21 نومبر 2018
تازہ ترین

ملک و ملت کو درپیش مسائل کا پائیدار حل  (3) ملک و ملت کو درپیش مسائل کا پائیدار حل (3)

یاد رکھیے، یہ طرزِ عمل، فکر اقبال سے مجرمانہ انحراف کی بدترین صورت ہے۔ اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ اس ذریعے سے ملک مستحکم ہوگا اور ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا تو میرے نزدیک یہ غلط فہمی اور نادانی کی وہ انتہا ہے، جو ملک کے لیے انتہائی مضر بلکہ مہلک ثابت ہوگی۔ دیکھیے اقبال کیا کہتے ہیں:
اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ
ان کی جمعیت کا ہے ملک و نسب پر انحصار
قوتِ مذہب سے مستحکم ہے جمعیت تری!
یعنی پوری دنیا میں ملت اسلامیہ کی قوت و طاقت اور ترقی و استحکام کے حصول کا راستہ ہرگز وہ نہیں جو دنیا کی دوسری اقوام اپنے لیے اختیار کرتی ہیں۔ ملت اسلامیہ کی ترقی و استحکام کی بنیادیں کچھ اور ہی ہیں۔ دنیا کی دیگر اقوام رنگ و نسل اور زبان یا جغرافیائی بنیادوں پر تشکیل پاتی ہیں اور انہی بنیادوں کو مضبوط کرنے سے قومی سطح پر مستحکم اور مضبوط ہوتی ہیں جب کہ دنیا میں مسلمانوں کی ترقی و استحکام کا کُل انحصار دین و مذہب کی ترقی و مضبوطی پر ہے… اور پاکستان تو بنا ہی اسلام کے نام پر ہے، جو اللہ کی نگاہ میں آج واحد مقبول دین ہے، جب تک ہم اسے اس کی حقیقی روح کے ساتھ اس ملک میں مضبوط و مستحکم نہیں کریں گے، یہ ملک خود مضبوط و مستحکم ہو ہی نہیں سکتا۔ ہمارے ملک کی 71سالہ تاریخ اقبال کے اس فکر کی اصابت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ 
آج ہماری علمی کرپشن اور بددیانتی کی انتہا ہے کہ ہم یہ کہیں کہ پاکستان اسلام کے نام پر نہیں بنا تھا۔ پھر تو مطالبہ پاکستان بے معنی ہے۔ کیا جس قوم نے پاکستان کے نام سے ایک الگ خطے کے قیام کا مطالبہ کیا تھا اور اس حوالے سے انگریزوں اور ہندوئوں سے نظریاتی لڑائی مول لی تھی، اس کی قومیت کی بنیاد کسی زبان پر، حسب نسب پر، یا کسی علاقائی تعلق پر تھی؟ سیدھی سی بات ہے، وہ اگر ایک قوم تھی تو صرف اسلام کی بنیاد پر۔ مسلم لیگ کے جھنڈے تلے مسلمانانِ برصغیر کس نعرہ کے تحت جمع ہوئے تھے؟ ’’پاکستان کا مطلب کیا، لا الٰہ الا اللہ‘‘ کس سوچ کا اظہار تھا؟
قیامِ پاکستان کو 71 برس گزر چکے ہیں۔ آج ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ہمارا ایک بازو عرصہ ہوا ہم سے کٹ چکا ہے۔ باقی ماندہ پاکستان آج مسائلستان ہے۔ ہماری تاریخ بحیثیت مجموعی بحرانوں اور ناکامیوں سے عبارت ہے۔ ہم عملاً معاشی حوالے سے آئی ایم ایف، ورلڈ بینک کے اور عسکری و سیاسی حوالے سے امریکا کے غلام بن چکے ہیں۔ ہماری آزادی اب ایک سراب کی حیثیت رکھتی ہے۔ دنیا کی نظر میں ہم بطور ایک ناکام ریاست جانے جاتے ہیں۔ عالمی سطح پر ہمارے ملک کو توڑنے اور تقسیم کرنے کے مشورے اور فیصلے علی الاعلان کیے جاتے ہیں… ہمارے زوال و انحطاط کا سبب کیا ہے اور اس صورت حال سے نکلنے کا اصل راستہ کون سا ہے؟ رہنمائی کہاں سے ملے گی؟
