20 نومبر 2018
تازہ ترین

نئی حکومت۔۔۔ امیدِ سحر نئی حکومت۔۔۔ امیدِ سحر

نئی حکومت قائم ہوچکی۔ ملک موجودہ وقت شدید مشکلات کا شکار ہے۔ معاشی لحاظ سے صورت حال ڈھکی چھپی نہیں۔ خزانے کے حالات بھی عیاں ہیں اور حالت یہ ہے کہ ہم تاریخ کے سب سے بڑے قرض تلے دب چکے ہیں۔ ملکی خزانے کو بیدردی سے لوٹا گیا۔ ایک پل کے لیے بھی کسی کے گمان میں نہیں آیا کہ اس ملک میں رہنے والوں کا کیا بنے گا؟ آئندہ نسلوں کا کیا ہوگا؟ پانی سے لے کرتعلیم تک ہر معاملہ مسئلے میں ڈھل چکا ہے۔ افسوس لوٹنے والوں کو احساس نہیں کہ ہم نے کیا کیا؟ وہ آج بھی اپنے اقتدار کے کھوجانے کا ماتم منانے میں مگن ہیں۔ بہرحال نئی حکومت کے سامنے آسان حالات نہیں اور نہ ہی ایسا وقت ہے کہ پہلے حکومت میں آنے کا جشن منایا جائے، پھر سوچا جائے کہ کیا کرنا ہے۔ معاشی طور پہ فوری فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم سب کو کسی نہ کسی طرح کی قربانی دینا ہوگی۔ 
خوشی کی بات یہ کہ وزیراعظم نے ابتدا کردی ہے، اب سب کو سادگی کے بارے میں سوچنا ہوگا۔ بظاہر یہ سب چھوٹے چھوٹے کام لگ رہے ہیں لیکن اگر یہی کام پہلے کے حکمرانوں نے کیے ہوتے تو آج ہم مقروض ہوتے اور نہ ہماری نسلیں اپنے مستقبل کے لیے پریشان ہوتیں۔ مجھے یقین ہے کہ عمران خان ان چیلنجز سے نمٹنے کا عزم رکھتے ہیں، وہ بہترین فائٹر ہیں، ان کا کرکٹ کیریئر گواہی دیتا ہے کہ انہوں نے کبھی بھی بغیر کھیلے ہار نہیں مانی اور نہ ہی وہ کھیلتے ہوئے گھٹنے ٹیکنے کے عادی تھے۔ وہ اللہ پہ پختہ یقین رکھتے اور پُرعزم انسان ہیں۔ ان میں یہ صلاحیت بھی ہے کہ وہ جو فیصلہ کرتے ہیں مضبوطی سے اس پہ قائم رہتے ہیں۔
جب لیڈر ایمان دار اور جیت کے لیے خلوص اور ہمت کے ساتھ فیصلے کرے تو اقوام کو شکست نہیں ہوتی۔ پاکستان کا وجود میں آنا حیرت انگیز بھی تھا، اکثریت اور طاقت کے ساتھ اقلیت لڑرہی تھی۔ ہندوئوںکی تعداد اور انگریزوں کے وسائل دونوں ہی زیادہ تھے۔ اس کے باوجود بھی پاکستان معرضِ وجود میں آگیا تھا، اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ لیڈر بہت کمال کے تھے، قائداعظمؒ کا خلوص اور دیانت پاکستان کے معرضِ وجود میں آنے کے بڑے سبب تھے۔ بعدازاں نام نہاد جمہوریت کی آڑمیں ملکی وسائل کو بیدردی سے لوٹا گیا، عیش وعشرت اور ذاتی ترقی کے لیے شب وروز کام کیا لیکن وطنِ عزیز کے بارے میں خلوص سے سوچنا انہیں جرم لگتا تھا۔ کسی بھی قوم کوترقی یافتہ بننے کے لیے سوسال کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔ اب ہم 71 برس گزارچکے ہیں، امید ابھری ہے کہ ہم ایک ایسی قوم بننے کی طرف بڑھ رہے ہیں جہاں جمہوریت کے حقیقی معنی ہماری سمجھ میں آجائیں گے۔ 
