13 نومبر 2018

نئی حکومت… نئی حکومت…

عمران خان نے 22 سال تک مسلسل جدوجہد کی۔ بدعنوانی سے پاک اور خوشحال قوم کا خواب تھا۔ شدید مشکلات کے باوجود تحریکِ انصاف نے ناقابلِ یقین اکثریت حاصل کی۔ پاکستانیوں اور پوری دنیا کے لیے عمران خان اور پی ٹی آئی کی کامیابی، قابلِ تقلید مثالیں ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں میں بدقسمتی سے عمران خان پاکستانی سیاست میں کچھ حاصل نہ کرسکے، لیکن اس پرعزم رہنما سے آنے والے وقت میں بہت کچھ حاصل ہونے کی توقع رکھی جاسکتی ہے۔ اگرچہ سماجی و اقتصادی اعداد و شمار کچھ اور کہانی بیان کررہے ہیں، لیکن موجودہ صورت حال ہر حوالے سے خوش کن اور امید افزا ہے۔
عمران خان کی سیاست کا آغاز ہی عام سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کے برعکس ہوا۔ وہ آکسفورڈ سے زندگی کی شروعات کرنے والے گریجویٹ ہیں۔ پیشہ ور کرکٹر جس نے 1992میں قومی ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے ورلڈکپ جتوایا۔ کرکٹ ہال آف فیم میں داخل ہوئے۔ 1983میں انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس اور 1992میں ہلالِ امتیاز سے نوازا گیا۔ عمران خان نے اقوامِ متحدہ کے نمائندہ کے طور پر صحت اور کھیل کے شعبوں میں خدمات سرانجام دیں، اقوامِ متحدہ کے یہ ادارے جنوب مشرقی ایشیاء میں کئی مختلف منصوبوں پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔ کینسر ہسپتال کا آغاز کیا جو آج تک کینسر کے علاج کے حوالے سے عمدہ ترین مثال ہے۔ میانوالی میں نمل یونیورسٹی بھی قابلِ ذکر ہیں۔ 
عمران خان نے 1996میں تحریکِ انصاف کی بنیاد رکھی تھی۔  22سال بعد پی ٹی آئی کامیاب ہوئی۔ بہت سے دیگر لوگوں کے ساتھ شریف خاندان کو عدالتی عمل میں ڈال دیا گیا جبکہ احتساب کا عمل قوم کی توجہ کا حامل ہوگیا۔ پی پی پی اور ایم کیو ایم نے اپنا ووٹ بینک پی ٹی آئی کے امیدواروں کے ہاتھوں کھودیا۔ خیبر پختونخوا میں عوام نے ایک بار پھر پی ٹی آئی کو اکثریت پسند جماعت کے طور پر بر قرار رکھا ہے۔ تحریکِ انصاف نے پاکستان بھر میں فتح حاصل کی اور شفافیت، ایمان داری اور احتساب کے رجحان کو فروغ ملا۔ 
عالمی بینک کے ایک سینئر نمائندے نے کہا تھا کہ پاکستان بدعنوانی پر قابو پالے تو اسے بیرونی دنیا سے قرض لینے کی ضرورت نہ رہے۔ 2013ء سے اب تک خصوصاً عمران خان پر کسی قسم کا مالی بے ضابطگی یا غیر قانونی اقدام کا الزام نہیں لگا۔ جب سے انہوں نے کے پی کے کے انتظامی امور دیکھنا شروع کیے، حکومتی معاملات میں شفافیت اور اہلیت کے کلچر کو پروان چڑھایا جبکہ اس کے برعکس پورے پاکستان خصوصاً سندھ اور پنجاب میں حکومتی عہدے اقربا پروری اور برادری ازم کی بھینٹ چڑھائے جاتے رہے۔ خصوصاً پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ خاندانی پارٹیوں کے طور پر سامنے آئیں۔ پی ٹی آئی 35سال بعد ایک تازہ ہوا کے جھونکے کی طرح متعارف ہوئی۔
ماضی میں سینئر سرکاری ملازمین نے کرپشن اور فساد کے لیے راستہ ہموار کیا۔ سیاست دان کرپٹ ہوسکتے ہیں یا نہیں لیکن یہ سرکاری ملازمین ہیں جو ان کے آلۂ کار بن جاتے ہیں۔ آئینِ پاکستان کے تحت عوامی خواہشات کے برعکس منتخب وزیر کے بجائے سینئر سرکاری افسر مالی طاقت کا حامل ہوتا ہے۔ سرکاری ملازمین کو سیاست سے پاک ہونا چاہیے۔ بیوروکریسی کو صرف قانون کی عمل داری کا پاسدار اور مملکت کے شہریوں کے حقوق کا وفادار ہونا چاہیے۔ دوسری طرف اگر سیاستدان دو تہائی اکثریت سے کسی متنازع اور ملکی مفاد سے متصادم قانون کو منظور کرالیں تو یہ سرکاری افسران کی ذمے داری ہے کہ وہ ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے بہتر قوانین لاگو کرائیں۔ 
