21 اکتوبر 2018
تازہ ترین

نئے پاکستان میں پرانا آئی ایم ایف نئے پاکستان میں پرانا آئی ایم ایف

آئی ایم ایف اور مارشل لا میں ایک قدر مشترک ہے کہ یہ جس ملک میں ایک بار آجائیں، وہاں ان کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔ پاکستان میں آئی ایم ایف کی تاریخ مارشل لا جتنی پرانی تو نہیں لیکن 1988کے بعد سے جس تواتر سے اس کے پروگرامز ہم لینے پر مجبور ہورہے ہیں، اسے دیکھتے ہوئے یہ قیاس کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں کہ عنقریب آئی ایم ایف کے پروگرامز کا دورانیہ اتنا ضرور ہوجائے گا جتنا ہمارے ہاں براہ راست مارشل لا رہا ہے۔ 1988 سے لے کر سابق نواز حکومت تک ہم آئی ایم ایف کے 12مختلف قرضہ جاتی پروگرامز لے چکے جو خطے کے دیگر تمام ممالک کے مجموعی پروگراموں سے بھی زیادہ ہیں۔ بھارت نے ابھی تک آئی ایم ایف کا صرف ایک پیکیج لیا ہے جبکہ نیپال اور بنگلادیش جیسے ممالک دو بار آئی ایم ایف سے رجوع کرچکے ہیں۔ پاکستان اور آئی ایم ایف اس طرح لازم و ملزوم ہوچکے کہ1988سے لے کر اب تک کی تمام حکومتیں اس عالمی ادارے کے پاس جانے پر مجبور ہوتی رہی ہیں۔ حکومتوں کے حوالے سے بات کریں تو بے نظیر بھٹو کے دو ادوار میں مجموعی طور پر آئی ایم ایف کے6 مختلف قرضہ جاتی پروگرامز لیے گئے۔ نواز کے تین ادوار میں تین جبکہ مشرف کے دور میں دوبیل آئوٹ پیکیجز لیے گئے۔ ایک بیل آئوٹ پیکیج زرداری دور میں لیا گیا۔
آئی ایم ایف ملکی معیشتوں اور ان کی باہمی کارکردگی، بالخصوص زرمبادلہ اور بیرونی قرضہ جات پر نظر رکھتے ہوئے خسارے میں جانے والی معیشتوں کو قرضے اور تکنیکی معاونت فراہم کرتا ہے۔ یہ 1945 میں قائم ہوا، اس کے قیام کا فوری پس منظر تو ان یورپی معیشتوں کی مالی و تکنیکی مدد تھا جو جنگ عظیم دوم کے باعث شدید مالیاتی بحران کا شکار ہوگئی تھیں، لیکن جلدہی اس ادارے نے اپنا دائرہ کار دنیا بھر تک پھیلادیا۔ شمالی کوریا، کیوبا اور چند ایک چھوٹی ریاستوں کے علاوہ دنیا کے قریباً تمام ممالک آئی ایم ایف کے باقاعدہ رکن ہیں۔ آئی ایم ایف کے فیصلوں کے لیے کی جانے والی رائے شماری میں ووٹنگ کی غیر مساوی و غیر منصفانہ تقسیم کے باعث اس ادارے پر بڑی معاشی طاقتوں کا مکمل راج ہے۔ اس میں شامل ہر ایک ملک کو ایک ملک ایک ووٹ کا حق ملنے کے بجائے ملک کے جی ڈی پی، زرمبادلہ کے ذخائر اور برآمدات و درآمدات کی مقدار کے حساب سے ووٹ ملتے ہیں۔ امریکا، برطانیہ، چین، فرانس اور جاپان کے مجموعی ووٹ کل ووٹوں کا 40 فیصد بنتے ہیں۔ صرف امریکا کے ووٹ کل ووٹوں کا قریباً 18فیصد بنتے ہیں۔ سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان سمیت معاشی طور پر دنیا کے20 بڑے ممالک کے پا س کل ووٹوں کا قریباً 70 فیصد حصہ ہے، بقیہ 165 ممالک کے پاس صرف 30فیصد ووٹ ہیں۔ معاشی اعتبار سے دنیا کے پہلے 20بڑے ممالک میں صرف ایک مسلم ملک سعودی عرب شامل ہے، جس کے پاس3.17 ووٹ ہیں۔ بھارت کے پاس قریباً دو ووٹ ہیں۔
