کر دی تھی کہ موجودہ بے یقینی میں بھی کوئی جماعت الیکشن کے بائیکاٹ کی ہمت نہیں کرے گی اور یہ انتخابات ’’وکھری ٹائپ‘‘ کے ہونگے، الحمد للہ۔۔۔ یہ بات آج بھی ویسی ہی ہے۔
نئے پاکستان کے نعرے، دعووں اور وعدوں میں تحریک انصاف نے کامیابی حاصل کر کے اپنے قائد عمران خان کو وزیراعظم پاکستان بنوایا، لیکن اس نئے پاکستان کی اٹھان میں ابتدا ہی سے انداز پرانے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے پہلے خطاب میں تقریباً وہی کچھ دوہرایا جو کھلے میدانوں اور جلسوں میں کہتے تھے۔ صرف قوم پر احسان یہ ہوا کہ روایتی موسیقی اور ملی نغمے استعمال نہیں کیے گئے۔ ایم۔ کیو۔ ایم کے کوٹے میں وفاقی وزارت حاصل کرنے والے فروغ نسیم پہلے پاکستان کے زبردستی کے صدر پرویز مشرف کو بہانے بہانے ایم۔ کیو۔ ایم کی قیادت دلانے کی کوشش کرتے رہے اور جب بات نہیں بنی تو خود ایم۔ کیو۔ ایم میں شامل ہو کر وزارت تک پہنچ گئے۔ ایسے میں پرویز مشرف کی وکالت بھی کرتے رہے، لیکن تنقید کے باعث انہیں غداری مقدمے سے اپنا وکالت نامہ واپس لینا پڑ گیا۔ اسی طرح پرویز مشرف کی چہیتی زبیدہ جلال سمیت شیخ رشید، فواد چودھری، شفقت محمود، خالد مقبول صدیقی، خسرو بختیار، ڈاکٹر عشرت، طارق بشیر چیمہ اور غلام سرور خاں وزراء و مشیروں میں شامل ہیں، یعنی نئے پاکستان میں نئی روایات ڈالنے کیلئے اکثریت زبردستی کے صدر کے وفاداروں کی ہے۔ یہی نہیں تحریک انصاف سے ایم۔ کیو۔ ایم کا سیاسی نکاح بھی فروغ نسیم کا کارنامہ ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ ماضی کی رابطہ کمیٹی کے کرتا دھرتا ڈاکٹر فاروق ستار کو مریض بنانے کا کارنامہ بھی فروغ نسیم ہی کا ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ اسی طرح فہمیدہ مرزا، فواد چودھری، بابر اعوان اور شاہ محمود قریشی بنیادی طور پر پیپلز پارٹی کے سابق جیالے ہیں۔ موجودہ دور میں عمران خان وزیراعظم 22سالہ جدوجہد اور حکومتوں کی اصولی مخالفت پر منتخب ہوئے ہیں، لیکن ان کے گردو نواح میں کابینہ کے اکثریت چہرے وہی ہیں جو پہلے ’’پاکستان‘‘ کا چہرہ بگاڑنے میں پیش پیش رہ چکے ہیں۔ ایسے میں بھی معصوم عوام ’’نئے پاکستان‘‘ کا خواب پورا ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ ہم تو صرف دعا کر سکتے ہیں کہ کاش ان مفادات کے قیدیوں کو اللہ تعالیٰ ملک اور اپنے آپ کو سدھارنے کے مواقع پیدا کر دے۔ وہی تو ہے جو نظام ہستی چلار ہا ہے، وہ دن کو راتیں اور راتوں کو دن بنا رہا ہے تو بگڑوں ہوؤں کو راہ راست پر کیوں نہیں لا سکتا۔ یقین جانیے کہ اپنا ایمان ہے کہ لولی لنگڑی جمہوریت آمریت سے بہتر ہے لیکن جب نئے ’’روڈ میپ‘‘ میں بھی پرانے چہرے دکھائی دیتے ہیں تو دل میں وسوسے اور خدشات اس لیے پیدا ہوتے ہیں کہ اگر ان لوگوںکے پاس جمہوریت، عوام، عام آدمی کی فلاح و بہبود اور مملکت کے استحکام کیلئے کوئی فارمولا تھا تو ان لوگوں نے آمریت کی چھتری تلے ایسے کام کیوں نہیں کرائے جو اجتماعی مفادات اور قوم، ملک، سلطنت کیلئے سود مند تھے۔ محترم وزیراعظم عمران خان بھی ماضی میں زبردستی کے صدر پرویز مشرف کے سحر میں گم رہ چکے ہیں۔ ان کے قریبی اتحادی چودھری برادران بھی ایک نہیں، دس بار وردی میں مشرف صاحب کو صدر بنوانے کے حامی تھے اور مفاہمتی سابق صدر آصف علی زرداری کی حکومت میں بھی موجود تھے۔ انہوں نے بھی حدود سے بالاتر ہو کر چودھری پرویز الٰہی کو نائب وزیراعظم کا خصوصی رتبہ عطا فرمایا تھا۔ ہم یہ بات بخوبی جانتے ہیں کہ سیاست میں کوئی شے اور فیصلہ آخری نہیں ہوتا بلکہ ماضی کے دشمن کسی وقت بھی دوست بن سکتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ صرف اسد عمر، عامر کیانی اور شیریں مزاری جیسے ’’کوراٹر درجن‘‘ خالص کھلاڑی دوسرے سیاسی مہاجرین کی چالوں سے کس طرح عمران خان کو بچا سکیں گے۔ ویسے بھی حکومت نے سندھ کو نظر انداز کرتے ہوئے پرانے نسخے کے تحت صرف کراچی کی پذیرائی کیلئے ایم۔ کیو۔ ایم کا سہارا لیا ہے، لہٰذا حالات یہ بتا رہے ہیں کہ وفاقی کابینہ میں بھی جلد عمران خان کو اپنے نئے وزراء کا ’’گلوکوز‘‘ لگانا پڑے گا لیکن ابھی عمران خان اس قدر مضبوط نہیں لگ رہے۔ انہیں ’’نیا پاکستان‘‘ بنانے کیلئے ایوان میں اکثریت قائم رکھنی ہے۔ اس لیے کابینہ کا حجم بڑھانے کا فیصلہ جوں ہی فائنل ہو گا، سیاسی مہاجرین اور اتحادی پھر سر اٹھائیں گے اور فیصلے ایک مرتبہ پھر سیاسی مصلحت اور حالات کے تقاضوں کے مطابق ہی کیے جا سکیں گے جو ’’نئے پاکستان‘‘ کی راہ ہموار نہیں ہونے دیں گے اور بد دلی، خدشات و تحفظات کو جنم دیں گے۔ اس سوچ کا سب سے بڑا ثبوت میڈیا اور اس کے فاتحین اینکرز کا رویہ ہے جو عمران خان کے اقتدار کے پہلے عشرے کے بعد ہی اس قدر بدل گئے کہ وزیراعظم کو تین ماہ کی مہلت مانگنا پڑ گئی۔ حالانکہ انہیں سو دنوں کا استثنیٰ پہلے ہی قوم نے دے رکھا ہے۔ قوم مستقبل کا فیصلہ عمران خان کے اعلان کے مطابق سو روز کو دیکھ کر کریں گے، لیکن ابتدا میں ہی تنقید لمحہ فکریہ ہے۔