19 جنوری 2019
تازہ ترین

مہمند ڈیم پر سوالات، جوابات چاہئیں، دھمکی نہیں! مہمند ڈیم پر سوالات، جوابات چاہئیں، دھمکی نہیں!

رات بستر پہ وہ تھکن دیکھی
ایک کروٹ میں دن نکل آیا
(عزم بہزاد)
جون ایلیا نے کہا تھا ’’اگر میں اپنے جھوٹ کے ساتھ خوش ہوں تو پھر تم میرے اوپر اپنا سچ مسلط کرنے والے کون ہوتے ہو‘‘۔ ریاست اور اس کے ادارے سوچ لیں کہ ، بند ذہن سے کبھی بہتری کا کوئی زاویہ یا امکان نہیں نکلتا۔ کھلے ذہن رکھنے سے دوسرے کی بات سننے اور اپنی بات پرکھنے کا نادر موقع ملتا ہے جس سے بہتری پھوٹتی ہے۔ پروین شاکر نے کہا تھا:
اندھے ذہنوں سے سوچنے والو
حرف کی روشنی ملاؤ کبھی
آخر ’’مہمند ڈیم‘‘ پر بات کیوں نہیں ہو سکتی۔ اس کے متنازع کنٹریکٹ پر سوالات کیوں نہیں اٹھائے جا سکتے۔ ’’مہمند ڈیم‘‘ پر مشیر ریاست مدینہ کی کرامات کے حوالے سے ’’اسٹوری‘‘ میں نے ہی کی تھی۔ خالد مصطفیٰ کی سٹوری آئی، ڈاکٹر فرخ سلیم کے سوالات آئے۔ اب اس پر اور انتہائی فکر انگیز سوالات آنے والے ہیں۔ حکومت، ریاست مدینہ کے مشیر، وزیر کسی ’’ترازو‘‘ کی اوٹ میں نہیں چھپ سکتے، انہیں ترازو میں تلنا ہو گا۔سوال ریاست مدینہ میں ہی اٹھائے جاتے ہیں اور ان کا جواب دینا پڑتا ہے۔ مہمند ڈیم فنڈ میں غالباً ساڑھے نو ارب روپے کے قریب جمع ہوئے ہیں۔ بد لحاظ اور معتوب میڈیا نے 13 ارب روپے کے اشتہار ’’فری‘‘ میں چلائے ہیں۔ اگر مہمند ڈیم کے کنٹریکٹ میں اس سے یعنی جمع شدہ فنڈ سے 4 گنا زیادہ رقم 
ڈیسکون اور اس کے پارٹنر کے پیٹ میں ایڈوانس میں جانے کا احتمال ہو تو پھر اس سوال کا جواب ملنا چاہیے۔ ’’اویلشن‘‘ کے عمل میں مبینہ شدید بے ضابطگیوں پر سوالات ہیں تو پھر اس کے جوابات بھی آنے چاہئیں۔ انتہائی معتبر، درد دل رکھنے والے لوگ میڈیا کو بتا رہے ہیں کہ ڈیسکون کو سازباز کر کے آگے لایا گیا ہے۔ بین الاقوامی پریکٹس ہے کہ ایسے بڑے منصوبوں کی سکیورٹی کی ذمہ داری حکومت پاکستان کے ذریعے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذریعے لی جاتی ہے۔ ڈیسکون نے پرائیویٹ چھوٹی سکیورٹی کمپنیوں سے سکیورٹی لینے کی بات کی، اس کے باوجود اسے کیوں فیور کیا گیا۔ واپڈا کی تاریخ میں پہلی بار بڈر کو کہا گیا کہ 600 ملین ڈالر کا سپلائر کریڈٹ وہ فراہم کرے۔ یہ سب سے مشکل کام ہے، اگر اس کا بائر کریڈٹ کی سہولت سے موازنہ کیا جائے۔ پین سٹاک ہیڈ لاسز گارنٹی پر ڈیسکون کے منفی جواب کے باوجود ڈیسکون کو وضاحت کا کہا گیا جبکہ ایف ڈبلیو او نے اس کو بڈ میں فراہم کر دیا تھا۔ ٹربائن جنریٹر ایفی شینسی گارنٹی پر ڈیسکون کا کہنا تھا کہ وہ ریکوائرمنٹ پر پوا اترتے ہیں مگر ایف ڈبلیو او اور اس کے جے وی نے ڈیسکون اور سی بی جی سی سے اور زیادہ بہتر ایفی شینسی کا کہا، اس کو واپڈا نے نظرانداز کر دیا۔ ڈیسکون نے 220 بلین کی پرائس بڈ دی جو پی سی ون سے تعمیر کی مد میں 36 ارب روپے زیادہ تھی جبکہ ایف ڈبلیو او کو واپڈا کی سیل اور مہر کے ساتھ بڈ واپس کر دی گئی۔ الیکٹرک اینڈ مکینیکل ورک جو 2 
کھرب30 ارب یعنی 60 ارب کی سپلائی کا کام تھا۔ اس پر دونوں جے وی کرائٹیریا میٹ کر رہے تھے۔ 100 ارب کی سول کوالیفکیشن لیڈ کمپنیاں اپنے جے وی کے ذریعے دے رہی تھیں، اس میں دونوں ہی لیڈ پارٹنر فیل تھے۔ سکیورٹی کی شق کو واپڈا نے نظرانداز کر دیا، وہ بھی قبائلی علاقے میں تعمیر ہونے والے ڈیم پر، جبکہ سپلائر کریڈٹ پر، ڈیسکون کا جواب ’’اوپنڈ اینڈ نان رسپانسیو‘‘ تھا جبکہ ایف ڈبلیو او کو واپڈا سیل اور مہر کے ساتھ واپس کر دیا گیا۔ یہاں پر اسے بھی نظرانداز کرنا، ایسے میں کنٹریکٹ ایوارڈ کرنا بدنیتی کے مظاہر میں آتا ہے۔ کنسلٹنٹ فرم/جے وی کی خدمات کے حوالے سے ان صفحات میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے مگر کنٹریکٹر کی ہائرنگ کا عمل کیسے ہوا، وہ بہت ہی ہوشربا ہے۔ ناصر حنیف نامی شخص جو اتھارٹی کا ایڈوائزر تھا اس کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دے دی گئی جو قائم مقام ممبر واٹر کے طور پر کام کر رہا تھا۔ یہ تعیناتی واپڈا کے قوانین(واپڈا ایکٹ) کی صریحاً خلاف ورزی تھی۔ ممبر واٹر اور ممبر پاور کی انتہائی اہم ٹیکنیکل پوسٹ مصنوعی طور پر جی ایم کو دے دی گئی تاکہ وہ چیئرمین واپڈا ناصر حنیف کی ہدایت پر جو چاہے دستخط کرے۔
چیف انجینئر شاہد محمود کو جی ایم کا ایڈیشنل چارج برائے ہائیڈرو پلاننگ دیا گیا۔ یہ واپڈا کے پروکیورمنٹ یونٹ کی نمائندگی کر رہے تھے۔ جس نے آزاد کنسلٹنٹ ’’نیسپاک‘‘کے ناصر حنیف کی ہدایات کے مطابق بڈ اویلشن رپورٹ ڈرافٹ اور سٹمپ کرنا تھی۔غیر جانبدار اور آزاد کنسلٹنٹ فرم سمیک کا قضیہ نمٹانے کے بعد واپڈا آزاد تھا، اس نے ازخود ہی نیسپاک کو آزاد کنسلٹنٹ کے طور پر ہائر کر لیا کہ وہ بڈ اویلشن کا عمل مکمل کرے۔ یہیں پر واپڈا نے سمیک کو باہر کرتے ہوئے کنسلٹنٹ فرم کا ٹینڈر پھر سے ری ٹینڈر کر دیا۔ آج کے دن تک کوئی غیر جانبدار اور آزاد کنسلٹنٹ نہیں ہے جو بولی کے عمل کا جائزہ لے سکے اور تعمیراتی کام کی نگرانی کر سکے۔ ہوا کیا ہے؟ تعمیراتی بولی کی اویلیشن کیلئے ہدایات پھر کہاں سے جاری ہو رہی تھیں۔ سب سے اوپر چیئرمین واپڈا، ان کے نیچے ایڈوائزر ناصر حنیف، درمیان میں ایڈیشنل چارج جی ایم ہائیڈرو پلاننگ، ان کے نیچے نیسپاک تھا۔ورلڈ بینک اور ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی یہ پریکٹس رہی ہے کہ کوالیفکیشن کے عمل میں غیر ضروری رکاوٹیں نہ ڈالی جائیں اور ایک ذمہ دارانہ اور مؤثر طرز عمل اپنایا جائے تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس عمل میں شریک ہوں۔ 
عمومی طور پر نئے ٹینڈرز میں ایسی کوالیفکیشن میں کرائٹیریا پروجیکٹ کے سائز اور موضوع کے مطابق 80فیصد سے کم جبکہ ہائی ویلیو کے بڑے منصوبوں میں 50فیصد سے کم رکھا جاتا ہے تا کہ بولی کنندگان کو زیادہ سے زیادہ اس جانب مائل کیا جا سکے۔مگر ’’مہمند ڈیم‘‘ میں اس کے برعکس کیا گیا۔ پہلے ہی بہت اونچے کرائٹیریا رکھ کر مقابلے کی فضا کو تباہ کر دیا گیا جس سے پورا بڈنگ کا عمل محدود ہو گیا۔ 800 میگاواٹ کا مہمند ڈیم، جو پانی ذخیرہ بھی کرے گا۔ یہ بہت سادہ منصوبہ تھا جیسے پاکستان میں دوسرے ڈیم بھی ہیں۔ پاکستان جو انتہائی مالی مشکلات کے دور سے گزر رہا ہے ہمیں زیادہ انٹرنیشنل کمپنیاں بلانی چاہئیں تھیں تا کہ بہتر تعمیری قیمت مل سکے۔ آپ دیکھیں کہ مین سول ورک 114 بلین ڈیم کنٹریکٹ، ٹینڈر میں اسے 100 بلین میں لازمی تعمیر کا کہا گیا یہ 88فیصد بنتا ہے۔ الیکٹریکل اور مکینیکل ورک 44 ارب کا تھا اسے 2x30 ساٹھ بلین میں مکمل کرنے کا کہا گیا یہ 136 فیصد بنتا ہے۔ یہ انتہائی اونچا ٹیکنیکل کرائٹیریا تھا۔ اس لیے 22 فرموں نے ٹینڈر ڈاکیومنٹ خریدا۔ انہوں نے اس میں حصہ لینے کیلئے واپڈا کو کہا کہ وہ ٹیکنیکل کرائٹیریا کو بین الاقوامی معیار کے مطابق نرم کرے۔ واپڈا نے انکار کر دیا جس کے بعد بیس لوگ بولی کے عمل سے نکل گئے۔ واپڈا کو سکیورٹی اور بڈ کے وقت 600 ملین ڈالر کا بولی کنندہ کو اپنے پاس سے انتظام کرنے کی شق کے ختم کرنے کی بھی اپیل کی گئی مگر واپڈا یہاں بھی ٹیکنیکل کرائٹیریا والی طرح اڑا رہا۔ فاٹا میں سکیورٹی کا انتظام اور 600 ملین ڈالر کا ازخود انتظام ناممکن تھا، اس وجہ سے بھی زیادہ تر بولی کنندگان بھاگ گئے۔ 17 نومبر 2017ء تک واپڈا اڑا رہا مگر حیرت انگیز طور پر 25 مئی 2018ء کو واپڈا اچانک اس پر تیار ہو گیا اور سکیورٹی پر ترمیم جاری کر دی۔ یہ ایک ماہ پہلے ہوا۔ 26 جون 2018ء کو فائنل بولیاںجمع کرائی جانی تھیں۔ رمضان 16 مئی سے شروع تھا، عید کی چھٹیاں تھیں جو 18جون کو ختم ہونا تھیں۔ تمام انہی بولی کنندگان نے واپڈا کو درخواست کی کہ وہ بولی جمع کرانے کی تاریخ بڑھائے، واپڈا کے ارباب اختیار نے اسے مسترد کر دیا جس کی وجہ سے بولی جمع کرانے والے دو ہی رہ گئے۔ پھر ڈیسکون اور ایف ڈبلیو او کے جے وی کے ساتھ جو دوہرا معیار برتا گیا، وہ بتا ہی دیا گیا ہے۔ ٹینڈر ڈاکیومنٹ کے مطابق 100 بلین والی شرط پر دونوں لیڈ پارٹنر نے انکار کر دیا تھا۔ دونوں نے یہ ذمہ داری سی بی جی سی اور پاور چائنہ کے ذریعے پورا کرنے کی بات کی تھی جو واپڈا کی ریکوائرمنٹ کے مطابق نہ تھا۔ یہیں پر واپڈا نے پوری ٹینڈرنگ کی اویلشن کے عمل کو مینج اور کنٹرول کیا۔
 اس نے اس عمل میں ڈیسکون کو باربار سوالات اور وضاحتیں بھیجیں مگر ایف ڈبلیو او کو اس سے محروم رکھا۔ لیڈ پارٹنر کیلئے یہ کہیں بھی ضروری نہیں ہے کہ اسے ڈیم بنانے کا تجربہ ہو مگر ایف ڈبلیو او کو باہر کرنے کیلئے یہ کھیل بھی رچایا گیا۔ ایف ڈبلیو او کی ٹیکنیکل آفر، ڈیسکون کی آفر سے کہیں زیادہ بہتر تھی۔ ایف ڈبلیو او اور پاور چائنہ نے ہیڈ لاس کیلئے اچھی ویلیو فراہم کی تھی جو 40 سے 50 سال کیلئے زیادہ کارکردگی کی حامل 
بجلی پیدا کرتی۔ اس سے بہت زیادہ ریونیو حاصل ہوتا جو لازمی طور پر شمار ہونا چاہیے تھا۔ ڈیسکون اور سی جی جی سی یہ اہم ترین فیگر فراہم کرنے میں ناکام ہو گیا تھا۔ ایک اور تصحیح کے مطابق بولی کنندہ نے گارنٹی ہیڈ لاس کی مد میں فراہم کرنا تھا جو 2کروڑ 15 لاکھ ڈالر تھا۔ یہ بڈ اویلشن کا لازمی حصہ تھا۔ اگر اس کلاز پر واپڈا کھڑا رہتا تو ٹیکنیکل ڈیسکون، سی جی جی سی اویلشن کرائٹیریا پر پورے نہیں اترتے تھے۔ لیکن واپڈا ایڈوائزر نے اس پر زبردستی ڈیسکون کو وضاحت جاری کرائی۔ ایف ڈبلیو او، پاور چائنہ نے ڈیسکون سی جی جی سی کے مقابلے میں ٹربائن جنریٹر کی کارکردگی صفر اعشاریہ 4 فیصد فی یونٹ زیادہ دی۔ اس کا مجموعی طور پر 3کروڑ ڈالر کا طویل المدتی فائدہ ہوتا۔ اس بنیاد پر ایف ڈبلیو او کو کوالیفائی کرنا چاہیے تھا مگر اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ اب زیر بحث ہے۔ ایف ڈبلیو او کی بڈ کو نان رسپانسیو، زبردستی کرایا گیا ہے۔ جو وضاحتیں ڈیسکون سے کرائی گئیں وہی ایف ڈبلیو او کو کیوں نہیں دی گئیں۔ ایف ڈبلیو او کی بڈ مسترد کرنے کا کوئی جواز ہی نہیں ہے۔