دیکھیے! کلام اقبال سے معمولی واقفیت رکھنے والا ہر شخص، جن میں خود میں بھی شامل ہوں، یہ جانتا ہے کہ مسلمانوں کی زبوںحالی اور زوال و انحطاط کے اسباب اور اس سے نکلنے کا راستہ اور طریقہ، یہ اقبالؒ کے اہم ترین موضوعات میں سے تھے اور اس حوالے سے ’’شکوہ‘‘ اور ’’جوابِ شکوہ‘‘ ان کی معرکۃ الآراء نظمیں ہیں۔ ’’شکوہ‘‘ دورِ زوال میں مسلمانوں کی نفسیاتی کیفیت کی عکاسی کے حوالے سے شاہکار نظم ہے اور ’’جوابِ شکوہ‘‘ اس صورت حال سے نکلنے کا راستہ۔ یہ دونوں نظمیں جیسے آج سے سو سال پہلے تروتازہ تھیں، آج بھی اسی طرح تروتازہ ہیں۔ وقت کی کمی کے باعث ’’شکوہ‘‘ کے چند ہی اشعار پر قناعت کروں گا۔ بالکل آغاز میں ہی فرمایا:
اے خدا شکوۂ اربابِ وفا بھی سن لے
خوگرِ حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے!
وہ شکوہ کیا تھا؟ اگرچہ اقبال نے بڑی تفصیل سے اپنا موقف امت مسلمہ کے ایک نمائندہ فرد کی حیثیت سے بارگاہِ الٰہی میں پیش کیا اور اس حوالے سے مسلمانوں کے احساسات کی ترجمانی کا  حق ادا کردیا ہے، لیکن اس کا مرکزی نکتہ یہی ہے کہ:
رحمتیں ہیں تری اغیار کے کاشانوں پر
برق گرتی ہے تو بے چارے مسلمانوں پر!
آج ایک صدی کے بعد بھی بحیثیتِ مجموعی ہم اسی مقام پر ہیں۔ خصوصاً مسلمانانِ پاکستان کے احساسات تو بالکل یہی ہیں۔
’’جوابِ شکوہ‘‘ میں اولاً تشخیص ہے، پھر علاج تجویز کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے قرآن و سنت کی تعلیمات کی ترجمانی بہت خوبصورت اور جامع انداز میں کی گئی ہے۔ 
فرماتے ہیں:
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہوکر
اور تم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہوکر!
’’جوابِ شکوہ‘‘ کا درج ذیل شعر بھی لائق ِتوجہ ہے۔ تم خود کو اربابِ وفا کہتے ہو، اللہ سے اور رسولؐ سے وفاداری کا دم بھرتے ہو اور حال تمہارا کیا ہے!
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود!
’’جوابِ شکوہ‘‘ کے آخری حصے میں امت کو پیغام… زوال و انحطاط سے باہر نکلنے کا راستہ۔ چند شعر سناکر اپنی گفتگو ختم کروں گا کہ آج ہمارے لیے اقبال کا پیغام یہی ہے جو ہماری درستی کا ذریعہ بن سکتا ہے   ؎
آج بھی ہو جو براہیمؑ کا ایماں پیدا
آگ کرسکتی ہے اندازِ گلستاں پیدا 
وقتِ فرصت ہے کہاں کام ابھی باقی ہے
نورِ توحید کا اِتمام ابھی باقی ہے!
آخری بند میں ساری بحث کو سمیٹتے ہیں، مسلمانوں کو حوصلہ بھی دلاتے ہیں:
عقل ہے تیری سپر، عشق ہے شمشیر تری
مرے درویش، خلافت ہے جہاں گیر تری!
ماسوا اللہ کے لیے آگ ہے تکبیر تری
تو مسلماں ہے تو تقدیر ہے تدبیر تری
اور آخری شعر…! خلاصہ کلام:
کی محمدﷺ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں!