24 ستمبر 2018
تازہ ترین

ملکی سیاست کے نیلے پیلے رنگ ملکی سیاست کے نیلے پیلے رنگ

اعتراف کیا ہے خواجہ سعد رفیق نے کہ ’’عدلیہ بحالی تحریک میں شامل ہونا ہماری غلطی تھی۔‘‘ کہا جا سکتا ہے کہ یہ اعتراف نتیجہ ہے مسلم لیگ (ن ) کی قیادت کو اعلیٰ عدلیہ سے ’’سلیکٹو انصاف‘‘ ملنے کا۔ عدلیہ بحالی تحریک میں مسلم لیگ (ن) کے علاوہ پیپلز پارٹی کے لیڈر اعتزاز احسن پیش پیش تھے اور عمران خان بھی اس تحریک کے علمبردار تھے، اگرچہ خواجہ صاحب کے بقول ’’عمران خان اس دوران میں اسلام آباد میں چھپے ہوئے تھے۔ ‘‘ حقیقت یہ ہے کہ اگر اس روز میاں نواز شریف ہزاروں مسلم لیگی کارکنوں کے ہمراہ ماڈل ٹائون (لاہور) کا محاصرہ توڑ کر سڑکوں پر نہ نکلتے جو پی پی پی کے گورنر راج نے شہر پر مسلط کر رکھا تھا اور گوجرانوالا پہنچتے پہنچتے لاکھوں عوام لانگ مارچ کا حصہ نہ بن جاتے تو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری سمیت اعلیٰ عدلیہ کے56 جج کبھی بحال نہ ہو پاتے جنہیں جنرل پرویز مشرف نے غیر فعال اور نظر بند کر دیا تھا اور مشرف سے مفاہمت کے تحت صدر زرداری نے انہیں بحال نہ کرنے کا عزم کر رکھا تھا۔ لیکن نواز شریف اور اعتزاز احسن کی قیادت میں اسلام آباد کی طرف لاکھوں افراد کے رواں دواں لانگ مارچ کی تاب نہ لا کر آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے ’’سمجھانے ‘‘ پر زرداری حکومت نے گھٹنے ٹیک دیے، پھر جنرل کیانی ہی نے نصف شب اعتزاز احسن کو فون کر کے ججوں کی بحالی کی یقین دہانی کرائی تو قائدین نے لانگ مارچ کو گوجرانوالا میں ختم کر دیا اور پھر رات گئے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ججوں کی بحالی کا اعلان کر دیا۔ یاد رہے ایک ماہ قبل فروری 2009ء کے اواخر میں ایک ’’سدھائے ہوئے جج‘‘  سے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو نااہل قرار دلوا کر صدر زرداری نے پنجاب میں گورنر راج نافذ کر دیا تھا جبکہ گورنر ہاؤس میں سلمان تاثیر براجمان تھے۔ جب ججز بحال ہوئے تو گورنر راج فوت ہو گیا اور شہباز شریف عدالت علیا کے حکم پر بحال ہو گئے۔ 
اصولی طور پر عدلیہ بحالی کی تحریک درست اور وقت کا تقاضا تھی۔ خواجہ سعد رفیق کے اعتراف پر ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ ’’جب دیا رنج بُتوں نے تو خدا یاد آیا۔‘‘  بہرحال یہ قابل ستائش ہے کہ مسلم لیگی لیڈر اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں ورنہ پی پی پی ہو یا پی ٹی آئی یا جماعت اسلامی،ان کے کسی لیڈر نے کبھی اپنی پارٹی کی غلطیوں کا اعتراف کرنے کی ہمت نہیں کی۔پاکستان کی تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ پی پی پی کی قیادت نے کبھی اعتراف نہیں کیا کہ زیڈ اے بھٹو کا متحدہ پاکستان کی آخری اسمبلی کے افتتاحی اجلاس کا بائیکاٹ غلط تھا جس نے پاکستان ٹوٹنے کی بنیاد رکھی، اسی طرح عمران خان بھی کبھی یہ اعتراف نہیں کریں گے کہ ان کی دھرنا سیاست غلط تھی۔