عمران خان کا وزیراعظم بننا ایک بڑی تبدیلی ہے۔ اب حالات اس سمت بڑھنے لگے ہیں، جہاں موروثی سیاست میں دراڑ پڑتی نظر آرہی ہے۔ عمران خان نے اچھی باتیں کیں لیکن ان پہ عمل کرکے قوم کا وہ اعتماد جیتنا ہوگا جسے پچھلے حکمرانوں نے برباد کرکے رکھ دیا تھا۔ دنیا میں سب سے مشکل کام لوگوں کے اعتماد پہ پورا اترنا ہے، بالخصوص ان کے جوآپ سے محبت بھی کرتے ہوں اور توقعات بھی وابستہ کیے بیٹھے ہوں۔ عوام نے موروثی سیاست کا خاتمہ کرکے عمران خان کے وژن کو ووٹ دیا ہے۔ وہ اس جھوٹ اور لوٹ مار سے اُکتاچکے تھے، وہ تھک گئے تھے سیاست دانوں کے جھوٹ اور بے مقصد وعدوں سے، اب وہ تبدیلی چاہ رہے تھے۔ عمران خان کی صورت انہیں ایسا لیڈر میسر آگیا، جسے اقتدار میں لاکر انہوں نے اپنا فرض پورا کیا۔ اب عمران خان اور تحریک انصاف کے لیڈران وکارکنان اپنا کام ایمان داری سے کریں۔ عمران خان نے وزیراعظم ہائوس میں نہ رہ کر اپنے وعدوں کو پورا کرنے کی طرف قدم بڑھادیا ہے۔ تمام گورنرہائوسز بھی پہلے کی طرح استعمال نہیں ہوں گے۔ یہ اچھے اقدام ہیں۔ اسی طرح انہوں نے تعلیم میں بھی ایمرجنسی کے نفاذ کی بات کی، یہ مثبت ہے۔ بس ان سب پہ عمل شروع ہونا چاہیے تاکہ اترے ہوئے چہروں پہ رونق بکھرجائے۔
پہلی بار ایسا ہوا کہ حلف برداری کی تقریبات سے لے کر میٹنگز میں پانی یا چائے بسکٹ پہ گزارا کیا گیا۔ میرے خیال سے یہ پروفیشنل سوچ ہے۔ عمران خان کے کندھوں پہ بھاری ذمے داری ہے، لوگوں نے ان حکمرانوں سے جان چھڑائی ہے جو ملک کو اپنی جاگیر سمجھ کر چلارہے تھے۔ اب ہرادارے کو اپنا کام صحیح انداز میں کرنا ہوگا۔ بلاشبہ امید پیدا ہونے لگی ہے کہ ہم ان شاء اللہ بہت جلد ترقی کی طرف بڑھنے لگیں گے۔ یہ ترقی وہ نہیں ہوگی جو صرف دوچار خاندانوں میں نظرآئے گی۔ امید ہے اب جو ترقی ہوگی بائیس کروڑ عوام کے لیے ہوگی۔ عمران خان کو مضبوط فیصلے کرنے اور ہرچیز کو مانیٹر کرنے کی ضرورت ہے۔ انہیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ فیصلے صرف سرکاری ملازمین کے لیے ہی نہ ہوں بلکہ عوام کا بڑا حصہ پرائیویٹ سیکٹر میں بھی خدمات انجام دے رہا ہے۔ مہنگائی سب کے لیے ایک سی بڑھتی جب کہ تنخواہ صرف گورنمنٹ سیکٹر میں بڑھتی ہے۔ اس نظام کو مانیٹر کرنے کی اشد ضرورت ہے، یہ بہت اہم مسئلہ ہے۔ امید ہے کہ عمران خان اس بات پہ بھی توجہ دیں گے۔ نئی حکومت کی کامیابی کے لیے دعاگوہوں اور یہ بھی امید کرتا ہوں کہ عمران وعدے پورے کریں گے۔