21 ستمبر 2018
تازہ ترین

مہاتما جی کی رہائی کیلئے ستیہ گرہ مہاتما جی کی رہائی کیلئے ستیہ گرہ

(12 ستمبر1923 ء کی تحریر ) 
مسلمان کانگرس کے وفادار ہیں یا ہندو؟
رئیس الاحرار مولانا محمد علی اور سیف الملت ڈاکٹر کچلو نے زندانِ فرنگ سے نکلتے ہی جو الفاظ اپنی زبان ہائے صداقت ترجمان سے نکالے وہ یہ تھے کہ ہماری سب سے پہلی زبردست اور بڑی کوشش یہ ہو گی کہ ہم مہاتما جی کو رہا کرائیں۔ ڈاکٹر کچلو تو اپنی مختلف تقریروں میں بالتخصیص اس مقصد پر زور دے چکے ہیں لیکن ڈاکٹر ستیہ پال اور ٹریبیونؔ نے یہ لکھنا شروع کر دیا ہے کہ مہاتما جی کی رہائی کیلئے ستیہ گرہ جائز نہیں ہے۔ جو دلائل وہ اس کے عدم جواز کیلئے پیش کرتے ہیں انہیں ہم نے پڑھا ہے لیکن افسوس کہ ہم ان سے اتفاق نہیں کر سکتے۔
ہم بارہا اس حقیقت ثابتہ پر زور دے چکے ہیں کہ تحریک کی افسردگی خلاف ورزی قانون کے التوا کے باعث شروع ہوئی اور اگر کوئی چیز دوبارہ اس میں جوش، سرگرمی اور سرفروشی کی حقیقی روح پیدا کر سکتی ہے تو وہ صرف خلاف ورزی قانون ہے۔ کانگرس نے سخت غلطی کی کہ مہاتما جی کی اسیری کے ساتھ ہی ان کی رہائی کیلئے ستیہ گرہ شروع نہ کی ورنہ ملک کے جوش عمل اور ولولہ کار میں یہ افسوسناک جزر رونما نہ ہوتا۔ آج مہاتما جی کی رہائی سے بڑھ کر ستیہ گرہ کیلئے  اور کوئی وجہ نہیں مل سکتی پھر معلوم نہیں کہ اس وجہ سے کام لینے میں کونسا حرج ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مہاتما جی اس کیخلاف تھے لیکن ہم پوچھتے ہیں کہ جو لوگ مہاتما جی کے اس خیال کی پابندی میں ان کی رہائی کیلئے ستیہ گرہ سے محترز رہنے کے دعویدار ہیں ان میں سے کتنے ایسے ہیں جنہوں نے مہاتما جی کے مسلمہ اصول کار کی پابندی کی۔ کیا وہ ان کے وضع کردہ  تعمیری نظام عمل کی ایک ایک شق کو تباہ نہیں کر چکے اور آج کونسلوں کے داخلہ پر اصرار کر کے ملک و قوم کی تمام امیدوں او رآرزوئوں کو خاک میں ملا دینے پر تلے ہوئے نہیں ہیں۔ بہت ممکن ہے کہ مہاتمام جی کا خیال ستیہ گرہ کے متعلق یہی ہو جو عام طور پر پیش کیا جاتاہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ ملک ان کے اس خیال کی حرف بہ حرف پابندی کرے۔ مہاتما جی اپنی آزادی کی قدر و قیمت کو اسی طرح محسوس نہیںفرما سکتے تھے جس طرح ملک محسوس کر سکتا تھا اور گزشتہ ڈیڑھ دو سال کی مدت کے تلخ تجربوں نے اسے محسوس کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ تحفظِ خلافت، مظالمِ پنجاب کی تلافی، حصول سوراجیہ، جابرانہ قوانین کی تنسیخ، یہ تمام باتیں بجائے خود نہایت اہم اور عظیم الشان ہیں لیکن ان کیلئے صحیح قومی اصول پر کوشش کرنا اس وقت تک قریب قریب ناممکن ہو گیا ہے جب تک ہندوستان کا وہ بے تاج تاجدار قید و بند سے رہا نہیں ہوتا۔ ہم نے تجربے کر کے دیکھ لیا کہ ہمارے تمام بڑے بڑے رہنما جو اس دور کے نہایت بلند منزلت انسان ہیں ہماری صحیح رہنمائی نہیں فرما سکتے یا کم از کم ملک ان کے ارشادات کی اس حیثیت سے تعمیل نہیں کر سکتا جس حیثیت سے مہاتما جی کے ارشادات کی تعمیل کرتا رہا ہے۔ جس وقت تمام بڑے بڑے رہنما قید خانوں میں تھے اور مہاتما جی اکیلے باہر تھے تو اس وقت ملک نہایت جوش، ایثار اور فدویت کے ساتھ آزادی کیلئے جدوجہد کر رہا تھا لیکن جب مہاتما جی قید ہو گئے تو تمام بڑے بڑے رہنمائوں کے آزاد ہونے اور ہر طرح کی مخلصانہ کوششیں کرنے کے باوجود جوش و سرگرمی کی اس حالت کو قایم نہ رکھ سکے جو ہندوستان کی سچی قومی زندگی کی آئینہ دار تھی اور آج ہزارہا بیماریاں ہیں جن کا کوئی علاج نظر نہیں آتا۔
کانگرس کا وقار زائل ہو رہا ہے، اس کا اتحاد رخصت ہو چکا ہے، رہنما مختلف الرائے ہو رہے ہیں۔ کوئی کچھ کہتا ہے کوئی کچھ کہتا ہے۔ نہ ان کے پاس متحدہ طریق عمل ہے جس کی ملک کو دعوت دیں اورنہ اس حالت میں وہ کوئی موثر کام کر سکتے ہیں۔ ہم نے انتظار کیا اور یہ امید باندھے بیٹھے رہے کہ ہمارے بزرگ کوئی نہ کوئی راہ عمل تلاش کریں گے اور متحدہ طور پر اس کی دعوت دیں گے لیکن ہماری یہ امید باطل ثابت ہوئی اور ہمارا خیال بالکل غلط نکلا۔ اس لئے اگر ہمیں کانگرس کو زندہ رکھنا ہے، اگر ہمیں سوراج کی جدوجہد کا قیام منظور ہے، اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہندوستان موجودہ مصیبت خیز اور ذلت انگیز تسفل سے باہر نکلے، غلامی کی بیڑیاں کاٹ ڈالے اور اپنی قسمت کی عنان اپنے ہاتھ میں لے لے، اگر ہماری خواہش ہے کہ ہم پر بھی دوسری آزاد قوموں کی طرح خدا کے سواکوئی حاکم و آمر نہ رہے تو ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنے اس مایہ ناز بزرگ کی رہنمائی سے استفادہ کی کوشش کریں جس نے ہمیں خواب غفلت سے بیدار کیا، ہمارے اندر آزادی کی سچی تڑپ پیدا کی اور ہم کو مذہبی اختلافات کے باوجود ایک ساحرانہ کارفرمائی سے بھائی بھائی بنایا۔ آج اس کی غیر حاضری میں ہماری حالت پہلے سے بھی بدتر ہو گئی ہے۔ جابجا ہندوئوں اور مسلمانوں میں چل رہی ہے، لڑائیاں ہوتی ہیں، اینٹی برستی ہیں، لاٹھیاں چلتی ہیں، خون بہتا ہے، لاشیں تڑپتی ہیں اور ہر قوم علیحدہ علیحدہ صف آرائی کر رہی ہے۔ متحدہ ہندوستان کی محبت دلوں سے نکل چکی ہے۔ اگر وہ آزاد نہ ہوا تو کہا جا سکتا ہے کہ ہماری موجودہ نادانیاں، موجودہ حماقتیں، تباہ کن دشمنیاں اور برباد کن عداوتیں ہندوستان کو کیسے کیسے ہولناک مناظر کا تختہ مشق بنا دیں گی۔ پس حالات موجودہ میں  اگر کوئی وجود ہماری حالت کو درست کر سکتا ہے تو صرف مہاتما جی ہیں اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم پوری کوشش سے انہیں آزاد کرائیں۔ یہ سب سے بہتر اور سب سے عمدہ تجویز ہے جو آج پیش کی گئی ہے۔    (جاری ہے)