14 نومبر 2018
تازہ ترین

ملکی سیاسی محاذ آرائی نقصان عوام کا ! ملکی سیاسی محاذ آرائی نقصان عوام کا !

 پاناما کا ہنگامہ جاری ہے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ہیجانی کیفیت نا صرف برقرار ہے بلکہ آئے روز ہیجان کی بھڑکتی آگ میں مزید سوکھی لکڑیاں ڈالی جا رہی ہیں تاکہ الاؤ مزید بھڑک جائے۔ پاناما انکشافات کے بعد عمران خان کی طویل جدوجہد خدا خدا کر کے جی آئی ٹی تک پہنچ گئی۔ جس میں وزیر اعظم کے دونوں صاحبزادے اور ان کے وزیر خزانہ اسحاق ڈار اب تک پیش ہو چکے ہیں۔ لیکن جے آئی ٹی میں پیشی سے پہلے حکومت نے ایک چال چلی اور عمران خان کے خلاف بھی اسی قسم ایک مسئلہ کھڑا کر دیا اور عوام کو باور کرایا کہ اس حمام میں ہم سب ننگے ہیں کوئی زیادہ گندا ہے کوئی تھوڑا کم مگر جس کو کاٹو وہی لال ہے۔ حکمران جماعت نے اس حوالے خاطر خواہ کامیابی بھی حاصل کر لی ہے اور اب تلاشی لینے کے آرزومند کپتان کو خود تلاشی کے عمل سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ دوسری طرف یہ بات قابلِ غور ہے کہ  نہال ہاشمی کے چہرے کے پیچھے بول کون رہا ہے اگر آپ ان کے ایک ایک جملے کو غور سے سنیں گے تو یہ جملے اور یہ لب ولہجہ بھی آپ کو دیکھا سنا لگے گا۔ بہر حال نہال ہاشمی بھی آخر کار مشاہداللہ اور پرویز رشید کے بعد قربانی کلب کے ممبر بن گئے ہیں اور بعض واقفان حال کہتے ہیں کہ یہ بڑے اعزاز کی بات ہے۔ اب لگتا یوں ہے حکمران جماعت کی قیادت نے جارحانہ رویہ اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے جیسا کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے دوران دھرنا اختیار کر رکھا تھا۔ موجودہ بحران میں شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار کی اصطلاح کسی پر پوری اترتی ہے تو وہ سینیٹر نہال ہاشمی ہیں۔ ان کے ریمارکس ذاتی ہوں یا پارٹی حکمت عملی کے تحت دیے گئے ہوں۔ اس سے وزیراعظم اور ان کی پارٹی ہی کا نقصان ہوا ہے اب یہ کم و بیش واضح ہو گیا ہے کہ اپوزیشن کی مستقبل میں مہم تین ایشوز کے گرد گھوم رہی ہو گی۔ یہ ایشوز پاناما پیپرز، کرپشن اور لوڈشیڈنگ ہوں گے۔ جواب میں حکمراں ن لیگ ترقی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی کے دعووں کوجواز کے طور پر پیش کرے گی۔ سیاسی طور پر نواز شریف نے اپنا سب کچھ گنوایا نہیں اور پارٹی کو بھی خصوصاً پنجاب میں یکجا رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مایوس تو ہو سکتے ہیں لیکن حوصلہ نہیں ہارا۔ دوسری جانب اپوزیشن لیڈر عمران خان اور ان کی تحریک انصاف نے بھی خود کو سمیٹ اور جوڑ کر رکھا ہے۔ پارٹی میں کوئی بڑا انحراف مشاہدے میں نہیں آیا۔ لیکن جس پارٹی کو خصوصاً پنجاب اور خیبر پختونخوا میں منحرفین کے مسئلہ کا سامنا ہے وہ سابق حکمراں جماعت پیپلز پارٹی ہے۔ لیکن تحریک انصاف کے بھی 11 جون کو پارٹی انتخابات سے قبل اپنے مسائل ہیں جس میں سرفہرست دھڑ ے بندیاں ہیں کچھ نے تو اندرون جماعت انتخابات کو ہی غیر آئینی قرار دے ڈالا ہے۔ رمضان المبار ک کے دوران لوڈشیڈنگ تو اپوزیشن خصوصاً عمران خان کے حق میں جا رہی ہے اسی لئے گزشتہ اجلاسوں میں وزیراعظم بجلی کے بحران پر بڑے برہم رہے۔ اس بحران پر قابو نہ پایا گیا تو یہ حکومت مخالف احتجاج میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ 2013 کے عام انتخابات میں عمران خان نے مسلم لیگ (ن) کے مضبوط حلقوں میں دراڑیں ڈالی تھیں۔ لیکن مرکز میں حکومت بنانے میں ناکام رہے، اب پہلے سے زیادہ پُر اعتماد ہیں لیکن بہت کچھ پاناما کیس کے نتیجے پر منحصر ہے۔ دوسری طرف ارضِ وطن کے تیزی سے کروٹیں لیتے سیاسی حالات جس نہج پر جاتے دکھائی دیتے ہیں یہ تو خدا ہی کو معلوم ہے اس کے نتائج کیا ہوں گے مگر حالات و واقعات سے پتا چلتا ہے کہ ملکی سیاست میں ایک غیر یقینی کی صورت حال ہے۔ ملکی سیاست اور قومی معاملات کو صحیح سمت میں رکھنے کے ذمہ دار ملک کے بالادست طبقے میں افراتفری اور نفسانفسی کے آثار دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ ایسے میں سیاسی فضا میں طرح طرح کی بولیاں سننے میں آ رہی ہیں۔ جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ ثابت کرنے میں اہل سیاست ایک دوسرے سے بازی لیجانے میں اپنے نہاں خانہ دماغ کی تمام تر صلاحیتیں صرف کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان کی سیاست میں متحارب سوچ و فکر اور متصادم نظریات کے حامل عناصر اور سیاسی پارٹیوں کے مابین معرکہ آرائی کوئی نئی بات نہیں اور نہ جمہوری ممالک میں اس قسم کے معرکے کوئی انہونی بات ہوا کرتی ہے۔ مگر اب کے سیاسی فضا میں جس قسم کی معرکہ آرائی قدم جما چکی ہے اس کے رنگ ڈھنگ ماضی سے بہت مختلف ہیں۔ اس سیاسی معرکہ آرائی نے باقاعدہ خوفناک قسم کی محاذ آرائی کی صورت اختیار کر رکھی ہے۔ اخلاقی اقدار کا لحاظ رکھے بغیر دوسروں پر تنقید و تضحیک کے تیر برسانے سے گریز نہیں کیا جا رہا۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ میدان سیاست کے افراتفری، نفسانفسی اور ہٹ دھرمی کے ایسے ماحول میں کوئی طبقہ حیران و پریشان اور غمزدگی کے عالم میں ہے تو وہ پاکستان کے عوام ہیں جو کروڑوں خاندانوں سے عبارت ملک کی عظیم اکثریت ہے۔ بالادست طبقہ کی اس سیاسی محاذ آرائی میں اس اکثریتی آبادی کا کوئی پُرسان حال نہیں۔ کہنے کو تو ملکی ادارے موجود ہیں اور کہا جائے گا کہ وہ اپنی اپنی جگہ کام کر رہے ہیں۔ مگر سیاسی میدان کی کشمکش میں ان اداروں کی کارکردگی قدرے منجمد ہو کر رہ گئی ہے۔ آخر ایسا کیوں ہے؟ اس کی بنیادی وجہ بالاتر طبقہ کی ہوس زر کا معاشرے کو اخلاقی انحطاط سے دو چار کرنے کا دروازہ واہ کرنا ہے۔ بددیانتی اور بے ایمانی کو برائی سمجھ کر اسے اختیار کرنے میں کوئی قباحت نہیں سمجھی گئی۔ اس کے نتیجے میں بدکردار افراد کو پنپنے کا موقع ملا۔ جس نے اقدار کی آبیاری کے برعکس انہیں ہلا کر رکھ دیا۔ اسی کے نتیجے میں معاشرے میں ایک دوسرے پر تنقید کرنے کی عادت جڑ پکڑ گئی۔ چنانچہ ملک کے موجودہ سیاسی میدان کے شہسواروں کو دوسروں کی آنکھ کا تنکا تو فوراً نظر آ جاتا ہے مگر اپنی آنکھ کے شہتیر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ بدقسمتی سے ایسے پر آشوب دور کے در آنے سے قبل عیش و طرب کی زندگی سے لطف اٹھانے والے بالادست طبقے نے ملک کی عظیم اکثریت کے ایسے حقیقی مسائل کی طرف توجہ دینا گوارا نہیں کی۔ جن میں سرفہرست اقتصادی مسئلہ ہے۔ پاکستان میں پیٹ بھر روٹی میسر نہ آنے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہے اور ارباب حکومت سے یہ حقیقت کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے جبکہ اب تو بلا خوف تردید یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں ارباب حکومت کی عاقبت نااندیش حکمت عملیوں کے نتیجے میں ملک میں متوسط طبقہ قریباً قریباً ختم ہو کر ایسے محروم طبقے میں گم ہو چکا ہے جو جسم اور روح کا رشتہ برقرار رکھنے کیلئے دو وقت کی روٹی کو اپنے سمیت اپنے اہل و عیال کے لئے ترستے ہیں۔ یہ کروڑوں عوام خط غربت سے کہیں نیچے کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اس پر طُرہ یہ کہ مفلس و قلاش اور فاقہ کش ان عوام کو ہر چند ماہ بعد ضروریات زندگی کی حواس باختہ گرانی کی نوید سرکاری سطح پر سنا دی جاتی ہے۔ کہنے کو پاکستان کا شمار زرعی ممالک میں ہوتا ہے مگر خط غربت سے نیچے کی زندگی بسر کرنے والے کروڑوں پاکستانیوں کو سبزیاں تک دستیاب نہیں کیونکہ وہ بیچارے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ یہ عوام ڈھنگ کا کپڑا خرید سکتے ہیں نہ پہن سکتے ہیں۔ گرانی نے انہیں کپڑا خریدنے کے لائق نہیں چھوڑا ان کروڑوں پاکستانی عوام کو سرکاری سطح علاج معالجے کی کوئی سہولت میسر نہیں۔ پاکستان کروڑوں افراد سے عبارت خاندانوں کے مریضوں کے امراض کے ٹیسٹ کرانے کا کوئی انتظام نہیں۔ اسی حوالے سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے تمام اعلانات سراسر جھوٹ کا پلندہ قرار پاتے ہیں۔ پاکستان میں پائے جانے والے موجودہ سیاسی خلفشار میں اشرافیہ کے نمائندہ حکمران اپنی تمام تر توانائیاں سیاسی مخالفین کو نیچا دکھانے میں استعمال کر رہے ہیں۔ کروڑوں پاکستانیوں کو بہلانے کیلئے ان کے پاس صرف دعوے اور اعلانات باقی ہیں۔