فکر قائد اعظم اِسی اَمر کی غمازی کرتی تھی کہ امن عالم کی خدمت صرف اِس طرح ہی ممکن ہے کہ ہم اُن لوگوں کو جو ہمیں کمزور سمجھ کر ہم پر حملہ کرنے یا چھا جانے کی نیت رکھتے ہیں اُنہیں موقع ہی نہ دیں ۔ یہ صرف اُس وقت ہو سکتا ہے جب ہم اتنے مضبوط ہو جائیں کہ کسی کو ہماری طرف بری نیت سے دیکھنے کی جرأت نہ ہوسکے ۔ قائداعظم کے قول اور اللہ تبارک تعالیٰ کی رحمت سے پاکستان ایٹمی طاقت بن چکا ہے چنانچہ ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ ملکی معاملات کی درستگی کیلئے قائداعظم کی تعلیمات کو پیش نظر رکھا جائے ۔ میں اِس ریسرچ کالم کو شاعرہ نرگس شیخ کے اِن اشعار کیساتھ قارئین کی نظر کرتا ہوں ..........   ؎  
پھولوں کی مہک  میں بھی  ڈھلے  قائداعظم
اور سطوتِ طوفاں میں  بھی رہے  قائداعظم
جب چھائے تھے مایوسی کے گھنگھور اندھیرے
اک عزم جواں  لے کے  اُٹھے  قائداعظم
دیتے  ہوئے  اک  ولولہ ٔ  تازہ  دلوں  کو 
ملّت  کا  علم  لے کے  بڑھے  قائداعظم
وہ خواب جو اقبال کے شعروں میں  ڈھلا تھا
 

" /> فکر قائد اعظم اِسی اَمر کی غمازی کرتی تھی کہ امن عالم کی خدمت صرف اِس طرح ہی ممکن ہے کہ ہم اُن لوگوں کو جو ہمیں کمزور سمجھ کر ہم پر حملہ کرنے یا چھا جانے کی نیت رکھتے ہیں اُنہیں موقع ہی نہ دیں ۔ یہ صرف اُس وقت ہو سکتا ہے جب ہم اتنے مضبوط ہو جائیں کہ کسی کو ہماری طرف بری نیت سے دیکھنے کی جرأت نہ ہوسکے ۔ قائداعظم کے قول اور اللہ تبارک تعالیٰ کی رحمت سے پاکستان ایٹمی طاقت بن چکا ہے چنانچہ ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ ملکی معاملات کی درستگی کیلئے قائداعظم کی تعلیمات کو پیش نظر رکھا جائے ۔ میں اِس ریسرچ کالم کو شاعرہ نرگس شیخ کے اِن اشعار کیساتھ قارئین کی نظر کرتا ہوں ..........   ؎  
پھولوں کی مہک  میں بھی  ڈھلے  قائداعظم
اور سطوتِ طوفاں میں  بھی رہے  قائداعظم
جب چھائے تھے مایوسی کے گھنگھور اندھیرے
اک عزم جواں  لے کے  اُٹھے  قائداعظم
دیتے  ہوئے  اک  ولولہ ٔ  تازہ  دلوں  کو 
ملّت  کا  علم  لے کے  بڑھے  قائداعظم
وہ خواب جو اقبال کے شعروں میں  ڈھلا تھا
 

" /> Jehan Pakistan

 ملّت اسلامیہ کے عظیم قائد محمد علی جناح   ملّت اسلامیہ کے عظیم قائد محمد علی جناح

(آخری حصہ)
