17 نومبر 2018

میاں صاحب، آپ کو یاد ہے…؟ میاں صاحب، آپ کو یاد ہے…؟

قومی اسمبلی میں حلف برداری کے روز نواز شریف کی اسلام آباد میں ہی العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنسز میں احتساب عدالت میں پہلی پیشی تھی، ان نئے ریفرنسز میں سابق وزیراعظم کی یہ پہلی پیشی اس وقت آخری پیشی ثابت ہوئی جب انہیں خطرناک دہشت گردوں کی طرح بکتربند گاڑی میں احتساب عدالت لایا گیا اور احتساب عدالت کے باہر لیگی رہنمائوں کی تعداد نہ ہونے کے برابرتھی، کیونکہ نواز شریف کے نام پر 60 سے زائد ایم این اے اس وقت قومی اسمبلیوں کی راہداریوں میں خوش گپیوں میں مصروف تھے، صرف ایک اقلیتی رہنما کھئیل داس کوہستانی اسمبلی کے باہر نوازشریف اور مریم کی تصویر لے کر خود بے بسی کی تصویر بنا دکھائی دیا، شہباز شریف نے اس بار بھی اپنا کوئی کردار ادا نہیں کیا، جیل میں بند نوازشریف کے پیغامات کو مسلسل نظرانداز کرنے کا سلسلہ جاری رہا، نوازشریف کا خیال تھا کہ احتساب عدالت کے باہر ہزاروں لیگی رہنما اور کارکنان انہیں بکتربند گاڑی میں لانے کے خلاف بھرپور آواز بلند کریں گے، لیکن یہ محض خوش فہمی ہی ثابت ہوئی۔
قدرت شاید نوازشریف کو دکھانا چاہ رہی ہے کہ وہ جیل میں بیٹھ کر اپنے اور پرائے کی پہچان کرلیں۔ بلاشبہ نوازشریف نے ممنون حسین کو بڑے بڑے افراد کو نظرانداز کرکے ملکی صدر بنایا تھا، نتیجتاً نوازشریف کے اس فیصلے سے پارٹی میں اختلاف دیکھنے میں آیا اور غوث علی شاہ جیسے انتہائی وفادار شخص نے پارٹی کو خیرباد کہہ دیا، صرف اس بنیاد پر کہ وہ سمجھتے تھے کہ وہ ممنون حسین سے زیادہ اس عہدے کے حقدار ہیں۔ حالیہ انتخابات میں شکست کے بعد نواز شریف نے اڈیالہ جیل سے اپنے دور کے لگائے گئے 
تینوں گورنرز اور صدر ممنون کو پیغام پہنچایا کہ چونکہ انتخابات انتہائی غیر منصفانہ ہوئے ہیں، لہٰذایہ تمام مستعفی ہوتے ہوئے اپنا احتجاج ریکارڈ کروائیں، تاکہ اس فیصلے سے بھرپور آواز ملک بھر میں سنائی دے، لیکن نوازشریف کے اس پیغام پر صرف گورنرسندھ محمد زبیر نے ہی استعفیٰ دیا جب کہ باقیوں نے اس فیصلے کو نظرانداز کردیا کہ ابھی مستعفی ہونے کا مناسب وقت نہیں۔ اب اگر ان  تمام صاحبان نے وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کے حلف اٹھانے کے بعد استعفیٰ دیا تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور نہ ہی اس سے ملکی سیاست پر کوئی اثر پڑے گا۔
اپنی اور پارٹی کی موجودہ حالت کے ذمے دار کسی حد تک خود نوازشریف ہی ہیں، ان کے من پسند اور گنتی کے چند نئے دوستوں نے انہیں اس نہج پر پہنچادیا کہ انہیں پیچھے مڑکر دیکھنے کا موقع ہی نہ ملا کہ ان پر کیا کچھ بیت چکا ہے۔ جب کوئی بھی انسان کڑے امتحان سے گزر رہا ہوتا ہے تو اسے اپنے ان جاںنثار ساتھیوں اور رشتے داروں کی یاد آتی ہے جو ان کے اچھے اور برے وقتوں میں ہمیشہ ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، مگر وہ انسان اپنے برے وقت میں ان سچے دوستوں سے اس لیے محروم رہتا ہے کہ اس نے اچھے وقتوں میں ایسے لوگوں کو یکسر نظرانداز کیا ہوتا ہے اور بدلے میں اسے فصلی بٹیروں کا ساتھ رہتا ہے جو گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے اور انتہائی نقصان دہ ہوتے ہیں۔ کوئی پوچھے کہ نوازشریف نے قربانیاں دینے والے ساتھیوں کو نظرانداز چند لوگوں کو کیوں بڑے مناصب عطا کیے جو ملک میں موجود اندرونی و بیرونی چیلنجز کا خاتمہ کرنے کے بجائے نواز حکومت کے لیے مسائل کھڑے کرتے رہے۔ 
نوازشریف نے اقتدار ملنے کے بعد اپنے ان تمام پرانے لوگوں کو پس پشت ڈالے رکھا، اب وہ جیل میں ان بے لوث ساتھیوں کو ضرور یاد کرتے ہوں گے، ایسے ہی وفادار ساتھیوں میں مرحوم میاں اعجاز شفیع کے بیٹے بلال اعجاز شفیع یا خاندان کے کسی فرد کو اپنے دور اقتدار میں کسی جگہ ایڈجسٹ نہیں کیا گیا۔ 
1994میں حیدرآباد کے مسلم لیگی رہنما صاحبزادہ شبیر حسن انصاری کو نوازشریف کا ساتھ چھوڑنے کے لیے کروڑوں روپوں کی آفرز ملی، انہیں وفاقی وزارت دینے کا کہا گیا، اُنہیں پلاٹوں سمیت بے شمار پیشکشیں ہوئیں کہ وہ بس کسی طرح نوازشریف کا ساتھ چھوڑ دیں، یہاں تک انہیں دو روز تک نامعلوم مقام پر منتقل کرواکر ہراساں بھی کیا گیا مگر نوازشریف کا یہ ساتھی ایک قدم بھی پیچھے نہ ہٹا، اُس زمانے میں اسی صاحبزادہ شبیر انصاری نے اپنی اکلوتی گاڑی بیچ کرحیدرآباد میں ایک ایسے وقت جلسہ کروایا جب نوازشریف کا نام لینا بھی لوگوں کے لیے مشکل بنادیا گیا تھا اور یہی وہ عظیم الشان جلسہ تھا جو نوازشریف کی وطن واپسی کا سبب بھی بنا، اس کے علاوہ الٰہی بخش سومرو پاکستان کے وہ عظیم سیاست دان تھے جو نوازشریف کو ہی اپنا کل سرمایہ سمجھتے تھے، انہیں بھی بے پناہ عہدوں کا لالچ دیا گیا مگر مجال ہے جو کوئی ایسے لیگیوں کا ضمیر خرید سکتا، اس کے ساتھ پیر صابر شاہ کی لازوال قربانیاں بھی تاریخ کا حصہ بنی رہیں۔
یہ وہ لوگ تھے جو نوازشریف کے ہر کٹھن وقت میں ان کا بازو تھے، 1999میں جنرل مشرف نے حکومت کا تختہ الٹ کر نوازشریف کو جیل بھجوادیا تھا، پھر دنیا نے دیکھا کہ نوازشریف کی وہ سزا ختم ہوئی اور وہ تیسر ی بار ملک کے وزیراعظم بھی بنے، اس وقت طیارہ سازش کیس کے دوران نوازشریف کے ساتھ یہی جاںنثار لوگ ہوا کرتے تھے، تب پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں میں موجود جسٹس تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے فیصلہ دیا کہ نوازشریف نے طیارہ سازش کیس میں طاقت یا احکامات میں کسی بھی دوسرے ذریعے کا استعمال نہیں کیا اور اس کیس میں کوئی ایسے ثبوت پیش نہیں ہوئے کہ جس سے معلوم ہو کہ نوازشریف اس کیس میں ملوث تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب سابق وزیراعظم کو ایسے ہی وفادار لوگوں کا ساتھ میسر تھا مگر آج جس نوازشریف کو اپنے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر مجرم بنادیا گیا ہے تو اس پر میاں صاحب خود ہی بتادیں کہ ان کے ساتھ ایسے کون لوگ ہیں، جن کی وجہ سے انہیں یہ دن دیکھنا پڑا ہے۔