من کی بات۔۔۔ من کی بات۔۔۔

کیا بات تھی! کیا جوش تھا! Literally بہار ہی بہار تھی۔ منہ کا ذائقہ بالکل بدل گیا۔ بدلنا بھی تھا کیونکہ ملک میں عورتوں کا عالمی دن منایا جارہا تھا وہ بھی ایسا، ویسا! عورت مارچ ہے۔ اس میں جو مطالبات اور Slogans پوسٹرز کی زینت بنے، وہ اس دن کویقیناً next levelپر لے جانے کی نشاندہی کررہے تھے، وہ خواتین و حضرات جن کو پوسٹرز کی تحریروں سے زور کا دھچکا لگا ہے، وہ ہمیں کہنے کی اجازت دیں کہ جناب یہ 2019 ہے اور آپ کا مسئلہ یہ ہے کہ مارچ کی منتظمین کی طرح آپ between lines جو ہے اس کو پڑھنے کی کوشش نہیں کررہے، تبھی تو آپ ان نعروں کے پیچھے پوشیدہ عقل و فہم کو سمجھ نہیں پائے۔ سیدھی بات کا نہیں بلکہ abstract کا ٹائم چل رہا ہے، ورنہ آپ ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ پر تلملانے کے بجائے اس کی تحسین کرتے کہ ملک میں عورت کی شناخت بحیثیت ایک انسان اس قدر مستحکم ہوگئی ہے کہ اس کا عورت پن کہیں کھوگیا ہے، اسی کی تلاش میں یہ نعرہ لگا تاکہ اہل معاشرہ کو یاد دلایا جائے کہ عورت صرف انسان نہیں ایک عورت بھی ہے! نقاد اس نکتے کو مدنظر رکھیں کہ امتیازی قوانین، متعصبانہ رویے و تفریق، غیر منصفانہ معاشی و سیاسی نظام سے چھٹکارے کے بعد اب وقت آگیا ہے کہ ببانگ دہل اعلان کردیا جائے کہ ’’تمہارا موزہ کہاں مجھے نہیں پتا۔‘‘ ہم یہاں یہ ضرور کہیں گے کہ اگر یہ بھی بتادیا جاتا کہ موزہ زنانہ ہے یا مردانہ تو بات مزید واضح ہوجاتی، کیونکہ زنانہ موزوں کی تو ہمیں ہمیشہ خبر رہتی ہے۔ جانتے تو ہم مردانہ موزے کی location کو بھی ہیں لیکن جدیدیت کا معاملہ ہے، اس لیے بتائیں گے نہیں!
رہ گئی بات گھروں اور کام کاج کی جگہ پر ہراسگی کے خاتمے کی تو اس پر باقاعدہ قانون سازی ہوچکی، لہٰذا عالمی دن پر اس ایشو پر بات وقت کا زیاں ہوتا۔ اسی طرح عزت کے نام پر قتل ہونے والیوں کا حساب کتاب تو آئے دن برابر ہورہا ہے، اگر کوئی کم عقل انصاف کی طلبی پر اصرار کرے تو ہمیشہ کیلیے زبان بندی کردی جاتی ہے۔ مرحوم افضل کوہستانی کی مثال ہمارے سامنے ہے، جنہیں 7مارچ کو دن دیہاڑے قتل کردیا گیا، کیونکہ وہ ان پانچ لڑکیوں کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلیے کئی سال سے قانونی جنگ لڑرہے تھے جو Honor Killing کا شکار ہوئیں۔ میڈیا میں اتنے زیادہ مشتہر ہونے والے کیس کا نتیجہ ایسا ہو تو بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنا کہاں کی معاملہ فہمی ہے؟ افضل کوہستانی کے قتل کی مذمت اور انصاف کے مطالبے کا یا antiwar کا کوئی پوسٹر مارچ میں نہ ہونے کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ فن کے طور پر منانے والے دن میں seriousness کچھ وارا نہیں کھاتی۔
مارچ کی ایک اور Development جس کی تعریف کرنے کے بجائے تنقید کی گئی، کہ خواتین خود کو برا بھلا کہنے میں عار محسوس نہیں کررہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک بڑی کامیابی ہے خواتین نے دوسروں سے وہ space چھین لیا کہ لوگ انہیں آوارہ سمیت دیگر نازیبا خطابات سے نوازتے تھے۔ اب اس کے حق ملکیت کی دعویدار وہ خود ہیں۔ اسے کہتے ہیں نہلے پہ دہلا۔
