25 ستمبر 2018
تازہ ترین

مہاتما جی کی رہائی کیلئے ستیہ گرہ مہاتما جی کی رہائی کیلئے ستیہ گرہ

(10 ستمبر1923 ء کی تحریر ) 
ہم اپنے محترم بزرگ ڈاکٹر ستیہ پال سے عرض کرتے ہیں کہ وہ ستیہ گرہ کے قدامت پسندانہ مفہوم کے جال میں نہ پھنسیں، حقیقی حالات، ضروریات اورمقتضیات کو پیش نظر لائیں اوردیکھیں کہ کیا اس سے بہتر کوئی نظام کار ہمارے سامنے آیا ہے؟
ملک کی عام افسردگی کو پیش نظر رکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ بہ حالات موجودہ سوراج کی جدوجہد کامیاب ہوگی اور آج کتنے فیصدی لوگ جیل خانوں میں جانے کیلئے آمادہ ہیں؟ ایسا کون حواس باختہ ہے کہ ہندوئوں اور مسلمانوں کے فسادات، شدھی اور سنگٹھن کی تحریک، کونسلوں کی شرکت و عدم شرکت کے تنازعات وغیرہ سے واقف ہو اور پھر سوراج کی خاطر جیل خانے میں جانے پر آمادہ ہو جائے۔ افتراق اور بدنظمی کے اسباب بہت ترقی کر چکے ہیں۔ ان سب کا سدباب اور حقیقی راہ عمل پر گامزنی کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ مہاتما جی کو رہا کرایا جائے۔ جب وہ آزادہو جائیں گے تو سب کچھ اپنی اصلی حالت میں آ جائے گا۔ اس وقت لوگ اسی سرگرمی اور جوش کے ساتھ جیل خانوں میں جائیں گے جس جوش اور سرگرمی کے ساتھ 1921ء اور 1922ء میں جاتے تھے۔
ہمارے ہندو بھائیوں کو چاہئے کہ پورے جوش کے ساتھ اس میں حصہ لیں۔ لالہ دونی چند جی انبالوی اور دوسرے لوگ کہاکرتے ہیں کہ مسلمان کانگرس سے علیحدہ رہے، انہوں نے اس میں حصہ نہیں لیا، ان کے تمام اعمال و افعال کا مرکز بیرون ہند کے ممالک ہیں۔ ہندوستان کے اندر کے معاملات سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں ہے لیکن حقیقی حالت کیا ہے؟ آج کتنے ہندو ہیں جو ترک موالات کے نظام کی اسی حیثیت سے پابندی کر رہے ہیں جس حیثیت سے کہ 1921ء میں کر رہے تھے۔ بڑے بڑے ہندو رہنمائوں میں سے شاید ایک شخص بھی ایسا نہیں جو داخلہ کونسل کا حامی نہیں ہے۔ پرتاپؔ اور تیجؔ علانیہ عدالتوں کے مقاطعہ کی قرارداد کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ تعلیمی مقاطعہ کی یہ حالت ہے کہ پروفیسر رچی رام ساہنی اور تمام دوسرے ہندو میاں فضل حسین کی مخالفت کے جذبے سے متاثر ہو کر تمام سکولوں اورملازمتوں کو ہندوئوں سے بھر دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ تمام ہندو قومیت متحدہ ہند کے دعویدار ہونے کے باوجود علیحدہ اور جداگانہ سنگٹھن کیلئے جدوجہدکر رہ ہیں۔ لالہ دونی چند اور ان کے رفقائے کار اس بارے میں ان کی ہر ممکن امداد فرما رہے ہیں۔ یہ سب باتیں ہمارے سامنے ہیں تاہم الزام مسلمانوں کو دیا جاتا ہے کہ کانگرس سے علیحدہ رہے حالانکہ ہم اب تک حقیقی رنگ میں کانگرس کے نظام کار کی تائید کر رہے ہیں۔ ہم تعلیمی مقاطعہ کے حق میں ہیں، کونسلوں کے خلاف ہیں، عدالتوں کا مقاطعہ کر رہے ہیں۔ ابھی کل کی بات ہے کہ ہمارے مدیر و طابع کو دو دو سال کی قید اور تین تین سو روپیہ جرمانے کی سزا ملی۔ انہوں نے عدالت میں ایک حرف اپنی بے گناہی کے متعلق نہ کہا حتیٰ کہ پرتاپؔ کو بھی یہ لکھنا پڑا کہ اگر مقدمہ ہائیکورٹ میں جائے تو یقیناً سزا اڑ جائے گی۔ آج مہاتما جی کی رہائی کیلئے بھی مسلمانوں ہی کی زبانوں سے آواز بلند ہوئی ہے۔ لالہ دونی چند ہندوئوں اورمسلمانوں کی قوم پرستی کے اس تفاوت کو ملاحظہ فرمائیں اور انصاف سے کہیں کہ کانگرس کا ساتھ مسلمانوں نے دیا یا ہندوئوں نے؟ ثابت قدم مسلمان ہیں یا ہندو؟ سوراج سے حقیقی محبت مسلمانوں کو ہے یا ہندوئوں کو اور قابل تعریف مسلمان ہیں یا ہندو؟
خیر یہ تو ایک ضمنی معاملہ ہے اصل مقصد یہ ہے کہ جو شخص ہندوستان میں کام کرنا چاہتا ہے اسے چاہئے کہ مہاتما جی کی رہائی کیلئے کوشش کرے۔ جو موجودہ حالت کو قایم رکھنا اور ترقی دینا چاہتا ہے اسے اختیار ہے جو چاہے کرے۔ ہمعصر اکالیؔ تجویز پیش کرتا ہے کہ سوامی شردھا نند اور پنڈت مالوی کو بھی اس ستیہ گرہ میں شامل ہونا چاہئے لیکن ہم اپنے بھولے بھالے ہمعصر سے یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ اگر یہ لوگ کسی مردانہ تحریک میں شمولیت کے قابل ہوتے تو ملک میں افتراق کی آگ کیوں مشتعل ہوتی۔ کیا ہمیں گول میز کانفرنس کے حالات اور مالوی جی کے خیالات معلوم نہیں ہیں پھر آج ان سے کیا توقع کی جا سکتی ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حافظ محمد احمد خان اور منشی اللہ دتا
قارئین کرام کو اچھی طرح معلوم ہے کہ حافظ احمد خان اور منشی اللہ دتا صاحب کے مقدمے میں استغاثہ کا پہلو کس قدر کمزور تھا اور جس مضمون کی بناء پر مقدمہ چلایا گیا وہ دفعہ 124 الف کے ماتحت نہیں آتا۔ لالہ شینکر داس سٹی مجسٹریٹ، وکیل سرکار کی غیر مدلل، کمزور اور پھسپھسی تقریر پر بار بار مسکرا دیتے تھے اور بار بار ان سے استفسار کرتے تھے کہ آخر اس مضمون کے کون سے حصے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حکومت کیخلاف نفرت و حقارت پھیلائی گئی ہے۔ چنانچہ غالباً اسی خیال سے متاثر ہو کر مجسٹریٹ صاحب نے فرمایا کہ 24 اگست کو فیصلہ سنا دیا جائے گا لیکن 24 کو فیصلہ سنانے کے بجائے آپ نے کہاکہ استغاثہ کی شہادت ناکافی ہے۔ اگر وکیل سرکار مزید شہادت یا ثبوت پیش کر سکے تو 29 اگست کو پیش کرے لیکن 29 تاریخ کو کوئی مزید شہادت پیش نہ کی گئی۔ ہمیں خیال تو آیا تھا کہ لالہ شینکر داس صاحب جو ذاتی طور پر طبعاً شریف انسان واقع ہوئے ہیں اس موقع پر جرات سے کام لیں گے اور حافظ صاحب اور منشی جی کو بری کر دیں گے۔          (جاری ہے )