13 اگست 2020

مہنگائی، بے روزگاری اور بڑھتے جرائم مہنگائی، بے روزگاری اور بڑھتے جرائم

گائوں سے شہر کتنا خوش نما لگتا ہے۔ شہر کی طرف آنے والی واحد گاڑی میں بیٹھا وہ سوچ رہا تھا، شہر پہنچتے ہی کام چل نکلے گا اور خرچہ گھر بھجوانا شروع کردے گا۔ رنگ و روغن کے کام میں ماہر ہونے کی وجہ سے کبھی کام مل جاتا لیکن اکثر دیہاڑی ٹوٹ جاتی، شہر میں رہنے کے لیے اپنے اخراجات پورے نہیں ہوتے تھے، گھر کیا بھجواتا؟ اسی پریشانی میں ہوٹل میں بیٹھا چائے پی رہا تھا، جب پڑھے لکھے ایک لڑکے نے اُسے مخاطب کرکے کہا، ہاں اُستاد کیا مسئلہ ہے؟ کن سوچوں میں گُم ہو؟ وہ اس لب و لہجے پر ششدر رہ گیا، اُس کی پریشانی سُن کر نوجوان نے جو کہا، وہ اس سے بھی حیران کُن تھا، نوجوان نے اُسے اپنے ساتھ چوری اور راہزنی کے دھندے میں شامل ہونے کی پیشکش کی اور بتایا جب وہ بھی گائوں سے شہر آیا تو انہی حالات کا شکار تھا، لیکن اب اُس کے دن بدل چکے تھے۔ یہ ایک، دو نوجوانوں کی کہانی نہیں، بلکہ جرائم کی دلدل میں دھنسے بہت سے لوگ انہی حالات کی وجہ سے اس طرف متوجہ ہوتے ہیں۔
عید سے کچھ دن قبل کے اخبارات ہر برس ایسی خبروں سے بھرے ہوتے ہیں، جن سے بہتر ہماری معاشی حالت کی عکاسی اور کوئی نہیں کرسکتا۔ کہیں نئے کپڑوں کی معصوم خواہش پوری نہ کرسکنے کی وجہ سے والدین خودکشی کرلیتے ہیں تو کہیں بچوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیتے ہیں۔ اخبارات میں شائع ہونے والے تو چند بڑے واقعات ہوتے ہیں، مگر مہنگائی، بے روزگاری کے باعث ذہنی عوارض کا تو آدھا ملک شکار رہتا ہے۔ غریب تو کجا متوسط طبقے کو بھی اپنا بھرم رکھنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ سیاسی اشرافیہ کی بے حسی کا نتیجہ ہے کہ ماہر نفسیات کے مطب آباد رہنے لگے ہیں۔ کوئی سا بھی خطہ، معاشرہ یا ملک ہو جرم کی بڑی وجہ مہنگائی اور بے روزگاری ہی ہوتی ہے، جرائم میں کمی اور پُرامن معاشرے کا خواب ان وجوہ کے سدباب کے بغیر ناممکن ہے۔
کوئی سروے اُٹھاکر دیکھ لیں، کسی رپورٹ کا سہارا لے لیں، حالات تیزی سے روبہ زوال ہی نظر آتے ہیں۔ امیر، امیر سے امیر تر اور غریب، غریب سے غریب تر والا کلیہ ہم پر صادق آتا ہے۔ ہر آنیوالی حکومت جانے والوں کی ناقص کارکردگی کا برملا اظہار کرتی ہوئی عوام کا پیٹ اعدادو شمار سے بھرنے کی کوشش کرتی ہے، مگر جن کا چولہا نہ جلتا ہو اُنہیں شرح نمو سے کیا لینا؟ معاشی ناہمواری کے باعث جرائم کی شرح بڑھتی جارہی ہے۔ برسوں گزرنے کے باوجود ایک طالب علم  کے الفاظ آج بھی ذہن پر نقش ہیں کہ ’’جناب، آپ کون سے پاکستان میں رہتے ہیںـــ؟ کبھی وسطی پنجاب سے باہر بھی تشریف لے جایا کریں، زندہ رہنے کے لیے خوراک مل جائے غنیمت ہے آپ چلے ہیں حرام، حلال اور درست، غلط کی نشان دہی کرنے، یہ باتیں خالی شکم اور خشک ہونٹوں والوں کو سمجھ نہیں آتیں۔‘‘
