ملک کو اقتصادی قوت بنانا ہے! ملک کو اقتصادی قوت بنانا ہے!

پاکستانی علاقوں میں بھارتی دراندازی کے جرأت مندانہ جواب نے آن واحد میں اپوزیشن اور حکومتی لڑائی جھگڑے ختم کرکے ہمیں سیسہ پلائی دیوار بنادیا۔ عوام میں گروہ بندیوں کی تمام دیواریں کسی زورآزمائی کے بغیر ازخود ٹوٹ گئیں۔ تمام ٹی وی چینلز اور اخبارات میں اتحاد واتفاق کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ پاکستان کے تمام علاقوں میں نعرۂ تکبیر اور پاک فوج زندہ باد کی جاں فضا آوازیں بلند ہونے لگیں۔ اس طرح تحریک پاکستان کے مناظر ایک بار پھر گلی کوچوں کی رونق بنے۔ 
قائداعظمؒ کی مدبرانہ و جرأت مندانہ قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں کی بے مثال جانی و مالی قربانیوں سے انگریز اور کانگریس کی پاکستان مخالف مشترکہ سوچ کو شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ انگریز صرف حکمرانی کے لیے سمندر پار سے آیا تھا۔ حکمرانی ناپید ہوئی تو اسے واپس جانا پڑا۔ کانگریس نے تقسیم میں غالب حصہ لے کر بھارت بنالیا۔ ستر سال کی تاریخ گواہ ہے کہ بھارت نے پاکستان کے وجود کو دل سے کبھی تسلیم نہیں کیا۔ تھوڑے تھوڑے عرصہ بعد حیلے بہانوں سے پاکستان پر جنگ مسلط کرتا چلا آرہا ہے۔ 1965 میں بھارتی فوجوں نے رات کے اندھیرے میں لاہور کے بارڈر پر لشکر کشی کی۔ بدنیتی کا یہ عالم کہ دن چڑھتے ہی ناشتہ لاہور جیم خانے میں کرنے کا ناپاک ارادہ لے کر آئے۔ پاک فوج کے بت شکن نعروں اور توپوں کی گھن گرج سے ایسے لرزہ براندام ہوئے کہ دُم دباکر بھاگنے پر مجبور ہوئے۔ ناشتہ دُور کی بات، اپنا گولا بارود بھی ساتھ لے جانا بھول گئے۔ 
پاکستان کی قیادتوں نے ہر چند کوشش کی اور بھارتی حکمرانوں کو مشورہ دیاکہ اچھے ہمسایوں کی طرح رہیں۔ پاکستان کو پریشان کرنے کے لیے اسلحے پر سرمایہ ضائع کرنے کے بجائے غربت و افلاس میں ڈوبے اپنے شہریوں کو ریلیف دیں، لیکن انہوں نے پاکستانی علاقوں پر فائرنگ اور جنگیں مسلط کرنے کا وتیرہ نہیں چھوڑا۔ پاکستان ایٹمی قوت بن گیا تو پاکستان کو ختم کرنے کے بھارتی اداروں پر اوس پڑگئی۔ اپنے نئے پروگرام کے تحت اس نے پاکستان کو اقتصادی اور معاشی لحاظ سے کمزور کرنے کی ٹھان لی۔ سیلابی پانی چھوڑ کر پاکستان کی فصلوں، مویشیوں اور آبادیوں کو نقصان پہنچانے اور عام 
حالات میں پاکستانی پانیوں پر ڈاکہ زنی سے زرعی زمینوں کو بنجر بنانے کی راہ پر چل رہا ہے۔ چالیس برس قبل پاکستان کی قیادت اور ماہرین نے بھارتی سازشوں کو بھانپ کر کالا باغ ڈیم بنانے کا فیصلہ کیا، تاکہ بوقت ضرورت زرعی زمینوں کو پانی فراہم ہوسکے اور صنعت کو سستی بجلی دی جاسکے۔ بھارت نے پاکستان کے اندر مخالف لابی کے ذریعے ڈیم بنانے کی صورت ملکی سالمیت پارہ پارہ ہونے کا خطرہ کھڑا کردیا۔ 2018 میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے بھاشا اور مہمند ڈیم بنانے کا بیڑا اٹھایا۔ حکومت کے اشتراک و تعاون سے انہیں کافی فنڈز مل چکے ہیں۔ دونوں یا ایک ڈیم ضرور بنائیں، لیکن اس سے انکار ممکن نہیں کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا تخمینہ آج بھی 8 ارب ڈالر کے لگ بھگ لگایا جارہا ہے جب کہ بھاشا ڈیم پر اخراجات کا تخمینہ 14 ارب ڈالرز سے کسی طور کم نہیں۔ اس میں ٹرانسمیشن لائن 
بچھانے، سڑک اور رہائشوں کی تعمیر کے اخراجات شامل کیے جائیں تو یہ رقم 23 ارب ڈالرز سے تجاوز کرجائے گی۔ ماہرین کے مطابق کالا باغ ڈیم چھ سال کی مدت میں مکمل ہوجائے گا۔ اس سے ملکی معیشت کو 16 ارب ڈالر سالانہ کا فائدہ ہوگا۔ ان کے خیال میں بھاشا ڈیم کی تکمیل میں بارہ سال لگیں گے۔ 
کالا باغ ڈیم بنانے کے لیے ہر قسم کے خوف کو بالائے طاق رکھنا اور ملکی ضرورتوں کو ترجیح بنیادوں پر لینا ہوگا۔ اندرون ملک اتحاد و اتفاق کے جذبوں کو زندہ و توانا رکھنا ہوگا۔ 1965 کی پاک بھارت جنگ کے ذریعے دنیا کو پاک فوج کی صلاحیتوں کا پہلا تعارف ہوا۔ بھارتی فضائیہ کی طرف سے حالیہ حملہ کے نتیجے میں اس 
کی کئی گنا زیادہ عسکری قوت کا دنیا کے سامنے بھانڈا پھوٹ گیا ہے۔ اب وہ پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی کم ہی جرأت کرے گا۔ اب اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ وطن عزیز کو معاشی طاقت بنایا جائے۔ زرعی زمینوں کے لیے پانی اور ملکی صنعت کے لیے سستی اور وافر بجلی بنانے کا بندوبست کیا جائے۔ پاکستان کو معاشی بدحالی سے دوچار کرنے کی بھارتی چالوں کا بہترین جواب یہی ہوگا۔ دنیا نے ترقی کرنے کے لیے متعدد ڈیم بنالیے ہیں۔ ذاتی پسند و ناپسند اور خواہشوں کو چھوڑ کر اتفاق رائے سے ڈیمز بنانے، بالخصوص کالا باغ ڈیم بنانے کے لیے پیش قدمی کرنا ہوگی۔