شبیر احمد عثمانی جنہوں نے قائداعظم کی نماز جنازہ کی امامت بھی کی تھی نے کہا کہ ہندوستان نے اورنگزیب عالمگیر کے بعد اتنا بڑا مسلمان پیدا نہیں کیا جس نے مسلمانانِ ہند کی بربادی اور مایوسی کو فتح میں بدل دیا ۔ مجلسِ احرار کے سربراہ سید عطا اللہ شاہ بخاری جنہوں نے پاکستان بننے کے بعد لاہور کے ایک جلسہ عام میں یہ کہہ کر اپنی جماعت توڑنے کا اعلان کیا تھا کہ متحدہ ہندوستان کی حمایت اُن کی غلطی تھی، قائداعظم کی وفات پر اُنہوں نے کہا کہ قائداعظم ایک عہد آفریں شخصیت تھے ، اسلامی تاریخ میں اُنہوں نے بیش بہا اضافہ کیا ہے جوپاکستان کے نام سے رہتی دنیا تک یادگار رہے گا ۔ خاکسار تحریک کے بانی علامہ عنایت اللہ مشرقی نے کہا کہ قائداعظم کا عزم پائندہ اور راسخ تھا ، وہ بہادر اور بیباک سپاہی تھے جو مخالفوں سے ٹکرانے میں کبھی خوفزدہ نہیں ہوئے ۔ مشہور ہندوستانی سیاسی دانشور مسز سروجنی نائیڈو کا کہنا تھا کہ جناح کی جسمانی ناتوانی کے پیچھے ذہن اور کردار کی غیر معمولی قوتیں پوشیدہ تھیں ۔سروجنی نائیڈو نے تقسیم ہندوستان سے قبل بمبئی کے ایک اجتماع میں کانگریسی مسلمان لیڈر کی جانب سے قائداعظم کو انگریزوںکا زر خرید کہنے پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسا بالکل نہیں ہے ، میرے دوست تم بک سکتے ہو ، میں بک سکتی ہوں ، گاندہی جی اور جواہر لال نہرو کا سودا بھی شاید ہو سکتا ہے مگر جناح کو خریدا نہیںجا سکتا ۔ جواہرلال نہرو کی بہن وجے لکشمی پنڈٹ نے کہا کہ جناح ناقابل شکست تھے ، اگر مسلم لیگ کے پاس سو گاندہی ہوتے لیکن کانگریس کے پاس صرف ایک جناح ہوتا تو پاکستان کبھی نہیں بنتا ۔ سر فرانسس موڈی سابق انگریز گورنر پنجاب نے کہا کہ جناح کا مقابلہ محض ہندوئوں کی دولت اور قابلیت سے ہی نہیں تھا بلکہ تمام انگریز حکام او برطانیہ کے اکثر سیاستدان بھی اُن کے خلاف تھے لیکن اُنہوں نے دبائو کے باوجود اپنا موقف تبدیل نہیں کیا ۔ مشہور ہندو ایڈیٹر جگت نارئین لال نے لکھا کہ جناح کسی بھی طاقت کے آگے جھکنا نہیں جانتے تھے ، اُنہوں نے ہر محاذ پر ہندوئوں اور انگریزوں کا مقابلہ کیا اور اُنہیں شکست دی ۔ مشہور دانشور اور انگریز مصنف پروفیسر سٹینلے والپرٹ نے جناح کو دنیا بھر میں سیاسی و سماجی رہنمائوں کے مقابلے میں ممتاز ترین لیڈر قرار دیتے ہوئے لکھا: "Few individual significantly altered the course of history. Fewer still modify the map of the world. Hardly anyone can be credited with creating a nation state. Muhammad Ali Jinnah did all three".ـ ۔ ہندوستانی اچھوت لیڈر ڈاکٹر امبیڈکر جو ہندوستان کے سیکولر آئین کے بانی تھے نے کہا کہ جناح اپنے ارادوںاور رائے میں پختہ تھے اور میں یقین سے کہہ سکتا ہو ں کہ جناح کسی قیمت پر بھی انگریز کے آلہ کا ر نہیں بنے ۔ برطانیہ کے آخری اور متنازع وائسرائے ہند لارڈ مائونٹ بیٹن جو جواہر لال نہرو کی ایما پر بھارت کے متنازع گورنر جنرل بن گئے تھے نے کہا کہ جناح چٹان کی طرح اٹل اور مستحکم مگر انتہائی ٹھنڈے دل و دماغ کے انسان تھے اور میرے لئے یہ ممکن ہی نہیں ہو سکا کہ میں اُن کے سینے کی گہرائیوں میں اُتر سکوں اور اُنہیں متحدہ ہندوستان پر قائل کر سکوں ، بلاآخر مجھے جناح کے موقف کے سامنے جھکنا پڑ ا ۔ اندریں حالات، حامیوں اور مخالفوں کے اتنے سنہرے کلمات کی روشنی میں یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ قائداعظم پاکستان میں میثاق مدینہ کی بنیاد پر اقلیتوں کو برابری کے سیاسی حقوق دینے کے ضرور حامی تھے کسی پہلو سے سیکولر نہیں بلکہ مسلم تمدن کے احیأ کیلئے ملّت اسلامیہ کے عظیم قائد تھے۔ فروری 1948 میں قائداعظم نے امریکی عوام کے نام ایک نشری تقریر میں کہا تھا کہ دستور ساز اسمبلی کو ابھی پاکستانی آئین کی تشکیل کرنی ہے، مجھے یقین ہے کہ یہ آئین جمہوری نوعیت کا ہوگااور اِس میں اسلام کے بنیادی اصول شامل ہونگے جو آج بھی اِسی طرح قابل عمل ہیں جیسے تیرہ سو سال پہلے تھے ۔ اسلام نے ہمیں جمہوریت کا درس دیا ہے اور انسانوں کیساتھ مساوات اور انصاف کا سلوک کرنا سکھایا ہے۔ پاکستان کا آئین اِنہی زریں اصولوں پر مبنی ہوگا۔ قائداعظم آج اِس دنیا میں نہیں ہیں لیکن اُنہیں خراج عقیدت پیش کرنے کا اِس سے بہتر کوئی اور عمل نہیں ہوسکتا کہ ہم قومی یکجہتی کے حوالے سے اُن کی تعلیمات پر عمل کرکے پاکستان کو کرپشن ، بدانتظامی اور بدعنوانی کے موجودہ بحران سے نکال کر ایک عظیم تر مملکت بنا دیں ۔
فکر قائد اعظم اِسی اَمر کی غمازی کرتی تھی کہ امن عالم کی خدمت صرف اِس طرح ہی ممکن ہے کہ ہم اُن لوگوں کو جو ہمیں کمزور سمجھ کر ہم پر حملہ کرنے یا چھا جانے کی نیت رکھتے ہیں اُنہیں موقع ہی نہ دیں ۔ یہ صرف اُس وقت ہو سکتا ہے جب ہم اتنے مضبوط ہو جائیں کہ کسی کو ہماری طرف بری نیت سے دیکھنے کی جرأت نہ ہوسکے ۔ قائداعظم کے قول اور اللہ تبارک تعالیٰ کی رحمت سے پاکستان ایٹمی طاقت بن چکا ہے چنانچہ ضرورت اِس اَمر کی ہے کہ ملکی معاملات کی درستگی کیلئے قائداعظم کی تعلیمات کو پیش نظر رکھا جائے ۔ میں اِس ریسرچ کالم کو شاعرہ نرگس شیخ کے اِن اشعار کیساتھ قارئین کی نظر کرتا ہوں ..........   ؎  
پھولوں کی مہک  میں بھی  ڈھلے  قائداعظم
اور سطوتِ طوفاں میں  بھی رہے  قائداعظم
جب چھائے تھے مایوسی کے گھنگھور اندھیرے
اک عزم جواں  لے کے  اُٹھے  قائداعظم
دیتے  ہوئے  اک  ولولہ ٔ  تازہ  دلوں  کو 
ملّت  کا  علم  لے کے  بڑھے  قائداعظم
وہ خواب جو اقبال کے شعروں میں  ڈھلا تھا