منافقین ہر جگہ ہیں.... منافقین ہر جگہ ہیں....

پاکستان کا ماحول بڑا خراب ہے۔ اسے ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔ دن بہ دن بگڑتا جارہا ہے۔ میں اب چونکا کہ محترم کیا کہنا چاہ رہے ہیں۔ میں نے عرض کی کہ ایسا کیا ہوگیا جو پاکستان کا ماحول اتنا زیادہ تشویش ناک ہے۔ کہنے لگے کہ دیکھیں جی، ہمارے وزیراعظم صاحب کتنے پریشان ہیں۔ ملکی ماحول کو درست کرنے کے لیے اب پانچ ’’عرب‘‘ لاوے جائیں گے۔ تب میں اُن کی بات کو سمجھا اوراصلاح کرتے ہوئے کہا کہ جی یہ وہ ’’ماحول‘‘ نہیں ہے جو اس سے پہلے آپ دیکھتے رہے ہیں بلکہ یہ ماحولیاتی آلودگی کا ذکر تھا جس میں کمی کے لیے کسی پانچ عربوں کو نہیں بلکہ پانچ ارب درخت پاکستان بھرمیں لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اچھا اچھا، تو یہ بات ہے۔ مجھے ذرا کم سنائی دیتا ہے شاید یہی وجہ تھی ارب کو عرب سمجھا۔ میں نے کہا کہ سنائی ہی نہیں آپ کو دکھائی بھی کم دیتا ہے۔ (میں نے اُن سے یہ نہیں پوچھا کہ درخت کو کیا سمجھا تھا)۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے بڑی خطرناک صورت حال سے گزر رہا ہے۔ اس کے لیے ابھی سے اقدامات کریں گے تو آئندہ نسلوں کو فائدہ پہنچے گا۔ اگر ابھی سے ڈیم بنالیں گے تو آنے والی نسلوں کو فائدہ پہنچے گا۔ پڑوسیوں سے تعلقات اچھے ہوجائیں تو آنے والی نسلوں کو فائدہ پہنچے گا۔ (پڑوسیوں سے مُراد ہمسایہ ممالک ہیں)۔ یہ ہوگا وہ ہوگا۔ یوں ہوگا، ویسے ہوگا۔ اب تو پڑھ پڑھ اور لکھ لکھ کر طبیعت اچاٹ سی ہوگئی ہے۔ وزیراعظم نے میڈیا اینکرز سے گزارش کی ہے کہ ان پرتین مہینے تک تنقید نہ کریں، لیکن انہیں تو کیا خود اینکر پرسن کو سمجھ نہیں آرہا کہ ہم تو ہمیشہ تنقید ہی کرتے رہے ہیں۔ تعریف تو اپوزیشن کی کرتے رہے ہیں۔ اب حکومت کی تعریف کریں تو کیسے کریں۔ تنقید کرنا دنیا کا سب سے آسان کام ہے، لیکن تنقید برداشت کرنا دنیا کا سب سے مشکل کام ہے۔ تمام اینکر پرسن سر جوڑ کر بیٹھے ہیں کہ جب عمران خان اپوزیشن میں تھے تو کیا کیا قلابے مارے تھے۔ لیکن یہاں تو سب الٹ ہوچکا ہے، تاہم پرنٹ میڈیا توصیف کے قابل ہے کہ اُس نے برقی ذرائع ابلاغ کے مقابلے میں بُردباری کا زیادہ مظاہرہ کیا۔ وزیراعظم کی توقعات اور ان پرتنقید کے حوالے سے عمران خان اور کابینہ کو مہلت دینے اور حسن ظن سے کام لینے کی بات کرتے رہے ہیں۔ کوئی بھی بگڑا نظام ایک، دو دن یا مہینوںمیں ٹھیک نہیں ہوسکتا، بلکہ کسی بگڑے نظام کو درست کرنے کے لیے کئی دہائیاں لگ جاتی ہیں۔ اس لیے بات 100دن کی ہو یا پانچ برسوں کی یا پھر مزید مہلت طلب کرنے کی۔ اس پر اُس وقت تک قلم کی دھار کو تلوار نہیں بنانا چاہیے جب تک واقعتاً دانستہ عمل ثابت نہ ہوجائے۔ اگر مثبت اصلاحات متعارف و عمل پیرا ہوتی ہیں تو حوصلہ افزائی کرنے میں کوئی حرج نہیں، لیکن بڑے بڑے اعلانات میں ناکامی پر مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہمارے پاس اب ایسا نسخہ کیمیا آچکا ہے کہ عوام کو مزید میرے عزیز ہم وطنو، سننے کی ضرورت کبھی نہیں پڑے گی۔
پاکستان کے داخلی معاملات کو فی الحال ایک طرف رکھ دیتے ہیں۔ میں زندگی کے نصف صدی کے تین عشروں میں اب کسی کے ذاتی بغض کی پروا نہیں کرتا۔ جسمانی زندگی جیسے جیسے گھٹتی ہے تو فطری طور پر اس میں کچھ تبدیلیاں بھی وقوع پذیر ہوجاتی ہیں۔ کچھ احباب چڑچڑے ہوجاتے ہیں، کچھ خاموش و گم صم ہوجاتے ہیں۔ کچھ مایوس و مشتعل ہوجاتے ہیں، لیکن میری طبیعت میں چلبلا پن و شرارت آجاتی ہے۔ طبیعت میں پُرسکون ٹھہرائو بھی لانے کی کوشش کرتا ہوں۔ ناانصافی پر چپ رہنا بزدلی کی علامت ہوتا ہے، لیکن غصہ آنے پر پی جانے کی کوشش کرتا ہوں۔ گزشتہ دنوں طبی ماہرین کی ایک رپورٹ پڑھ رہا تھا کہ مستقل غصہ پی جانا احسن اقدام سہی لیکن اس عادت سے ’’کینسر‘‘ جیسے موذی مرض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آپ اپنے جذبات کو چھپا کر رکھتے ہیں اور ان کا اظہار نہیں کرتے، تو آپ خود کو کینسر کا آسان شکار بنارہے ہیں۔ انہوں نے بتایا، یہ خطرہ اس صورت میں اور بھی بڑھ جاتا ہے جب آپ اپنے غصے کا اظہار نہیں کرتے اور پی جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جب ہمارے اندر کسی بھی قسم کے جذبات پیدا ہوتے ہیں تو ہمارا جسم کارٹیسول نامی ایک ہارمون پیدا کرتا ہے۔ اگر ہم اپنے جذبات کا اظہار کردیں تو یہ ہارمون خود بخود ختم ہوجاتا ہے لیکن اگر جذبات کا اظہار نہ کیا جائے تو یہ کافی دیر تک جسم کے اندر رہتا ہے۔ ماہرین نے بتایا، یہ ہارمون ہماری قوت مدافعت کو متاثر کرتا ہے، جب ہماری قوت مدافعت کی کارکردگی کم ہوجاتی ہے تو ہمارے خلیات آہستہ آہستہ کینسر کے خلیات میں تبدیل ہونے لگتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ منفی جذبات کو جتنا زیادہ دبایا جائے گا، اُتنا ہی زیادہ کینسر کا امکان ہوگا۔
ماہرین کی اس رپورٹ کو پڑھنے کے بعداب میں نے زیادہ غصہ پی جانے والی عادت کو کم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، کیونکہ میں ایک انسان ہوں اس لیے کوشش ہی کروں گا لیکن کسی ماہر کو چیلنج نہیں کرسکتا، اس دوران مجھے یاد آیا کہ رسول اللہﷺ  نے فرمایا: ’’تم خود میں پہلوان کس کو جانتے ہو؟‘‘ ہم (رضوان اللہ اجمعین) نے کہا: جو لوگ پچھاڑ نہ سکیں، تو رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا: ’’نہیں ایسے نہیں ہے، بلکہ پہلوان تو وہ ہے جو غصے کے وقت خود پر قابو رکھے‘‘ (صحیح مسلم: 2608) حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ: ’’ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ مجھے وصیت فرمائیں، آپ ﷺ نے اسے کہا’’غصہ نہ کر‘‘ اور پھر رسول اللہ  ﷺ نے اس جملے (غصہ نہ کرو) کوکئی بار دہرایا۔‘‘ میں دوبارہ پُرسکون سا ہوگیا۔ 
وزیراعظم نے قوم کو بڑی توقعات دے دی ہیں۔ خاص کر ریاست مدینہ کا رول ماڈل بنانے کا ایک ایسا دعویٰ کردیا ہے جس کی کامیابی کے لیے عمران خان سے چاہے جتنا اختلاف ہو، لیکن وہ اپنی زندگی میں مدینہ ریاست کی ایک اینٹ بھی بطور بنیاد رکھنے میں کامیاب ہوجاتے ہیںتو اس سے بڑی خوشی کی کوئی بات نہیں ہوگی۔ پاکستان کا مطلب کیا کے خواب کی تعبیر مل جائے گی۔ لیکن جس ٹیم کے ساتھ وزیراعظم چل رہے ہیں، اس میں منافقین بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ کیا ان کے دلوں میں جو کچھ ہے اُن سے آپ واقف ہیں۔ (ابھی تو وزیراعظم نے اپنا اعتماد بھی عوام پر بحال کرنا ہے)۔ نہ جانے اس میں کتنا وقت لگتا ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں۔ 
اسی طرح ہر جگہ ہر اداروں میں منافقین کی بڑی تعداد موجود ہے، کیونکہ ہم انسان خود غلطی کا پتلا ہیں، اس لیے ذاتی طور پر میں اپنے معاملات زیادہ تر رب کائنات پر چھوڑ دیتا ہوں کہ عزت و ذلت دینے والی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ وزیراعظم پاکستان اپنی تمام تر خامیوں و سخت تنقید کے باوجود وہ سب کچھ کرسکتے ہیں جو اُن کی خواہش ہے۔ ہم تو بس لکھتے رہیں گے۔ بلاشبہ پاکستان میں میڈیا کو وہ آزادی حاصل نہیں جو اُسے درکار ہے، ہمارے پاکستانی میڈیا میں ابھی تک بلوغت کا فقدان ہے۔ جتنی آزادی ملی اُس کا شتر بے مہر استعمال کیا گیا۔ ضابطۂ اخلاق پر عمل درآمد کی کمی ہے، لیکن جتنی بھی آزادی ہے اس کا اگر دس فیصد حصہ بھی حقیقی و شفاف صحافت کے طور پر ادا کرلیں تو یہی سب سے بڑی بات ہوگی۔ اس لیے فروعی مفادات کو پس پشت ڈالنا ہی ہم سب کے حق میں بہتر ہے۔