19 نومبر 2018

مولانا ہار کے بھی جیت گئے مولانا ہار کے بھی جیت گئے

پُرامن انتقال اقتدار کے بعد ملک بھر میں ’’گیم آن‘‘ ہے، وفاق سمیت پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں عنان اقتدار تحریک انصاف اور اس کی اتحادی جماعتوں کے ہاتھ میں ہے۔ حکومت نے ’’ہنی مون پیریڈ‘‘ کا فائدہ بھی نہ اٹھایا اور قائد اعظم کے قول ’’ کام، کام اور صرف کام‘‘ پر عمل پیرا دکھائی دے رہی ہے۔ یار لوگوں کے خیال میں نو منتخب حکومت بعض معاملات میں بڑی عجلت میں دکھائی دے رہی ہے، ان بیچاروں کا یہ اندیشہ اپنی جگہ درست ہو سکتا ہے کیونکہ ان کا تعلق جن سیاسی جماعتوں سے ہے اور انہوں نے جو طرز حکمرانی دیکھا ہے، تحریک انصاف کی حکومت کا چلن اس جیسا تو بالکل نہیں لگ رہا، خدا کرے ویسا ہو بھی نہ، کیونکہ  ایسا ناصرف ملک و قوم کے لیے بہتر ہو گا بلکہ اس کا سب سے زیادہ فائدہ پہلی بار مسند اقتدار سنبھالنے والی جماعت  پاکستان تحریک انصاف کو بھی ہو گا۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ یہاں عام انتخابات کے بعد جب جب مینڈیٹ لے کر کوئی ایک جماعت یا اتحادی جماعتیں عنان اقتدار سنبھالنے کے لیے آگے بڑھتی رہیں، ان کی پیش قدمی سے قبل ہی عہدوں کی بندر بانٹ پر پھڈے شروع ہو جاتے تھے، جتنا بڑا عہدہ، اتنے بڑے پھڈے، پھر ان پھڈوں کی گونج ملکی سیاست کو کس طرح مکدر کرتی رہی یہ تماشا دنیا دیکھتی تھی۔ اس وقت پوری سرکاری مشینری فعال نظر آ رہی ہے، وزیر اعظم سے لے کر صوبائی وزراء تک ہر کوئی تازہ دم اور پُر عزم ہے اور گزشتہ ستر سال سے بگڑے ہوئے اس نظام کا قبلہ ہر صورت اور ہر قیمت پر درست کرنا ہے۔ کیا آج سے پہلے کوئی ایسی مثال ہے کہ الیکشن جیتنے والی جماعت نے ایک دور افتادہ پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک عام سے رکن صوبائی اسمبلی کو وزارت اعلیٰ کی مسند پر بٹھا دیا ہو؟ اس ملک میں جسے جب موقع ملا، اپنی ذات کو ناگزیر جانا اور ایسی ایسی بھونڈی مثالیں قائم کیں جن سے ملک کی سیاسی تاریخ آلودہ نظر آتی ہے۔ یہ تحریک انصاف ہی ہے جس نے ملکی سیاست میں ایک نئی مثال قائم کی لیکن یار لوگوں کو عثمان بزدار ہضم ہو رہے ہیں نہ ہی تحریک انصاف کی نئی مثال، کپتان کے اس فیصلے سے ان کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے، بازار میں کوئی ایسا چورن بھی دستیاب نہیں جو ان بیچاروں کا علاج کر سکے کیونکہ یہ مروڑ کوئی سادہ مروڑ تو ہیں نہیں، اوپر سے اس بات کی ٹینشن کہ اب ان بیچاروں کا اپنا چورن بھی بکنا بند ہو جائےگا۔
چورن سے یاد آیا، صدارتی الیکشن میں مولانا فضل الرحمٰن نے خوب رنگ جمایا اور وہ ہار کر بھی جیت گئے، اس پر مفصل گفتگو آگے چل کر کریں گے، فی الحال اپنے اصل موضوع پر رہتے ہیں۔ تاریخ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ جن معاشروں میں بادشاہت ہوا کرتی تھی، وہاں قانون نام کی کوئی شے نہیں پائی جاتی تھی، چیک اینڈ بیلنس کا نظام تو سرے سے موجود ہی نہیں ہوتا تھا، حاکم وقت تن تنہا سیاہ و سفید کامالک ہوتا تھا، وہ دن کو رات کہہ دے یا رات کو دن، بیچارے درباریوں کے پاس ’’جی حضوری‘‘ بجا لانے کے سوا کوئی راستہ موجود نہیں ہوتا تھا۔  انسانی شعور نے جیسے جیسے ترقی کی اور یہ بات سمجھ میں آئی کہ ’’عقل کل‘‘ بادشاہ نہیں ہے، بادشاہ کے علاوہ بھی معاشرے میں سمجھدار لوگ موجود ہیں اور معاشرے کو درست سمت لے جانے کے لیے ایسے ہی لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی بنا پر اس ضرورت کو محسوس کیا گیا کہ نظام حکومت شفافیت پر مبنی ہونا چاہیے اور اس کی سمت بالعموم عوام کے مفاد میں ہو۔ جمہوری نظام میں عوام ہی عنان اقتدار کچھ منتخب لوگوں کے سپرد کرتے ہیں اور انہیں تمام اختیارات تفویض کرتے ہیں۔ جمہوری نظام میں عوام کو ہی یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ حکومتوں کی کارکردگی اور ان کے طرز حکومت کا جائزہ لیں یا ان پر نظر رکھیں۔ اس مقصد کو پورا کرنے کے لیے ریاست 
