25 مئی 2019
تازہ ترین

میثاقِ جمہوریت کی تجدید میثاقِ جمہوریت کی تجدید

ہم نے اپنی تاریخ میں یہی پڑھا اور پھر اس سے سبق حاصل کرنے کی کوشش کی تھی یہ مملکت خداداد جمہوریت کے ذریعے حاصل کی تھی اور پھر بانی پاکستان نے اس کے مستقبل کو بھی جمہوری نظام میںمحفوظ قرار دیا تھا۔ لیکن افسوس ستر سال گزرنے کے باوجود اس ملک کو باقی سب کچھ حاصل ہوا۔ مگر سچی اور عوامی جمہوریت حاصل نہیں ہو سکی، البتہ اس دوران میں جیسی بھی جمہوریت بحال ہوئی اس میں کسی اور کو تو نہیں جمہوریت کو ہی سب سے زیادہ خطرہ درپیش رہا۔ اس خطرے کے ذمہ دار بھی سیاستدا ن رہے کیونکہ ان کی تخلیق خالص جمہوریت میں ہوئی اور نہ ہی انہیں جمہوری تعلیم و تربیت نصیب ہوئی۔ ہمارے دوست علامہ فکر گنگولوی کا دعویٰ ہے کہ ستر سال میں صرف اور صرف مفاداتی جمہوریت رہی تو ایسے میں مفاداتی سیاستدان ہی سامنے آئے جو سیاسی، معاشی اور ذاتی مفادات میں ہی ایک دوسرے کے بالمقابل رہے اس میں کوئی حزب اقتدار کی تمیز تھی نہ اپوزیشن کی۔ اپوزیشن اس لیے ہوتی تھی کہ اقتدار واختیار تک رسائی کیسے حاصل ہوگی، کونسا پچھلا دروازہ سفر کیلئے آسان ہو سکتا ہے۔ تو پھر ایسے میں کیسی جمہوریت اور کیسے ادارے؟ کیسا آئین اور کیسا قانون؟ کیسی ریاست اور کیسے فرد کے حقوق اور فرائض؟؟ سب خود فریبی، خوش گمانی اور سراب ہے۔
یہی ستر سال کی تاریخ ہے۔ کل بھی یہی کچھ تھا آج بھی یہی کچھ ہے اور آئندہ بھی یہی کچھ ہوگا۔ کوئی تبدیلی پہلے آئی تھی نہ ہی آئندہ آئے گی۔ جاری سیاسی ، معاشی اور معاشرتی نظام کے کوڑے دان سے تبدیلی کا کنول نہیں کھل سکتا۔ اگر پرانا میثاق جمہورت کارگر ثابت نہیں ہوا، اس کے مثبت نتائج سامنے نہیں آئے، اقتدار و اختیار کی گرفت اور اس کے حصول کی خواہش نے عمل درآمد کے امکانات کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی رکھی ہیں تو نیا میثاق جمہوریت کیسے جمہوریت کیلئے معاون اور مددگار ثابت ہو سکتا ہے؟ چہرے تو پہلے بھی تبدیل ہوتے رہے، وہی کہنہ چہرے، داغ دار اور آلودہ۔ روزانہ شیو کرنے سے چہرہ تو تبدیل نہیں ہوجاتا یا پھر روزانہ کپڑے تبدیل کرنے سے شخصیت میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں ہوتی بلکہ شیروانی پہن لینے سے کسی کی چال ڈھال میںتو فرق نہیں آتا۔ شخصیت کی پرواز میں تبدیلی کیلئے سوچ، فکر کے بازوئوں کو نظریات کی طاقت درکار ہوتی ہے۔ انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے:
کرگس کا جہاں اور ہے شاہیں کاجہاں اور
لیکن افسوس کہ ہمارے ہاں کرگس کو شاہین بنانے اور  اسے ثابت کرنے کی روش غالب ہے۔ اگر کوئی اس کی اصل حقیقت سے آشکار ہو اور وہ اسے نمایاں کرنے کی کوشش بھی کرے تو وہ ملزم ہی نہیں مجرم ٹھہرایا جاتا ہے۔ ایسے مجرموں کی ہمارے ہاں کوئی کمی نہیں۔ شاید ہمارا شمار بھی ایسے ہی نامزد لوگوں میں ہوتا ہے لیکن ہم اس کے باوجود گناہوں کے ارتکاب اور اعتراف سے باز بھی نہیں آتے اور اسی پر فخر بھی کرتے ہیں۔ یہی تو جمہوریت پرستوں کا شیوہ ہے۔
