مولانا گرامی مولانا گرامی

(10 دسمبر 1923ء کی تحریر)
اسی سلسلے میں ہمیں زمانہ حاضر کے بہترین فارسی شاعر حضرت مولانا گرامی کی خدمت میں بھی عرض کرنا ہے کہ آخر کب تک دنیا کی آنکھیں کلام گرامی کے مجموعے کیلئے ترستی رہیں گی۔ ہندوستان کی شورزا سرزمین کہیں صدیں میں ایک ایسا قابل ذکر شاعر پیدا کرتی ہے جس کے نغمے نوائے ازل سے ہم آہنگ ہوں۔ لیکن اگر اس کا کلام بھی گمنامی کے پردے میں مستور رہے تو پھر ہندوستان کی قسمت پر جتنا ماتم بھی کیا جائے بجا و درست ہے۔ قارئین کرام یہ سن کر حیران ہوں گے کہ آج تک مولانا گرامی نے اپنے کلام کا کوئی مجموعہ بیاض کی صورت میں بھی مرتب نہیں کیا بلکہ سارا کلام حافظہ ہی کے خزانے میں محفوظ ہے۔ جس حالت میں ایسا قابل ذکر استاد عمر کے اعتبار سے چراغ سحری ہو رہا ہو۔ (اللہ تعالیٰ مدت تک مولانا کو ہمارے سر پر قایم رکھے) تو یہ امر اور بھی زیادہ تشویش انگیز ہو جاتا ہے۔ کیا مولانا کے تلامذہ واحباب میں کوئی صاحب ایسے نہیں جو جناب ممدوح کے کلام کو مرتب کرنے کی تکلیف گوارا فرمائیں۔ اگر یہ بے نظیر شاعر اپنے لاثانی تخلیل کے نتائج کو اپنے ساتھ لے گیا تو اس نقصان کی تلافی قیامت تک نہ ہو سکے گی اور آیندہ نسلیں مولانا کی ان چند غزلوں کو جو اخباروں میں شایع ہو کر قوم تک پہنچ چکی ہیں دیکھ کر ہماری غفلت و بدمذاتی پر لعنت بھیجا کریں گی اور ان لوگوں کو کوسا کریں گی جن کے زمانے میں ایسا استاد موجود تھا اور جنہوں نے اس کے کلام کی ترتیب سے اس قدر بے اعتنائی برتی۔
ہمیں امید ہے کہ حضرت مولانا گرامی کے احباب ہماری اس التجا پر غور فرمائیں گے اور پوری پوری سعی و کوشش سے ممدوح کا سارا کلام مرتب کر لیں گے۔ ہم مولانا گرامی کی خدمت میں بھی عرض کرتے ہیں کہ جناب تھوڑی سی تکلیف گوارا فرما کر مجموعہ مرتب کرا دیں اور اس کو جلد سے جلد شایع کرنے کا اہتمام فرمائیں۔ ہم اپنی استدعا کے حوصلہ افزا جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جمہوریہ ترکی اور مسئلہ خلافت
وفدِ خلافت بھیجنے کی تجویز
(12 دسمبر 1923ء کی تحریر)
پچھلے دنوں رائٹر ایجنسی نے ایک تار میں دنیا پر یہ ظاہر کیا تھا کہ فتحی بے نے خلیفتہ المسلمین کے تقرر و انتخاب کیلئے مجلس جمہوریہ ترکی ہی کو حقدار گردانا ہے اور اس سے یہ نتیجہ نکالا جا رہا ہے کہ آیندہ مجلس عالیہ ملیہ انگورہ تقرر خلیفہ میں دنیائے اسلام سے مشورہ کی ضرورت نہیں سمجھے گی۔ حالانکہ اس قسم کا خیال قطعاً غلط فہمی پر مبنی ہے اور اس پروپاغندا کا ایک حصہ ہے جو ترکان احرار کو دنیائے اسلام میں بدنام کرنے کیلئے مخالفین اسلام کی طرف سے پھیلایا جا رہا ہے۔ مجلس عالیہ انگورہ اعلان کر چکی ہے کہ آیندہ دیگر ممالک کے مسلمانوں کے نمایندے بھی انتخاب خلیفہ میں رائے دے سکیں گے۔ اس کے علاوہ گزشتہ انتخاب میںترک اپنے عمل سے ثابت کر چکے ہیں کہ وہ دنیائے اسلام کو اس شرعی اور دینی حق سے محروم کرنے کا کوئی قصد نہیں رکھتے۔ چنانچہ انہوں نے امیدواران خلافت میں صرف ترک شہزادوں ہی کو نہیں رکھا بلکہ اعلیٰ حضرت شہریار غازی افغانستان کا نام بھی پیش کیا تھا۔
اگر فتحی بے نے فی الحقیقت وہی کچھ کہا ہے جو رائٹر نے ہم تک پہنچایا اور صاحب ممدوح کا مقصد یہی ہے کہ ترکوں کے سوا خلیفہ کے انتخاب کا حق کسی کو حاصل نہیں تو ان کا خیال بالکل غلط ہے۔ شرعی اعتبار سے اس کی کوئی حیثیت نہیں اور صرف ترکوں کا مقرر کیا ہوا خلیفہ ساری دنیائے اسلام کا مقتدائے مذہبی نہیں ہو سکتا۔ یہ دوسری بات ہے کہ دنیائے اسلام ترکان مجاہد کی خدمات اسلامی کو مدنظر رکھ کر اوران کو اسلام کے مقاصد عالیہ کے بہترین محافظ قرار دے کر یہ حق دے دیں کہ وہ خلیفہ کا انتخاب کر لیں اور ان کا ساختہ پرداختہ ساری دنیائے اسلام کے نزدیک قابل قبول ہو۔ اس صورت میں تقاضائے احکام شرعی بھی پورا ہو جائے گا اور انتخاب خلیفہ میں کسی قسم کی بے سود مشکلات بھی پیش نہ آئیں گی۔    (جاری ہے)