وزیر اعظم عمران خان فرماتے ہیں کہ ’’ہمیں اندر سے کمزور کرنے کی کوشش کی گئی۔‘‘ وہ یہ نہیں بتاتے کہ ہمیں اندر سے کمزور کرنے کی کوشش کس نے کی۔ باشعور پاکستانی جانتے ہیں کہ ہماری حالیہ تاریخ میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے سول حکومت پر بلا جواز قبضہ اور امریکا کے آگے سرنڈر کر کے ہمیں کمزور کرنے کی شرمناک کوشش کی۔ سینئر صحافی صلاح الدین حیدر کے بقول ’’کولن پاول (امریکی وزیر خارجہ) نے رات کے تین بجے مشرف سے پوچھا کہ افغانستان کی پالیسی میں پاکستان امریکا کے ساتھ ہے یا نہیں۔(اصل الفاظ تھے: ’’تم ہمارے دوست ہو یا دشمن؟‘‘) سابق صدر کو چاہیے تو یہ تھا کہ وہ کہتے: جناب میں کل اپنے رفقائے کار سے مشورہ کر کے جواب دوں گا۔ لیکن مشرف نے اس ڈر سے کہ کہیںامریکا انہیں بھٹو کی طرح عہدے سے ہٹا نہ دے ، بلا چوں و چرا ہامی بھر لی۔ قوم کی عزت خاک میں مل گئی۔ نہ فارن آفس سے پوچھا گیا نہ قومی اسمبلی کا اجلاس بلا کر بحث کی گئی۔ اس وجہ سے تو امریکا آج ہمیں ڈکٹیٹ کر رہا ہے۔‘‘ ہم یاد دلائے دیتے ہیں کہ عمران خان نے ملک کو کمزور کرنے والے اسی فوجی آمر پرویز مشرف کے نام نہاد ’’صدارتی ریفرینڈم‘‘ میں انہیں کامیاب کرانے کے لیے دن رات ایک کر دیے تھے جبکہ خان صاحب آج بھی مشرف حکومت کی ’’برکتوں‘‘ کی تعریف میں رطب اللسان ہیں۔ (رطب اللسان بمعنی ’’زبان کی مٹھاس‘‘) کون نہیں جانتا کہ دہشت گردی جو ابھی تک ملک کی جان نہیں چھوڑ رہی، یہ آمر مطلق پرویز مشرف کے غلط فیصلوں کا نتیجہ ہے۔
وزیر اعظم نے پاکستانیوں اور تارکین وطن سے اپیل کی ہے کہ ’’نئے ڈیم بنانے میں مدد کریں۔‘‘ چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے اس بیان کو خوش آئند قرار دے کر سنائونی دی ہے کہ ’’میں ریٹائرمنٹ کے بعد ڈیم بنانے پر پہرہ دوں گا۔‘‘ اس سے پہلے انہوں نے بھاشا ڈیم کے لیے چندے کی اپیل کی تھی۔ حیرت کی بات ہے کہ اب عمران خان اور چیف جسٹس کالا باغ ڈیم کا نام لینے کے روادار نہیں، حالانکہ یہ ڈیم ملک کی ضرورت ہے جو زراعت کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کے علاوہ3600 میگا واٹ بجلی بھی فراہم کرے گا۔ اس وقت دریائے سندھ کا تقریباً 38 ملین ایکڑ فٹ پانی ہر سال سمندر میں ضائع جا رہا ہے اور کالا باغ ڈیم کی جھیل میں صرف اعشاریہ نو ملین ایکڑ فٹ (یعنی ایک لاکھ ایکڑ فٹ سے بھی کم) پانی ذخیرہ ہو گا اور وہ بھی صرف برسات کا زائدپانی جو اکثر سیلاب بن کر تباہی مچاتا ہے۔ گویا کالا باغ ڈیم دریائے سندھ میں سیلابوں کی روک تھام کرے گا۔ علاوہ ازیں اے این پی (عوامی نیشنل پارٹی) کے اعتراض پر ڈیم کی اونچائی بھی 935 فٹ سے کم کر کے 925 فٹ کر دی گئی اور خیبر پختونخوا کے قریبی شہر نوشہرہ کو لاحق مبینہ خطرہ بھی دور کر دیا گیا، حالانکہ چند سال پہلے دریائے کابل کے سیلاب نے کالا باغ ڈیم کے بغیر ہی نوشہرہ کو ڈبو دیا جبکہ کالا باغ ڈیم کی موجودگی میں یہ حادثہ پیش نہ آتا۔
