منفی سیاست سے گریز ضروری ہے منفی سیاست سے گریز ضروری ہے

یوں تو عدم برداشت، سیاسی انتقام اور مخالفت برائے مخالفت کی سیاست پاکستان کے سیاسی نظام میں کوئی نئی چیز نہیں لیکن تحریک انصاف کی حکومت کے قیام کے بعدسے اس میں تسلسل کے ساتھ شدت دیکھی جا رہی ہے۔ الزامات و انتقام اور نفرت و تعصب کی سیاست کے شدت پکڑنے سے ملکی و عوامی سطح پر مرتب ہونے والے مضر اثرات و نتائج پر بات کرنے سے پہلے اس مایوس کن صورتحال کے ذمہ دار عوامل کو بیان کرنا ناگزیر ہے۔ موجودہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے ہمیں سابقہ دور حکومت میں بطور اپوزیشن تحریک انصاف کے احتجاجی کردار کو بالعموم اور انتخابات سے چند ماہ قبل کے سیاسی منظر نامے کو خاص طور پر ذہن میں رکھنا چاہیے۔ سابقہ حکومت کے قیام کے ساتھ ہی تحریک انصاف نے پہلے دھاندلی اور بعد ازاں پاناما ایشو پر احتجاجی اور دھرنوں کی سیاست سے حکومت کو عملی طور پر مفلوج کر کے ملک میں نوے کی دہائی کی احتجاجی سیاست کا احیا کیا۔ نوے کی دہائی کی سیاست کی خاص بات اس وقت کی دونوں بڑی جماعتوں کا ایک دوسرے کے خلاف دھاندلی اور کرپشن کے الزامات عائد کرتے ہوئے احتجاجی و الزاماتی سیاست پر کاربند رہنا تھا۔ نوے کی دہائی میں ایک دوسرے سے دست و گریبان رہنے والی دونوں بڑی جماعتوں نے اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہوئے میثاق جمہوریت کی بنیاد رکھی۔ 36نکات پر مشتمل میثاق جمہوریت میں ڈکٹیٹر شپ کی مذمت، دفاعی بجٹ کو زیر بحث لانے، فوجی افسران کو زمین کی الاٹمنٹ کی چھان بین، آئی ایس آئی اور ایم آئی کو منتخب حکومتوں کے سامنے جواب دہ بنانے، مشرف دور میں سیاسی بنیادوں پر قائم ہونے والے احتسابی ادارے کی جگہ آزادانہ احتساب کمیشن بنانے اور اقتدار اعلیٰ پر عوامی نمائندوں کے استحقاق پر زور دینے جیسے اہم نکات شامل تھے۔ میثاق جمہوریت کو جہاں ایک طرف جمہوریت پسند حلقوں نے ملکی سیاست میں اسٹیبلشمنٹ کی اجارہ داری کو کمزور کرنے کی ایک بڑی کوشش کے طور پر دیکھا، وہیں دوسری طرف دونوں جماعتوں کے سیاسی مخالفین نے اسے ’’سیاسی مک مکا‘‘ کا نام دیا۔
اکیسویں صدی کی دوسری دہائی خاص طور پر گزشتہ پانچ سال میں دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کی بھر پور مخالفت کرنے والی جماعت (تحریک انصاف) نے عوام کو یہ باور کرانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی کہ میثاق جمہوریت اصل میں دونوں جماعتوں کا ایک دوسرے کا احتساب نہ کرتے ہوئے ’’باری باری‘‘ کی سیاست کے تحفظ کو یقینی بنانے کا دوسرا نام تھا۔ مزید برآں حالیہ عام انتخابات سے قبل ہونے والی جوڑ توڑ کی سیاست اور سیاسی ہتھکنڈوں کو (ن) لیگ، پیپلز پارٹی، اے این پی اور جے یو آئی نے مقتدر حلقوں کا اپنی منظور نظر جماعت کو حکومت دلانے کا طے شدہ منصوبہ قرار دیا۔ ان حالات میں تشکیل پانے والی تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کا سخت رویہ بعید از قیاس نہیں تھا تاہم نیب کی جانب سے اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کے قائدین کے خلاف کرپشن اور منی لانڈرنگ کے تحت کی جانے والی کارروائیوں نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ اگرچہ حکومت کا موقف ہے کہ نیب کی کارروائیوں کے پیچھے اس کا ہاتھ نہیں لیکن کرپشن پر کوئی سمجھوتا نہ کرنے اور این آر او نہ دینے جیسے بیانات سے یہ جاننا مشکل نہیں کہ احتسابی عمل کی سلیکٹڈ کارروائیوں کے پیچھے کون ہے۔ احتسابی کارروائیوں سے اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتیں کھل کر تو حکومت کے خلاف کوئی تحریک یا احتجاج کرنے کے قابل نہیں رہیں، لیکن اس کا بدلہ وہ حکومت کے ہر الٹے سیدھے اقدام پر ضرورت سے کہیں زیادہ تنقید کر کے چکا رہی ہیں۔ کچھ معاملات پر اپوزیشن جماعتوں اور ان کے سپورٹرز کی جانب سے کی جانے والے مخالفت برائے مخالفت نے حکومت کو چاروں شانے چت کر دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کی مخالفت برائے مخالفت کی پالیسی واضح طور پر وزیراعظم کی جانب سے مرغیوں اور کٹوں کو پالنے والے بیان پر دیکھنے میں آئی۔ یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ غربت کے خاتمے کے لیے جامع پروگرام کو سامنے لانے کا عندیہ دینے والی حکومت کی جانب سے صرف مرغیوں اور کٹوں کو پالنے کے منصوبے تک محدود رہنا کافی نہیں، لیکن اس کے باوجود یہ منصوبہ اتنا بُرا بھی نہیں کہ اس کو اتنی بُری طرح تضحیک کا نشانہ بناتے ہوئے تنقید کے نشتر برسائے جاتے جتنا کہ مخصوص جماعتوں کے سوشل میڈیا سیل کی جانب سے دیکھنے میں آیا۔ جرمنی سمیت کئی ممالک میں اسی نوعیت کے چھوٹے چھوٹے کاموں کی نا صرف حکومتی سطح پر حوصلہ افزائی ہوتی ہے بلکہ وہاں کے گریجوائٹ پاس نوجوان وائٹ کالر جاب کی جگہ مائیکرو فنانس پر مشتمل کاروبار کو فوقیت دیتے ہیں۔
اس ملک کی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت یا سیاسی رہنما اس کے ساتھ مکمل طور پر مخلص نہیں۔ ہر سیاسی جماعت یہ چاہتی ہے کہ یہ ملک صرف اس کے دور حکومت میں ترقی و خوشحالی کی طرف بڑھے۔ ہماری سیاسی جماعتیں اس وجہ سے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے اور مخالفت برائے مخالفت میں مصروف عمل رہتی ہیں کہ کہیں برسراقتدار جماعت ملکی و عوامی سطح پر ڈلیور کرنے میں کامیاب نہ ہو جائے۔ سابقہ دور حکومت میں تحریک انصاف کی احتجاجی سیاست نے ن لیگ کی حکومت کو مفلوج کیے رکھا جبکہ موجودہ حکومت کو ناکام بنانے کے لیے اپوزیشن جماعتیں عدم تعاون اور مخالفت برائے مخالفت کی پالیسی پر کاربند نظر آتی ہیں۔ ایسی ہی مایوس کن صورتحال کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم کو قبل از وقت انتخابات کا بیان دینا پڑا۔ اپوزیشن جماعتوں کا ایسا ہی رویہ رہا تو عین ممکن ہے کہ اگلے ایک دو سال تک اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے پہنچا کر حکومت مڈٹرم یا قبل از وقت الیکشن کا اعلان کر دے۔ ایسی صورت میں حکومت کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ اکثریت سے کامیابی حاصل کرتے ہوئے مرکز میں مضبوط حکومت بنانا چنداں مشکل نہیں ہو گا۔ قبل از وقت انتخابات کے بیان پر اپوزیشن کی بڑی جماعتوں کی پریشانی اس بات کی غماز ہے کہ وہ وزیراعظم کے بیان کے پس پردہ مقصد کو سمجھتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بے جا الزامات اور مخالفت برائے مخالفت کے بجائے تحمل و بردباری سے کام لیتے ہوئے حکومت کو سازگار ماحول میں کام کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔ آج اپوزیشن جماعتیں مخالفت برائے مخالفت کی پالیسی پر عمل پیرا رہتی ہیں تو کل ان کی حکومت میں تحریک انصاف ادلے کا بدلہ چکانے پر مجبور ہو گی۔ حکومت کے لیے مشورہ ہے کہ وہ احتساب کی آڑ میں سیاسی مخالفین کو دبانے کی پالیسی ترک کر دے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سابقہ حکومتوں کے ادوار میں انتہا کی کرپشن اور منی لانڈرنگ ہوئی ہے، لیکن اگر ہم پرانے حساب چکانے پر ساری توانائیاں صرف کرنے لگے تو ملک و قوم کی تعمیر نو کا کام آگے نہیں بڑھ سکے گا۔ جو کچھ ماضی میں ہو گیا، اسے دفن کرتے ہوئے اگر ہم حال اور مستقبل کو سنوارنے کی مخلصانہ کاوشیں کر لیں تو آنے والے پانچ دس سال میں ملک امن و خوشحالی کے راستے پر گامزن ہو جائے گا۔