میں اکیلا شرابی نہیں میں اکیلا شرابی نہیں

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کراچی میں نجی ہسپتال پر اچانک چھاپہ مارا تو ایک مریض کے کمرے سے شراب کی بوتلیں اور بعض ممنوعہ اشیاء برآمد ہو گئیں۔ یہ مریض دراصل جیل میں بند تھے مگر اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے علاج کیلئے ہسپتال کے پُرتعیش کمرے کو سب جیل قرار دلوانے کے بعد وہیں مقیم ہو گئے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے تیز طرار سابق صوبائی وزیر شرجیل میمن پر اربوں روپے کے غبن کے مقدمات ہیں۔ ان کے کھلے عام شراب نوشی کے متعلق عام لوگوں کو اس وقت علم ہوا جب وہ بطور وزیر ہی مفرور ہو کر لندن میں پناہ گزین ہو گئے تھے۔ پی ٹی آئی کے ایک سر پھرے نے شراب خانے میں شرجیل میمن کی موجودگی اور پھر ان کے باہر آنے پر ننگی گالیوں سے تواضع کرنے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دی تھی۔ اب صوبائی وزیر عمران شاہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ شرجیل میمن کے کمرے سے بوتلیں تو شراب کی ہی برآمد ہوئیں مگر انکے اندر شہد اور زیتون کا تیل تھا۔ موصوف نے پی ٹی آئی کے دبنگ رہنما علی امین گنڈا پور کی یاد تازہ کر دی۔ پاناما معاملے پر اسلام آباد لاک ڈاؤن کی کوششوں کے دوران پولیس نے کریک ڈاؤن کیا تو سرزمین ڈیرہ اسماعیل خان کا یہ سپوت سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ کھڑا ہوا، بعد میں گاڑی کی تلاشی لی گئی تو شراب مع و دیگر لوازمات کا تھیلا نکل آیا۔ اس وقت سے اب تک بلکہ تا حکم ثانی صادق اور امین رہ کر پھر سے رکن اسمبلی بننے والے علی امین گنڈا پور نے بھی یہی موقف اختیار کیا تھا کہ شراب کی بوتلوں میں شہد تھا۔ پچھلے کئی دنوں سے یہ تاثر عام ہے کہ پی ٹی آئی اور پی پی پی فرینڈلی میچ میں مصروف ہیں۔ دونوں ایک دوسرے کیلئے راستے بنا رہی ہیں۔ تازہ مثال صدارتی الیکشن کی ہے۔ جہاں پیپلز پارٹی نے اعتزاز احسن کو کھڑا کر کے مسلم لیگ ن کے لیے گنجائش ہی نہیں چھوڑی کہ وہ انہیں سپورٹ کر سکے۔ یوں عارف علوی کا راستہ صاف کر دیا گیا۔ لگتا ہے کہ یہ نئی دوستی ابھی کافی دیر تک چلے گی۔ دونوں پارٹیوں سے ایک سوال پوچھنا تو بنتا ہے کہ آخر آپ لوگ شہد جیسی عظیم نعمت کو شراب کی بوتلوں میں ہی ڈال کر کیوں استعمال کرتے ہیں۔ توقع تو نہیں پر شایدکوئی معقول جواز آ جائے اور اعتراض کرنے والوں کو الٹے پاؤں لوٹنا پڑے۔ شرجیل میمن کے کمرے پر چیف جسٹس صاحب کا یہ چھاپہ خوب رہا۔ بیماری کا پول بھی کھل گیا۔ ہٹے کٹے شرجیل میمن کو اپنے قدموں پر چل کر واپس جیل جانا پڑا۔ ہسپتال کا کمرہ سیل کر دیا گیا تاکہ انتظامیہ کو بھی سبق سکھایا جا سکے۔ چیف جسٹس صاحب کی اس کارروائی کی تحسین کی جانی چاہیے۔ اپنا کام چھوڑ کر ہسپتال آنا اور ملز م کو رنگے ہاتھوں پکڑنا کوئی معمولی خبر نہیں۔ یہاں سوال مگر موجود ہے، شراب کی بوتلوں کے ساتھ پکڑا جانے والا ایک سویلین اور سیاستدان ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اربوں کے غبن کے الزامات بھی درست ہوں۔ اس بات میں بھی شک کی گنجائش بہت کم ہے کہ شرجیل میمن محض بیماری کا ڈرامہ رچا کر جیل سے ہسپتال آ گئے ہوں۔ دولت مند اور بااثر افراد جیل چلے جائیں تو یہ وہاں سے عارضی فرار کا وہ نسخہ ہے جو بار بار استعمال کیا جاتا ہے۔ شراب اور نشے والی دیگر اشیاء ہمارے معاشرے میں خوف ناک حد تک سرایت کر چکی ہیں۔ ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا 12مئی 2007ء کا وہ دن سب کے سامنے ہے جب تمام سکیورٹی اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کی موجودگی کے باوجود کراچی میں 50سے زائد افراد کو گولیوں سے چھلنی کر دیا گیا تھا۔ اسی شام اسلام آباد میں جلسہ عام کے نام پر ایک جشن برپا ہوا۔ جنرل پرویز مشرف نے کراچی میں پیش آنے والی خونیں وارداتوں کو عوام کی فتح قرار دیتے ہوئے جو خطاب فرمایا اس کے دوران ان کے پاؤں بُری طرح سے ڈگمگا رہے تھے۔ شراب کا اثر اس قدر زیادہ تھا کہ ان کے ساتھ سٹیج پر موجود ق لیگی رہنما کچھ دیر کیلئے پریشان ہو گئے۔ شرعی اور ملکی قوانین کے تحت شراب رکھنا، پینا، باقاعدہ جرم ہے مگر مقام افسوس ہمارے معاشرے میں یہ چیز ایک بڑے طبقے کیلئے روز مرہ کا معمول ہے۔ اس شراب نے ہمیں بحثیت قوم پتا نہیں کہاں کہاں ڈبویا، مگر یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ ایک سینئر صحافی بتا رہے تھے سر پر بوتل رکھ کر ڈانس کرنے کی قبیح روایت پر آج بھی عمل ہو رہاہے۔
اسی طرح کے ایک فنکشن میں وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے باعث موجود تھے۔ کام زیادہ ’’گرم‘‘ ہو گیا تو میزبانوں نے انہیں دو دن تک زبردستی روکے رکھا۔ یہ تسلی کی گئی کہ اس معاملے کے بارے میں کوئی چیز اپنے ادارے یا عوام تک پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائیگی۔ شراب نوشی کرنے والوں میں ٹاپ بیورو کریسی ہی نہیں ہر محکمے اور شعبے کے لوگ شامل ہیں۔ خود میڈیا میں بد احتیاطی کا یہ عالم ہے کہ ایک سے زائد نامور صحافی مختلف مواقع پر قوم کی اصلاح کے لیے ٹی وی سکرینوں پر جلوہ گر ہوئے تو دیکھنے والے کو پتا چلنے میں ایک منٹ بھی نہ لگا کہ وہ فل ٹن ہیں۔ پکڑا مگر وہی جاتا ہے جو کمزور ہو یا زیر عتاب ہو۔ ہمارے ہاں تو نوبت یہاں تک آ گئی ہے کہ ایک نامور کالم نگار شراب کی کھلے عام فروخت اور پینے کی اجازت دینے کیلئے اپنے کالموں میں مسلسل زور دیتے رہتے ہیں۔ اس علت کا شکار ایک بھاری بھرکم مولانا پینے پلانے کے حوالے سے مہمان نوازی کیلئے بہت مشہور ہیں۔ شراب پینے والوں میں قانون کے رکھوالے بھی ہیں اور جرائم پیشہ بھی۔ کیا وکیل، کیا موکل، کیا چور، کیا سپاہی اور وہ محکمے اور افسران بھی جن کے متعلق یہاں ذکر کرنا ’’قومی مفاد میں نہیں‘‘۔ ایک بات عام ہے کہ شراب پینے والوں کی آپس میں ہی دوستیاں بہت پکی نہیں ہوتیں بلکہ پورے معاشرے کے بااثر افراد کے ساتھ بہت گہرے تعلقات ہوتے ہیں۔ ہر قسم کی اخلاقی برائیوں سے پاک ملک کی ایک بڑی کاروباری شخصیت کو اپنے اہم سٹاف ممبر کو یہ کہتے سنا کہ فلاں افسر کی خبر لی جائے۔ سٹاف ممبر بھی بہت بااثر تھا، اس نے فوری جواب دیا سر کل ہی اس کی خبر لیتا ہوں۔ کاروباری شخصیت کے ماتھے پر شکنیں ابھر آئیں، کچھ دیر تک سوچا اور مخاطب ہوئے، رہنے دو کوئی راستہ نکالتے ہیں کیونکہ وہ افسر روزانہ شراب پیتا ہے۔ شام کی اس محفل میں دیگر کئی افسران بھی ریگولر مہمان ہوتے ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ ہم کوئی بڑا محاذ کھول بیٹھیں۔ پی ٹی آئی کی صاف اور شفاف حکومت کے ایک ’’برائٹ سٹار‘‘ کے بارے میں صحافیوں کے علاوہ بھی کئی لوگوں کو اچھی طرح سے علم ہے کہ موصوف نے اپنے گھر میں باقاعدہ بار بنائی ہوئی ہے۔ غیر ملکی اور مہنگی شراب اس کی دنیاوی کامیابیوں کی اصل بنیاد ہے۔ اس کے خلاف بات کی جائے تو خود میڈیا کے کئی ارکان جو اسے کرپٹ بھی سمجھتے ہیں فوراً دفاع کے لیے سامنے آ جاتے ہیں۔ شراب خانہ خراب کا ذکر ہوتا تو بہت ہے مگر کوئی کارروائی نہیں کرتا۔ یہ سیدھا سیدھا قانون کے عدم نفاذ کا معاملہ ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی واضح ہے کہ شراب رکھنے اور پینے کے حوالے سے معاشرے کے مختلف طبقات اور افراد کے ساتھ ساتھ الگ الگ سلوک کیا جاتا ہے۔ ہسپتال میں شرجیل میمن کے کمرے سے شراب ضرور برآمد ہوئی مگر وہ اکیلے ہی شرابی نہیں۔ یہ بات بچہ بچہ جانتا ہے۔ میمن کو اس کیس میں رگڑا لگانا چاہیے مگر باقی سب جو محفوظ بیٹھے ہیں اور کاروبار مملکت کے بارے میں فیصلے کر رہے ہیں، ان پر ہاتھ کون ڈالے گا۔ اب تو نشے کے لیے کوکین، آئس اور اس نوع کی بے حد خطرناک چیزیں دستیاب ہیں اور یہ بات کہنے کی ضرورت نہیں کہ انہیں اعلیٰ طبقات استعمال کرتے ہیں۔ ایسے نشے عام آدمی کی استطاعت سے باہر ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہر طرح کی برائیوں سے بچائے اور ہر قسم کے نشے کی لعنت سے محفوظ رکھے۔
شرجیل میمن کے خلاف کارروائی پر آصف زرداری نے جو کہا درست کہا، اس پر سب کو غور کرنا چاہیے۔ اپنے ردعمل میں سابق صدر کا کہنا ہے کہ جس ملک میں چیف جسٹس چھاپے مارے تو ہم کیا کہیں گے۔ سپریم کورٹ میں اور بھی ہزاروں کیسز ہیں، ان پر بھی زور ہونا چاہیے۔ حرف آخر یہ کہ ملک میں ان دنوں جو بھی ہو رہا ہے اس کے حوالے سے تاثر جانا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے، مشکل ہے۔ شرجیل میمن نے کرپشن کی ہے یا شراب پی رہے ہیں تو حق بات ہے کہ سزا ملنی چاہیے، لیکن اگر شرجیل میمن یہ کہہ دیں کہ ’’میں اکیلا ہی شرابی نہیں‘‘ تو بات غلط نہیں ہو گی۔