تینوں کافر کافر آکھدے توں آہو آہو آکھ
پھر بھی یہ کیا المیہ ہے کہ جمہوریت ہمیں نظر نہیں آتی، وہ نقاب ہٹاتی ہے نہ کبھی جھروکے میں بیٹھتی ہے۔ جب اس کی زیارت نہیں، درشن نہیں تو پھر اس کی تاب حسن کا کیا اندازہ؟ فہم اور شعور تو بہت دور کی بات ہے۔ اس کے باوجود اگر ہمارے لیڈر میثاق جمہوریت پر متفق ہوئے ہیں اس کی توسیع پر غور و خوض کر رہے ہیں، اس میں کچھ اور جمہوریت کے خواہش مندوں کو شامل کرنے اور جمہوریت کے حسن پر مائل کرنا چاہتے ہیں تو اس سے اچھی بھلا جمہوریت پرستی اور کیا ہو سکتی ہے۔ یہ خوش آئند ہے مگر ہم ایسے تاریخ کے مارے کیا کریں جنہیں تبدیلی کے نام پر صرف ’’سٹیٹس کو‘‘ ہی ملاہے یا پھر نئے چہرے کے ساتھ فرسودہ نظام کا تسلسل ہی ملا ہے۔ جاری نظام کی بگڑی ہوئی شکل سے ہی واسطہ پڑا ہے۔ ان کیلئے میثاق جمہوریت کی تجدید میں کیا کشش ہو سکتی ہے؟؟ ہم نے تو اس مملکت خداداد میں جو کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے اس نے اپنے مابعد اثرات میں روشنی کی کوئی کرن نہیں بلکہ دھند اور گہر کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔ ہمیں تو اس میثاق جمہوریت کی تجدید اور اس کے عزم میں سوائے خوش فہمی کے کچھ اور دکھائی نہیں دیتا۔
ہو سکتا ہے یہ مایوسی کے شکنجے میں جکڑی ہماری ذہنی پستی ہو لیکن کیا کریں ہم تاریخ کے مارے ماضی سے خود کو آزاد نہیں کر سکتے، تاریخ ہمیں کسی خوش فہمی میں مبتلا بھی نہیں ہونے دیتی۔ تاریخ کے اوراق میں جمہوریت کے سوا بہت کچھ ہے بلکہ جمہوریت کے نام پر آنے والی کاسمیٹکس جمہوریت کے خد و خال بھی ہمارے سامنے ہیں اور ہم کو یہ بھی معلوم ہے کہ سچی جمہوریت کے ساتھ کون سنجیدہ ہے اورکون کس کیلئے پُرعزم ہے؟ کس کے کیا مقاصد ہیں، کس کا تعلق عوام سے ہے اور کون عوامی جمہوریت کیلئے مخلص ہے اور خلوص نیت سے اس طرف گامزن ہے اور کون محض خواہشوں کی تکمیل کیلئے نعرے بازی کر رہا ہے۔ یہ تو تصویر کا محض ایک رخ ہے۔ دوسرے رخ پر بھی توجہ مرکوز کیجئے اور دیکھئے کہ وہ جو ’’سٹیٹس کو‘‘ کی قوتیں ہیں اور جو جاری نظام کے محافظ ہیں جن کے مفادات کے تمام زاویے صرف تحفظ کے نکتے سے برآمد ہوتے اور پھر معکوس کا سفر کر کے اسی طرف پلٹ کے آ جاتے ہیں، ان کی ترجیحات میں کیا تھا اور کیا ہے؟؟ اس میں ہم ایسے خاک نشینوںکیلئے کیا ہے، محض قسمت اور مقدر کے سوا…؟؟
تو صاحبو! بلاول بھٹو زرداری نے جیل میں جا کر میاں نوازشریف کی عیادت کی ہے۔ ایک جاگیردار، صنعتکار کی صحت بارے تشویش میں مبتلا تھا۔ سیاست اور سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن معاشرتی تقاضے اور انسانی اخلاقیات کا بھی تو ایک حسن اور خوبی ہوتی ہے۔ اسی شہر اسی گائوں اور اسی ملک میں سیاست کرنی ہے تو پھر سماجی روابط کو مجروح نہیں ہونا چاہیے۔ اس دورا ن میں میثاق جمہوریت کی تجدید پر اتفاق رائے بھی ہو جاتا ہے تو اس میں کیا مضائقہ ہے سیاست بھی تو کرنا ہے اور حکمرانی بھی۔ کاش اس میں بے چار ے عوام بھی ہوتے، معاشی نظام کو بدلنے کی بھی کوئی بات ہوتی۔