جرائم کی شرح میں بے پناہ اضافے کے نفسیاتی پہلو کو نظرانداز کردینا بھی ممکن نہیں۔ ادب، فنون لطیفہ پر مادہ پرستی غالب آنے کی وجہ سے ڈراموں، فلموں کے موضوعات اور اسلوب ہی بدل گئے ہیں۔ معاشی ہدف کو پورا کرنے کی جہد نے فلموں، ڈراموں کو حقیقت سے ہم آہنگ رہنے نہیں دیا۔ ان میں جو طرز زندگی دکھایا جاتا ہے وہ یقیناً ہم جیسے ترقی پذیر ملک کی اکثریت کے لیے ممکن نہیں، لیکن بیشتر وقت الیکٹرونک میڈیا پر ایسی پُرتعیش زندگی کی عکس بندی دیکھنے کے بعد نوجوان ذہنوں میں خواہش زر پیدا ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ ان مادّی خواہشوں کے حصول کے لیے ہی نوجوان نسل منظم جرائم کی طرف راغب ہورہی ہے، یہ فلمیں اور ڈرامے ہی ہیں، جن میں مرکزی کردار کو ناجائز ذرائع استعمال کرکے ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے دکھایا جاتا ہے۔ کسی نوجوان سے بات کرکے دیکھ لیں، اُن کی سوچ پختہ ہوچکی ہے کہ پاکستان میں مثالی ترقی و کامیا بی کے لیے ممنوع راستے اختیار کرنا ضروری ہے، لیکن ان سب نفسیاتی مسائل کی جڑیں کہیں نہ کہیں مہنگائی اور بے روزگاری جیسے مصائب سے ہی ملتی ہیں۔
تعلیم یافتہ افراد کا جرائم میں ملوث ہونا صرف وطن عزیز کا ہی مسئلہ نہیں، ہمسایہ ممالک کے لیے بھی یہ تشویش ناک صورت حال اختیار کرچکا ہے۔ مختلف سروے اور رپورٹس بتاتی ہیں کہ بھارتی اور پاکستانی جیلوں میں پڑھے لکھے قیدیوں کی تعداد میں یکساں اضافہ ہورہا ہے۔ اڈیالہ جیل اور اترپردیش کی جیلوں میں مقید لوگوں کے حوالے سے اعدادو شمار قریباً ایک جیسے ہی معلوم ہوتے ہیں۔ پس زنداں تعلیم یافتہ لوگوں کی تعداد میں اضافے کی ایک وجہ سائبر کرائم کی بڑھتی وارداتیں بھی ہیں۔ کسی بھی ملک کے لیے اس سے زیادہ تشویش ناک بات کیا ہوسکتی ہے کہ اُس کے زیرک ذہن قید خانوں میں ہوں۔ غیر منصفانہ نظام، بدعنوانی، اقربا پروری کی وجہ سے خاطرخواہ ذرائع آمدن کے حصول میں ناکامی ہی نوجوان نسل کو جرائم کی طرف را غب کرتی ہے۔
جہاں تک حل کی بات ہے تو یہ ایسا سہل نظر نہیں آتا، اوّل تو ملک میں مہنگائی کو قابو میں رکھنا اشد ضروری ہے، یہ تو بھلا ہو تیل کی عالمی منڈی میں قیمت کی کمی کا، جس کی وجہ سے گذشتہ کچھ برس میں مہنگائی کی شرح میں اُس حد تک اضافہ نہیں ہوا جو ہماری معاشی صورتحال اور بیرونی قرضوں کے بوجھ کی وجہ سے متوقع تھا۔ مہنگائی پر قابو طویل مدتی منصوبہ بندی اور حکمت عملی سے ہی ممکن ہے، جس کا تسلسل حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود قائم رہے۔ دوم، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا ناگزیر ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ ملکی صنعتوں کی طرف بھرپور توجہ دی جائے۔ ملازمتوں میں کمی کی ایک بڑی وجہ عوام وخواص کی غیر پیداواری سرمایہ کاری جیسے رئیل اسٹیٹ اور اسٹاک مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی دلچسپی ہے۔ جس کا سبب حالات کا صنعتوں اور کاروبار کے لیے غیر موزوں ہونا اور عدم تحفظ کا شکار کاروباری طبقہ ہے۔ صاحب اقتدار کو اس نازک صورتحال میں ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، جس سے سرمایہ کار پھر سے صنعتوں کی طرف مائل ہوسکیں۔ ان سب کے علاوہ نوجوان نسل کی تربیت کرنا بھی ناگزیر ہے، جس کے لیے اسکول و کالج کی سطح سے ہی ذہن سازی کرنا لازم ہے، تاکہ حالات کے نشیب و فراز کے باوجود بھی نوجوان نسل جرائم کی طرف راغب نہ ہو۔ لیکن یہ سب کاوشیں تب ناکافی ثابت ہوتی ہیں اور عوام میں مایوسی بڑھتی ہے، جب مسند علم، سیاست و صحافت پر براجمان لوگ بھی ناجائز ذرائع سے ترقی، کامیابی اور دولت اکٹھا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