تاہم اسفند یار ولی خاں اینڈ کمپنی کی طرف سے کالا باغ ڈیم کی مخالفت سے کہیں شدید تر مخالفت پی پی پی کی قیادت کی جانب سے پیش کی جا رہی ہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے خود ساختہ جلا وطنی سے پہلے رحیم یار خان (پنجاب) پر کالا باغ ڈیم کے خلاف دھرنا دیا تھا۔اب بھی چیف جسٹس ثاقب نثا ر نے جیسے ہی کالا باغ ڈیم کے نہ بننے کا سو موٹو لیا ، پی پی پی کے قائدین سید خورشید شاہ (سابق اپوزیشن لیڈر) اور مراد علی شاہ وزیر اعلیٰ سندھ نے کالا باغ ڈیم کے خلاف ایسے پُر جوش بیانات دیے کہ چیف جسٹس نے چُپ سادھ لی اور کالا باغ ڈیم کے بجائے بھاشا ڈیم کے لیے چندہ اکٹھا کرنا شروع کر دیا، حالانکہ افادیت کے لحاظ سے کالا باغ ڈیم کو فوقیت حاصل ہے مگر پی پی پی اور اے این پی کی گھٹیا سیاست نے کالا باغ ڈیم کے خلاف میڈیا میں ایسا طوفان اٹھا رکھا ہے کہ اس اہم ترین قومی منصوبے کو نسیاً منسیّا کیا جا رہا ہے۔ بھاشا ڈیم بھی بننا چاہیے کہ کوئی اس کا مخالف نہیں مگر کالا باغ ڈیم پر کام فوراً شروع ہو سکتا ہے جہاں خاصا گرائونڈ ورک ہو چکا ہے۔ سٹاف کالونی بنی ہوئی ہے جہاں گیدڑ وغیرہ بسیرا کیے ہوئے ہیں اور ڈیم کے لیے لائی گئی مشینری وہاں گل سڑ رہی ہے۔ صدر جنرل ضیا ء الحق نے ڈیم پر کام شروع کرایا مگر ان کے وزرائے اعلیٰ غوث علی شاہ (سندھ) اور جنرل (ر) فضل حق (سرحد) کی مخالفت کے باعث کام روک دیا گیا۔ غوث علی شاہ نے ڈرا دیا کہ اگر کالا باغ ڈیم بنانے پر اصرار کیا گیا تو پی پی پی سندھ میں جھاڑو پھیر دے گی اور سندھ سے مسلم لیگ کا صفایا ہو جائے گا۔
ایٹمی دھماکوں مئی 1998ء کے بعد وزیر اعظم نواز شریف نے جوش میں آ کر کالاباغ ڈیم بنانے کا اعلان تو کر دیا مگر غوث علی شاہ اور پی پی پی کی مخالفت کے باعث جھاگ کی طرح بیٹھ گئے۔ پی پی پی کی شدید مخالفت کے باعث ان کے برادرِ اصغر سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف بھی کہہ چکے ہیں کہ کالا باغ ڈیم پر ملکی سا  لمیت کو قربان نہیں کیا جا سکتا۔ کیا ظلم ہے کہ پی پی پی نے کالا باغ ڈیم بنانے کو ملکی سالمیت کے لیے خطرہ مشہور کر رکھا ہے، حالانکہ یہ ملکی ترقی کا منصوبہ ہے اور ملک کے بہترین مفاد میں ہے اور اسے تعمیر نہ ہونے دینے کے لیے بھارت نے نام نہاد سندھی قوم پرست تنظیموں میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے ۔ اس کے مقابلے میںبھارت میں بڑے بڑے ڈیم بنے ہیں مگر کانگرس یا بی جے پی ہو کسی ملک گیر جماعت نے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی۔ دریائے نرمدا (سابق نربدا) پر بہت بڑا سردار ڈیم علاقائی تنظیموں کی شدید مخالفت کے باوجود مکمل ہو چکا ہے۔ یہ دہلی میں حکومتیں بدلنے کے باوجود بنا ہے۔ لیکن پاکستان میں پی پی پی جیسی ملک گیر اور حکمران جماعت کی کالا باغ ڈیم کی مخالفت حب الوطنی کے کسی معیار پر پورا نہیں اترتی۔