ماضی کی پاکستانی حکومتوں کے برعکس موجودہ حکومت کے آئی ایم ایف سے رجوع کرنے میں ایک بنیادی فرق یہ نظر آیا کہ نئی حکومت اس عالمی ادارے سے قرضے کے حصول کے لیے پیشگی شرائط تسلیم کیے جارہی ہے۔ بلاشبہ آئی ایم ایف کا قرضہ مشروط ہوتا ہے، لیکن عام طور پر حکومتیں قرضہ حاصل کرنے کے بعد بتدریج آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد کرتی ہیں، لیکن اس کے پاس نہ جانے کے دعوے کرنے والی حکومت اب پیشگی ہی اس کی شرائط من و عن قبول کیے جارہی ہے۔ میرے خیال میں حکومت شروع دن سے ہی آئی ایم ایف کے پاس جانے کا سوچ چکی تھی اور وزیراعظم کی معاشی کونسل میں عاطف میاں کا نام آئی ایم ایف سے پیشگی شرائط تسلیم کیے بغیر آسانی سے قرضے کے حصول کے لیے شامل کیا گیا تھا۔ یہ جو فواد چودھری ہمیں عاطف میاں کے حوالے سے قائد کے پاکستان کا حوالہ دیتے رہے، اس کے پیچھے یہی کہانی تھی۔ عاطف میاں کا نام واپس لینے کے بعد آئی ایم ایف سے آسانی سے قرضے کا حصول مشکل ہوتا نظر آیا تو حکومت نے آئی ایم ایف کو رام کرنے کے لیے پیشگی گیس کی قیمتوں میں اضافہ کردیا۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے قرض کے حصول کے لیے حکومت کے سامنے بجلی، پٹرول اور ڈالر کی قیمتوں میں اضافے سمیت 20شرائط رکھی ہیں، جن میں سے زیادہ تر شرائط کے معاملے میں حکومت نے عمل درآمد کی یقین دہانی کرادی ہے۔ آئی ایم ایف کے وفد کے جاتے ہی ڈالر کی قیمت میں اچانک تیزی سے ہونے والا ریکارڈ اضافہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ گیس، بجلی اور ڈالر کی قیمتوں میں اضافے سے ہی روزمرّہ اشیاء سمیت بہت سی چیزیں مہنگی ہوگئیں، جن کو برداشت کرنا غریب عوام کے لیے ہی سب سے مشکل ہے۔
آئی ایم ایف اپنے طور پر بحران کا شکار معیشت کو درست ڈگر پر لانے کے لیے کڑی شرائط عائد کرتا ہے لیکن اکثر اوقات یہ کڑی شرائط قرضے میں جکڑے ملک کی معاشی حالت سدھارنے کے بجائے اسے مزید بگاڑنے کا باعث بن جاتی ہیں۔ سود کی شرح بڑھانے سے غربت میں اضافہ ہوتا ہے جب کہ ٹیکس بڑھانے اور حکومتی اخراجات کم کرنے سے عوامی سہولتوں میں کمی آنے سمیت بے روزگاری بڑھتی ہے۔ زیادہ سے زیادہ قومی اداروں کی نجکاری کی شرط سے بے روزگاری بڑھنے سمیت ملکی اثاثے غیر ملکیوں کے پاس چلے جاتے ہیں۔ عالمی سرمائے کی ملک میں آمدورفت سے تمام پابندیاں ہٹانے کے نتیجے میں اسٹاک مارکیٹ میں عدم استحکام پیدا ہوتا ہے جب کہ عالمی مالیاتی اداروں کو زیادہ سے زیادہ آزادی دینے سے ملکی صنعتیں مفلوج ہوجاتی ہیں۔ آئی ایم ایف کے پیکیجز سے اکثر اوقات غریب ممالک کو اتنی رقم قرضے میں ملتی ہے جس سے وہ صرف اپنے موجودہ بیرونی قرضوں کا سود ادا کرسکتے ہیں۔ پاکستان کے ذمے بیرونی قرضے 28 ہزار ارب سے تجاوز کررہے ہیں جب کہ آئی ایم ایف کے حالیہ پیکیج سے ہمیں تین برس میں کُل ایک ہزار ارب روپے بھی نہیں ملنے۔ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط پر عمل درآمد کرنے سے ملکی معیشت کو تو کسی حد تک سنبھالا دیا جاسکے گا، تاہم یہ سنبھالا مہنگائی اور غربت میں اضافے سمیت عام آدمی کے معیار زندگی میں کمی کی قیمت پر ملے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا کے چند ایک ممالک آئی ایم ایف کے پیکیجز سے اپنی معیشتوں کو بحرانی کیفیت سے نکالنے میں کامیاب ہوچکے ہیں لیکن وہ ہماری طرح پچھلی دو دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مصروف رہے اور نہ اپنے سے کئی گنا بڑی معیشت (بھارت) سے فوجی اور دفاعی شعبے میں مقابلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