26 ستمبر 2018
تازہ ترین

مولانا کی صدر بننے کی خواہش! مولانا کی صدر بننے کی خواہش!

گزشتہ دو ماہ سے پاکستان کے سیاسی ماحول میں تلاطم سا برپا تھا، پہلے ریلے میں عام انتخابات ہوئے۔ 1971ء کے بعد یہ واحد انتخابات ہیں جو بڑے بڑے سیاست دانوں کی امیدیں بہا لے گئے۔ جو کامیاب ہوئے وہ اپنی کامیابی پر نازاں ہیں، جو ناکام ہوئے ان کی بے چینی ختم نہیں ہو رہی اور وہ دوبارہ موقع کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ ابھی عام انتخابات کی تھکاوٹ ختم نہیں ہوئی تھی کہ ملک میں صدارتی انتخاب کا میلہ سج گیا اور ایک بار پھر رسہ کشی شروع ہو گئی۔ 4ستمبر کو ہونیوالے صدارتی انتخاب میں حکومت اور اپوزیشن میں جوڑ پڑ چکا ہے۔ حکومت کی خواہش ہے کہ مضبوط اپوزیشن کے ’’بے لگام گھوڑے‘‘ کسی صورت بھی سیاسی اصطبل میں اکٹھے نہ ہوں جبکہ اپوزیشن کے منقسم دھڑے نہ چاہتے ہوئے بھی یہ کوشش کر رہے ہیں کہ کوئی ایسی صورت آن پہنچے کہ وہ حکومتی امیدوار ’’ڈاکٹر‘‘ کو اس سیاسی ہسپتال میں آنے سے روک سکیں، مگر سیاست دانوں کی اپنی مجبوریاں اور بے چارگیاں ہوتی ہیں، جو اس الیکشن میں ایک دیو قامت کی طرح کھڑی نظر آ رہی ہیں۔ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی طرف سے متفقہ امیدوار لانے کے لیے اپنے تئیں معتدل شخصیت مولانا فضل الرحمٰن کا انتخاب کیا گیا جن کی اپوزیشن جماعتوں کے تمام دھڑوں میں ایک واجبی سی ساکھ موجود ہے۔ مولانا جو پیپلز پارٹی کی حکومت میں آصف علی زرداری کی مونچھ کا بال رہے جبکہ میاں نوازشریف کے دور میں بھی ان کی سیاسی پتنگ خوب بلند تھی۔ مولانا فضل الرحمٰن کو ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی کے بڑوں کے اختلافات مٹا کر انہیں ’’صراط مستقیم‘‘ پر لے آئیں۔ مولانا نے اپنے تئیں آنیوں جانیوں میں کئی دن لگائے مگر دونوں جماعتیں انا پر ڈٹی رہیں۔ اس ساری مشق کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک دن اچانک انکشاف ہوا، مولانا ایک جماعت کے دوسری جماعت تک پیغامات لے جاتے لے جاتے خود ہی متحدہ اپوزیشن کی طرف سے صدارتی امیدوار بن بیٹھے اور ان دنوں آنکھوں میں صدارت کے خواب سجائے سیاسی ’’سلامیاں‘‘ اکٹھی کرنے کیلئے کوشاں ہیں اور اپنی صدارتی مہم کے لیے ملک گیر دورے پر ہیں، آخری اطلاعات تک انہیں مسلم لیگ(ن) اور اس کی اتحادی جماعتوں کے علاوہ کسی بھی جماعت کی طرف سے حمایت کی یقین دہانی نہیں کرائی گئی۔
مولانا فضل الرحمٰن کی گزشتہ چند دنوں کی سیاسی سرگرمیوں پر ہمیں دو دہائی پرانا واقعہ یاد آ گیا، جو شہر کی ایک اہم شخصیت کے حوالے سے مشہور اور کئی سال تک زبان زدِ عام رہا۔ ایک نوبیاہتا جوڑا جس نے طویل محبت کے بعد اپنی پسند کی شادی کر کے سہانے سپنے سجا کر ازدواجی زندگی کی ابتدا کی تھی، مگر چند ماہ بعد ہی بعض مسائل کی وجہ سے اس محبت کی چاشنی میں تلخی کا فشار خون بلند ہونا شروع ہو گیا، نوبت یہاں تک پہنچی کہ غصے کی حالت میں نوجوان نے بیوی کو زبانی طلاق دے کر اپنی ازدواجی زندگی سے الگ کر دیا۔ یہ صورتحال کچھ دنوں بعد دونوں کے لیے پچھتاوے کا باعث بنی تو وہ دونوں پشیمانی کے عالم میں اپنے مسئلے کا حل تلاش کرنے چل پڑے۔ ادھر اُدھر سے مشورے کیے تو انہیں بتایا گیا کہ وہ شہر کی اس اہم شخصیت کے پاس جائیں وہ اس مسئلے کا حل ضرور بتائیں گے۔ یہ پشیمان جوڑا اپنی مشکلات لیے بے چارگی کے عالم میں اس بزرگ شخصیت کے پاس پہنچا اور اپنا مدعا بیان کیا۔ نوجوان نے بتایا کہ اس نے غصے کی حالت میں بیوی کو طلاق دی ہے، جس کا وہ شرعی طریقے سے ازالہ چاہتا ہے، تو موصوف نے زیر لب مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ برخوردار طلاقیں غصے کی وجہ سے ہی ہوتی ہیں، تاہم اس کا شرعی حل صرف اور صرف حلالہ ہے، اس کے بغیر آپ اس خاتون سے دوبارہ رجوع نہیں کر سکتے۔ نوجوان یہ سن کر سکتے میں آ گیا، کسی دوسرے حل پر اصرار کیا تو اس شخصیت نے دو ٹوک الفاظ میں وہی شرعی حل دوہرایا اور مشورہ دیا کہ کوئی ایسا معقول شخص تلاش کریں جو شادی کے تین چار دن بعد خاتون کو طلاق دیدے تو پھر آپ شرعی معاملات دیکھنے کے بعد خاتون سے دوبارہ شادی کر لیں۔ نوجوان سوچ میں پڑ گیا پھر بے ساختہ اس کے منہ سے یہ جملہ نکلا کہ میرا تو کوئی ایسا جاننے والا نہیں، کیا آپ یہ کار خیر سرانجام دے سکتے ہیں؟ جس پر اس شخصیت نے کچھ حیل وحجت کے بعد رضامندی کا اظہار کر دیا۔ معاملات طے ہوئے خاتون اس شخصیت کے نکاح میں آ گئی تقریب میں نوجوان بھی موجود تھا۔ طے شدہ پروگرام کے تحت نوجوان سہانے سپنے سجائے جب چند دن بعد اس شخصیت سے ملنے آیا اور التجا کی کہ جناب! معاہدے کے مطابق اب آپ میری سابقہ بیوی کو طلاق دیدیں تو اس شخصیت نے کہا کہ بالکل یہی طے ہوا تھا۔ اس شخصیت نے اپنی بیوی کو بلایا اور اس کے سابقہ شوہر کا اصرار بتایا تو خاتون نے بغیر کسی توقف کے بتایا کہ وہ اب طلاق لینے والی نہیں اور اپنی اسی زندگی میں عافیت سمجھتی ہے۔ نوجوان کی آہ و بکا بھی اس کا دل موم نہ کر سکی۔ بعد ازاں وہ نوجوان اپنی بپتا لیے اخبارات کے دفاتر کے چکر لگاتا رہا مگر ساری مشق لاحاصل رہی۔ وہ نوجوان اب کہاں ہو گا اس کا پتا نہیں البتہ خاتون آج بھی کئی سال سے اسی شخصیت کی بیوہ کی زندگی گزار رہی ہے۔
گو اس واقعہ کا ملک کے صدارتی انتخابات سے بظاہر کوئی تعلق نہیں بنتا مگر ہمارے مولانا فضل الرحمٰن نے اس سے ملتا جلتا ہی کام کیا ہے کہ پیپلز پارٹی چاہتی تھی کہ مولانا مسلم لیگ(ن) اور اپوزیشن کی دیگر سیاسی جماعتوں کو ان کے امیدوار چوہدری اعتزاز احسن کو متفقہ امیدوار بنانے پر قائل کریں جبکہ مسلم لیگ(ن) کی خواہش تھی کہ مولانا پیپلز پارٹی کو ان کی جماعت کے امیدوار کے نام پر راضی کریں۔ مولانا نے عین درست راستہ نکالا کہ چونکہ وہ دونوں جماعتوں کے ’’ثالث‘‘ ہیں اس لیے ان کی نامزدگی پر کسی کو اعتراض نہیں ہو گا، جبھی وہ خود ہی صدارتی امیدوار بن بیٹھے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ آج کے دور میں لوگوں کے حافظے ماضی کے مقابلے میں کافی تیز ہوتے ہیں، اس لیے ان کو یہ بھی یاد ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کے بارے میں بھی ایک ’’وکی لیکس‘‘ ہوئی تھی، جس میں انہوں نے پاکستان میں تعینات امریکی خاتون سفیر اینڈرسن سے اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ وہ پاکستان کے وزیراعظم بننا چاہتے ہیں اور اس صورت میں وہ ان کے ’’مفادات‘‘ کا تحفظ کریں گے۔ اس پر امریکی سفیر نے کوئی جواب دینے کے بجائے مسکراتے ہوئے منہ پھیر لیا تھا، مولانا نے آج تک کبھی اس بات کی تردید نہیں کی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ انتخابی دنگل ہارنے کے بعد مولانا کے دل میں ایک چنگاری سے اٹھی ہے کہ وہ اقتدار سے باہر کیوں ہیں؟ کیونکہ انہیں ہمیشہ اقتدار میں رہنے کی عادت ہے۔ وہ اپنی سیاست کے بل بوتے پر کسی نہ کسی شکل میں اقتدار سے جڑے ہی رہے ہیں۔ اب کی بار انہوں نے سوچا کہ وزارت عظمیٰ نہ سہی، کشمیر کمیٹی کی چیئرمین شپ نہ سہی، اپوزیشن لیڈر نہ سہی، قومی اسمبلی کی رکنیت نہ سہی تو پھر ملک کا سب سے بڑا عہدہ یعنی صدارت ہی سہی۔ آخر ان کے صدر مملکت بننے میں کیا خامی ہے؟ لیکن خواہشات پر بھی تو کوئی پابندی نہیں، بس اتنا ہی کہ
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے
بہت نکلے میرے ارمان، لیکن پھر بھی کم نکلے