 اکتوبر 2018ء میں ناصر حنیف نے ڈائریکٹر لیگل کو ہدایت کی کہ وہ ان کی پسندیدہ لا فرم سے جو آؤٹ سورس تھی، قانونی رائے لے۔ یہ پاکستان پرکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قوانین کی خلاف ورزی تھی۔ اویلشن کے عمل کے دوران بولی کنندہ کی فائل آئوٹ سائیڈر کے ساتھ شیئر نہیں کی جا سکتی جبکہ جی ایم اور چیف انجینئر سنٹرل کنٹریکٹ سیل کی غیر حاضری میں سینئر لوگوں کے بجائے انتہائی جونیئر لوگوں سے اویلشن کنٹریکٹ رپورٹ کی ’’ویٹنگ‘‘ کرائی گئی۔ یہیں پر ایف ڈبلیو او اور چائنہ پاور کو اس پورے عمل سے خوبصورتی سے نکال باہر کیا گیا۔ یہیں واپڈا ایڈورائزر کی ون مین شو کی واپڈا اتھارٹی نے منظوری دی۔ تین ووٹ کی سپورٹ تھی، دو ووٹ کٹھ پتلی جی ایم کے ہیں جس کے پاس ایڈیشنل چارچ (واپڈا، پاور) ہے۔ تیسرا نہ شمار ہونے والا ممبر فنانس ہے۔ ان سب کے اباجی چیئرمین واپڈا ہیں۔ اب جبکہ ڈیسکون اور سی جی جی سی کی سنگل بڈ ہی گئی ہے وہ پی سی ون کے مقابلے میں 36 ارب روپے زیادہ کی ہے۔ اس کو کون ایڈریس کرے گا جبکہ ڈیسکون کا جے وی سپلائر کریڈٹ کی شق پر بھی پورا نہیں اترتا۔ ٹینڈر ریکوائرمنٹ کے مطابق اسے نان رسپانسیو بڈر قرار دیا جانا چاہیے۔ یہی واپڈا فنانسنگ پلان بھی ہے کہ کنٹریکٹر اپنی بیلنس شیٹ پر کریڈٹ سپلائر کا انتظام کرے، یہ شق اگر شروع میں نرم کر دی جاتی تو کتنی ہی اور کمپنیاں بڈنگ میں آتیں۔
 آج ہم کس کس کو روئیں۔ واپڈا اتھارٹی ایک سال سے نامکمل کیوں ہے، کس نے مکمل نہیں ہونے دیا۔ ایمرجنسی کے نام پر اس کنٹریکٹ میں جو گل کھلائے گئے ہیں اس کا ذمہ دار کون ہے۔ ساڑھے نو ارب ڈیم فنڈ، 36 ارب کی اونچی بولی، قوم اپنے پیٹ کاٹ کر 45 ارب دے گی۔ ہماری ہڈیوں میں سے یہ پیسے نکالے جائیں گے۔ 3 کروڑ ڈالر کا نقصان ہمیں ایفی شینسی کی مد میں ہو گا۔ ہمیں مار بھی رہے ہو بولنے بھی نہیں دیتے ہو۔ کبھی فیصل واوڈا تو کبھی فیاض الحسن چوہان کو ہمارے اوپر چھوڑتے ہو۔ اس ریاست کیلئے ہمارے بزرگ آگ اور خون کا دریا پار کر کے آئے تھے؟ اس ریاست کیلئے میری دو اور نسلیں قربان ہونے کو تیار ہیں۔ کوئی ہمیں ڈرائے اور دھمکائے نہیں، ہم ڈاکہ نہیں ڈالنے دیں گے۔ اگر حق پر ہو تو سوالات کے جوابات دو۔
نابینا جنم لیتی ہے اولاد بھی ان کی
جو قوم دیا کرتی ہے تاوان میں آنکھیں
بقیہ: محاسبہ