عورت مارچ کو جس قدر پبلسٹی ملی، ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دن کس قدر کامیابی سے منایا گیا۔ اس روز اگر ذکر کیا جاتا، سول رائٹس کا، مزدور کسان خواتین کا، یکساں کام کے یکساں معاوضہ کا، تشدد کے خاتمے، اقلیتی خواتین کے تحفظ کا تو آپ ہی بتائیں کتنی میڈیا کوریج ملتی؟ کتنے ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرتے؟ کتنے پوسٹرز کی تصاویر share ہوتیں؟ یہ وائرل ہونے کی کوشش کرنے کا زمانہ ہے۔ ایسے میں substance کا ہونا نہ ہونا بے معنی ہوگیا ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے سیاست میں کھوکھلے نعروں اور لمبی لمبی پھینک کر کچھ سیاستدان وائرل ہوئے ہیں۔ انہیں تو ہیرو مان کر سر آنکھوں پر بٹھایا ہوا ہے لیکن اگر عورتوں نے ایک دن کچھ نعرے لکھ کر تصاویر بنوالیں تو ہائے، توبہ ہی ختم ہونے میں نہیں آرہی۔ ویسے بھی ہم کیوں بھول گئے کہ ہم کلاس driven معاشرے میں رہتے ہیں، جہاں جس طبقے کو جو تکلیف ہوگی، وہ اُسی کی بات کرے گا۔
 بھوک، افلاس، ناداریوں کا جن کی زندگیوں میں کوئی دخل نہیں، وہ تب تک اس کا ذکر نہیں کرتے جب تک انہیں حکومت نہ سنبھالنی ہو، یا لمبے لمبے لاحاصل ٹاک شوز کی میزبانی سرانجام نہ دینی ہو۔ سیاستدان جب چاہیں ناگفتہ بہ زبان کا استعمال کریں تو کوئی چوں نہیں کرتا۔ اب چند سو خواتین نے اپنے ان مسائل کا کھلے عام اظہار کردیا، جس سے انہیں روزمرہ زندگی میں دوچار ہونا پڑتا ہے تو سب کے اخلاق ڈگمگاکر رہ گئے۔ اگرچہ ان میں سے کچھ ایشوز ایسے تھے جو کپل کونسلنگ سے باآسانی حل ہوسکتے ہیں، لیکن پھر بھی دل کی بات کہنے پر اتنا واویلا۔ ادھر بھارت میں دیکھیں ایک شخص من کی بات کرنے پر پچھلے پانچ سال سے Power سے لطف اندوز ہورہا ہے اور لگتا ہے آئندہ بھی ہوتا رہے گا۔ دیکھا discrimination! مرد من کی بات کرے تو وزیراعظم، عورت کرے تو ولن۔
مارچ کرتی آج کی عورت پر واضح ہوگیا کہ دشمن کون ہے؟ اب آگے کی ساری struggle معاشرے میں عدل، برابری اور صنفی مساوات کے لیے نہیں بلکہ اس دشمن کے خلاف ہے جو ’’مرد‘‘ کہلاتا ہے۔ اگرچہ ہمیں اندیشہ ہے کہ جس طرح بااختیار جب اپنی ناکامیوں، نااہلیوں اور کوتاہیوں کو چھپانا چاہیں تو وہ لوگوں کو distract کردیتے ہیں، جیسے بھارت میں مودی نے جنگ کا طبل بجا رکھا ہے اور ہمارے ہاں بحرانی حالات کا رونا رویا جارہا ہے۔ ایسے میں تعلیم، صحت، روزگار، اجرتوں، مہنگائی، تیل پانی، بجلی جیسے عوامی مدعوں پر کیونکر بات ہو اور کب صاحب اقتدار سے جواب طلبی کی جائے کہ جناب خواتین کی empowerment کے لیے نئے پروجیکٹ تو درکنار جو پرانے پروجیکٹس تھے انہیں کیوں بند کیا جارہا ہے؟ سوال نہیں ہوں گے تو جواب دینے کی مجبوری بھی ختم ہوجائے گی، کہیں عورت مارچ میں لگائے گئے نعرے بھی تو کچھ ایسی ہی distraction کا حصہ نہیں؟ اس سارے ہنگامے میں ایک بات جو ہمیں ناگوار لگی وہ تھی نعروں کی لکھائی جو انتہائی خراب تھی۔ انگلش سے لفظ بہ لفظ ترجمہ کیے نعروں کی ایسی بُری لکھائی! لگتا ہے یہ کسی ’’نر‘‘ کا کیا دھرا تھا۔ امید ہے آئندہ thought provke کرنے کے ساتھ ساتھ display  کا بھی خیال رکھا جائے گا!