میں بہت سے ادارے وجود میں آتے ہیں۔ اسی طرح حکومت کے کچھ ادارے بھی سرگرم رہتے ہیں جو دیگر اداروں کے معاملات پر نظر رکھتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کہیں کوئی بے قاعدگی یا بدعنوانی کے معاملات تو موجود نہیں۔ ایسے معاملات میں یہ ادارے اپنا کردار ادا کرتے ہیں اور عدلیہ ان کی معاونت کرتی ہے۔ اسی طرح جمہوریت کا سفر آگے کی طرف جاری رہتا ہے، اگر جمہوریت میں سے احتساب کا عمل نکل جائے تو پھر آمریت اور جمہوریت میں کوئی فرق نہیں رہتا۔
پاکستان میں جمہوریت تو موجود تھی لیکن ایسی جمہوریت جس میں بادشاہت کا رنگ غالب نظر آتا تھا، تمام سیاست پارٹی سربراہ کے گرد گھومتی تھی، اسی کی ذات اختیار اور طاقت کا مرکز و محور سمجھی جاتی۔ ہمارے ہاں انٹرا پارٹی الیکشن کا تو کبھی کوئی رواج ہی نہیں رہا، اگر آئینی مجبوری کے تحت انٹراپارٹی الیکشن کرانا ضروری  بھی ہوتا تو یہ محض رسمی کارروائی ہوتے۔ ایک منصوبے کے تحت پارٹی قیادت پھر اسی کی جھولی میں ڈال دی جاتی جو پہلے سے ’’مسند‘‘ پر قابض ہوتا، یہی وجہ ہے کہ ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں پر چند خاندانوں کا قبضہ ہے۔ یہ تو بھلا ہو عمران خان کا جس نے آ کر اس روایتی سیاست کے ’’بت‘‘ کو پاش پاش کر ڈالا۔
25 جولائی کے انتخابات کے بعد سے ملکی سیاست کی رت بدل چکی ہے، جمہوریت پر بادشاہت کا جو رنگ غالب تھا وہ اب پھیکا پڑ رہا ہے، تحریک انصاف کی حکومت ہر اس نظام کو اکھاڑنے کے لیے پُرعزم ہے جو عوام کے استحصال اور ملک کے نقصان کا باعث بنا ہوا ہے، کرپشن میں لتھڑے ہوئے کسی ’’پرزے‘‘ کو آزمانے کے لیے تیار نہیں، یہی حقیقی تبدیلی ہے۔ تبدیلی کے اس سفر نے گزشتہ روز ایک اور سنگ میل عبور کر لیا، حکمران جماعت کے حمایت یافتہ صدارتی امیدوار ڈاکٹر عارف علوی نے اپنے مد مقابل دو منجھے ہوئے سیاستدانوں چوہدری اعتزاز احسن اور مولانا فضل الرحمٰن کو عبرت ناک شکست دے ڈالی اور مسند صدارت پر متمکن ہو گئے۔ بلاشبہ یہ تحریک انصاف کی بہت بڑی کامیابی اور اپوزیشن جماعتوں کی بدنامی ہے کیونکہ اپوزیشن جماعتوں نے صرف صدارتی الیکشن ہی نہیں ہارا 
بلکہ جس گراؤنڈ پر انہوں نے متحدہ اپوزیشن کا کردار ادا کرنا تھا، اسے بھی گنوا دیا۔
بعض دوستوں کا خیال ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن نے منفی کردار ادا کیا ہے، آصف علی زرداری نے تو یہاں تک کہہ ڈالا کہ مولانا کو نکاح پڑھانے کے لیے کہا تھا وہ اپنا ہی نکاح پڑھوا آئے۔ پیپلز پارٹی کے قائدین کے شکوے اپنی جگہ لیکن ایک بار پھر انہوں نے ثابت کر دیا کہ ہمیشہ مشکل حالات میں راستہ بنانے کا فن وہ خوب جانتے ہیں، ہمارے ملک میں گزشتہ 70 سال سے جو سیاست چلی آ رہی ہے، اس میں یہی کچھ تو ہوتا آیا ہے۔ ایک بار شیخ رشید احمد نے مولانا فضل الرحمٰن کے بارے میں بڑی گہری بات کہی تھی، ان کا کہنا تھا کہ مولانا ہمیشہ اپنے پتے چھاتی سے لگا کر رکھتے ہیں اور موقع آنے پر ان کا بہترین استعمال کرتے ہیں، مولانا نے اس بار بھی اپنے پتے چھاتی سے لگا کر رکھے اور انہوں نے ثابت کیا کہ ان پتوں کا اس سے بہتر استعمال نہیں ہو سکتا تھا، الیکشن کے بعد جو سیاسی منظر نامہ ہمارے سامنے ہے اسے دیکھ کر تو سراج الحق، علامہ ساجد نقوی، پروفیسر ساجد میر اور صاحبزادہ اویس نورانی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ متحدہ مجلس عمل صدارتی الیکشن میں اپنا امیدوار کھڑا کر سکتی ہے، یہ مولانا فضل الرحمٰن کی فہم و فراست اور مہارت کا کمال ہے کہ کیسے انہوں نے کھیل کا پانسہ پلٹا اور خود صدارت کے امیدوار بن گئے۔  وہ صرف متحدہ مجلس عمل ہی کی طرف سے صدارتی امیدوار نہیں تھے بلکہ پیپلز پارٹی کے علاوہ تمام اپوزیشن جماعتیں اپنا وزن مولانا کے پلڑے میں ڈالنے پر مجبور تھیں۔ یہی عجب سیاست کے غضب رنگ ہیں، جن سے نظر نہیں چرائی جا سکتی۔ اب دیکھنا یہ ہو گا کہ جنہوں نے ہاتھ کیا اور جن سے ہاتھ ہوا، وہ سب اس صورتحال سے کیا سبق سیکھتے ہیں۔