26 ستمبر 2018
تازہ ترین

منبج معاہدہ اور ترکی امریکا کشیدگی منبج معاہدہ اور ترکی امریکا کشیدگی

ترکی امریکی قیادت میں قائم داعش مخالف اتحاد کا ایک رکن ہے، مگر دونوں کے تعلقات اس لئے مسائل کا شکار ہوئے کیونکہ امریکا نے ترکی کے بجائے پیپلز پروٹیکشن یونٹس کے کرد جنگجوئوں کیساتھ تعاون کو ترجیح دی۔ تاہم ترکی کے اصرار پر امریکانے قدرے سے تاخیر سے اپنا وعدہ پورا کیا اور شمالی شام کے ضلع منبج سے کرد جنگجوئوں کو دریائے فرات کے مشرق میں منتقل کر دیا۔ دونوں نیٹو اتحادیوں نے معاہدے میں اتفاق کیا تھا کہ اس کے مندرجات پر عمل درآمد یقینی بنانے کیلئے ترکش اور امریکی فوجی منبج میں مشترکہ گشت کرینگے۔ مگر اس وقت دونوں شہر کی وسط اور اس شمالی سرحد کے ساتھ علیحدہ علیحدہ گشت کرتے ہیں۔
تربیت کا سلسلہ جاری ہے جن کا مطلب ہے کہ دونوں ملکوں کے فوجی جلد اکٹھے پٹرولنگ کرینگے؛ جس کی وجہ یہ دکھائی دیتی ہے کہ امریکا منبج کا کنٹرول مکمل طور پر ترکی کے حوالے کرنے سے گریزاں ہے۔ مشترکہ پٹرولنگ کی تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں، نہ ہی یہ واضح ہوا ہے کہ آیا علاقے میں چھپے کرد جنگجوئوں کی پناہ گاہوں کی تلاشی لینے کا انہیں اختیار ہو گا کہ نہیں۔ ترکش میڈیا اکثر سوال اٹھاتا ہے کہ کرد جنگجوئوں کو دیا گیا بھاری امریکی جدید اسلحہ آخر کہاں چھپایا گیا ہے۔ اگر اس اسلحے کے ذخائر منبج میں ہوئے تو اس شہر کی سکیورٹی سے متعلق دونوں ملکوں کے فوجیوں کے مابین اعتماد کی فضا بری طرح سے متاثر ہو سکتی ہے۔اسلئے بہتر ہو گا کہ منبج پر امریکا ترکی تعاون کو علامتی اشارے سے زیادہ اہمیت نہ دی جائے تاکہ امریکا دعویٰ کر سکے کہ اس نے کرد جنگجوئوں کو دریائے فرات کے مغرب سے منتقل کر دیا ہے، اور ترکی بھی اطمینان کیساتھ یہ دعویٰ کر سکے کہ اس نے کرد جنگجوئوں کو دریائے فرات کے مشرق کی جانب دھکیل دیا ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ داعش کو ضلع منبج سے کرد جنگجوئوں نے مار بھگایا تھا۔
امریکا نے شامی ڈیموکریٹک فورسز کی 23کروڑ ڈالر کی امداد منسوخ کر دی ہے۔وہ یہ کمی خلیجی ممالک کے داعش مخالف اتحاد سے 30 کروڑ ڈالر حاصل کرکے پوری کرینگے۔ ترکی کو اپنے طور پرشمالی شام میں کرد حقیقت کے پیش نظرشامی ڈیموکریٹک فورسز سے متعلق پالیسی کا جائزہ لینا چاہیے۔ اس خاص نکتے پر انقرہ اور دمشق کے مفادات میں یکسانیت ہے، کیونکہ دونوں نے خود مختار کرد علاقے کے قیام کے خلاف ہیں۔ کردوں کو امریکا کی حمایت کا فائدہ حاصل ہے، لیکن اگر انہیں محسوس ہوا کہ انقرہ واشنگٹن منبج معاہدہ کی وجہ سے ان کیساتھ دھوکہ ہو رہا ہے تب وہ شامی حکومت سے رجوع کر سکتے ہیں۔ دو ہفتے قبل دمشق میں دونوں کے مابین مذاکرات ہوئے، جس میں وحدت میں رہتے ہوئے  نیم خودمختار علاقے کے فریم ورک پر بات ہوئی۔ امریکی انتظامیہ نے جیمز ایف جیفری جیسی اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص کو شام میں کوآرڈنیٹر مقرر کیا ہے۔ جیفری 2007ء سے 2008ء تک قومی سلامتی کے نائب مشیر رہے؛ 2008ء سے 2010ء تک ترکی میں سفیر رہے؛ اور 2010 ء سے 2012ء تک عراق میں سفیر رہے۔
جیفری کا کیریئر انہیں اس مشن کیلئے بہترین چوائس بناتا ہے۔ جس وقت کوئی اعلیٰ امریکی عہدیدار اور یورپی یونین کے رکن ممالک شامی کرد جنگجوئوں اور کالعدم کردستان ورکرز مابین روابط کو تسلیم کرنے کیلئے تیا رنہ تھے، جیفری وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے یہ حقیقت تسلیم کی۔ جیفری کی اس عہدے پر تقرری ترکی کیلئے کافی اطمینان بخش تھی، تاہم دونوں ملکوں کے مابین مسائل کے حل کیلئے یہ کافی نہیں ؛ کیونکہ اس سے شام  سے متعلق دونوں کی پالیسیوں کے تضادات ختم نہیں ہونگے۔ شامی کرد جنگجوئوں اور کالعدم کردستان ورکرز مابین روابط تسلیم کرنا الگ بات ہے، شامی کرد جنگجوئوں کی تعاون کی امریکی خواہش بالکل ہی الگ بات ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ شا م سے امریکی فوجی نکالنے کا فیصلہ کرے یا نہ کرے ، اسے جنگ کے بعد کے معاملات پر اثر انداز ہونے کیلئے کرد جنگجوئوں اور شامی ڈیمو کریٹک فورسزضرورت رہے گی، جس کی اصل طاقت کرد جنگجو ہی ہیں۔ امریکا نے کرد جنگجوئوں کی تربیت اور جدید ہتھیاروں کی صورت میںان پر بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے؛ جس کے وہ ہرحال میں ثمرات حاصل کرنا چاہے گا۔ تمام فریقین کے متضاد مفادات مدنظر رکھتے ہوئے جیفری کو بہترین سفارتی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔
پینٹاگون ترکی کیساتھ تعاون کی اہمیت سے اچھی طرح آگاہ ہے۔ امریکی پادری کی رہائی کے مطالبے پر اٹھنے والے طوفان کو امریکا ترکی منبج معاہدے پر اثر انداز ہونے کی موقع کسی صورت نہیں ملنا چاہیے۔
(ترجمہ: ایم سعید۔۔۔بشکریہ: عرب نیوز)