ایسا لگتا ہے کہ عمران خان بنیادی انتظامی اصولوں پر عمل کررہے ہیں جس کی بدولت صحیح کام کے لیے صحیح لوگ دستیاب ہوں گے۔ اندرونی اور بیرونی دنیا کے اندازوں کے مطابق عمران خان اور ان کی ٹیم کو غیر معمولی امید کے ساتھ لیا جارہا ہے۔ برازیل جیسے ممالک میں پاناما لیکس میں ملوث افراد کی نااہلی کے بعد مسلم لیگ (ن)کی قیادت کے ساتھ ایسا ہونا غیر متوقع نہ تھا۔ بدعنوانی اور مالی بے ضابطگیوں کے باعث سرکاری اور نجی سرمایہ کاروں کے لیے مسلسل مایوس کن صورتِ حال تھی۔ اس مرحلے پر پی ٹی آئی ایسی متبادل قیادت کو سامنے لارہی ہے جو مالی نظم و ضبط کا بہترین ریکارڈ رکھتی ہے۔ سٹاک مارکیٹوں میں انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے ساتھ ہی بہتری دیکھنے میں آئی۔ سی پیک کے ذریعے بڑی سرمایہ کاری پاکستان آرہی ہے جب کہ اب بہت سی ملٹی نیشنل کمپنیاں سندھ اور پنجاب کے صنعتی شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے میں دلچسپی ظاہر کررہی ہیں۔ نئی حکومت کو ان خوش آئند مواقع سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے اسے غریب آبادی کے حق میں استعمال کرنا چاہیے۔ 
چینی حکومت کو سی پیک منصوبوں کے متعلق تاخیر اور سیکیورٹی کے ناکافی انتظامات نے تشویش کا شکار کردیا تھا۔ پی ٹی آئی کو اس حوالے سے نئے ولولے سے کام لیتے ہوئے قدم آگے بڑھانا چاہیے۔ ایک مؤثر اور شفاف حکومت مالیاتی فوائد میں اضافہ کرسکتی ہے، جیسے کہ پی ٹی آئی قیادت نے اپنے پہلے سو دن کے ایجنڈے میں اعلان کیا ہے۔ پاکستان تاریخ کے بدترین مالی بحران کاسامنا کررہا ہے۔ خارجہ پالیسی بھی غیر مستحکم ہے۔ امریکا افغانستان میں اپنی ناکامی کا نزلہ پاکستان پر گرا رہا ہے۔ بھارت پاکستان کے خلاف عالمی سطح پر دہشت گردی کا پراپیگنڈا کرنے اور سرحدی علاقوں کے ساتھ بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں میں مصروف ہے۔ تمام تر خطرات کے باوجود ایسے مواقع بھی ہیں جو ان پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے کافی ہیں۔ چین سی پیک اور اوبور منصوبوں کو توسیع دے رہا ہے۔ ایک بار پھر چین نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کی فعال شمولیت کے بغیر ان منصوبوں کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ وسط ایشیائی ممالک سمندر اور سڑکوں کے ذریعے پاکستان کے ساتھ تجارتی راستے کھولنے میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں۔ بہت سی رپورٹس میں معروف آئل کمپنیوں نے بلوچستان کو قابلِ قدر تیل کے ذخائر کی آماجگاہ قرار دیا ہے۔ 
ملکی مالی ذخائر کے حوالے سے وزیرِ خزانہ اسد عمر نے بیرون ممالک بسنے والے پاکستانیوں سے اپیل کی کہ وہ سرمایہ کاری کے ذریعے اس نازک صورتِ حال سے نکلنے میں اپنے ملک کی مدد کریں جبکہ اس کے عوض انہوں نے سخت محنت اور شفافیت پر مبنی نظامِ حکومت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ متوازن نقطۂ نظر کے مطابق یہ حقیقت ہے کہ صرف بیانات انتظامی مسائل کا حل نہیں ہو سکتے، لیکن اس قسم کی توانائی، عزم، صلاحیت اور قیادت کے نئے باب کے ساتھ پاکستان کو دنیا فتح کرنے کے لیے کچھ کھونا نہیں پڑے گا۔