20 ستمبر 2019
تازہ ترین

مقدس گائے… مقدس گائے…

بھارت میں یوں تو مسلمانوں کے ساتھ مظالم اور تشدد کے واقعات معمول ہیں اور کئی وجوہ کی بناء پر اُنہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے، مالی اور جانی نقصان پہنچایا جاتا ہے اور اُنہیں سرعام قتل کردیا جاتا ہے۔ بھارت کے یہ بیس کروڑ عوام ہندو اکثریت کی زد پر ہوتے ہیں۔ بھارت اپنی مردم شماری میں مسلمانوں کی تعداد کو اگرچہ بہت کم دکھاتا ہے، تاہم وہاں کی آبادی کا 18% ہیں۔ اگرچہ آزاد ذرائع کے مطابق یہ تعداد اس سے کافی زیادہ ہے۔ دوسری طرف کم ذات کے ہندو دلت ہیں جو اونچی ذات کے ہندوؤں کی نفرت کے سزاوار ہیں۔ وہ اِن کی جان، مال اور عزتوں کے مالک ہیں۔ وہ یہ سب کچھ اپنے مذہب کے نام پر کرتے ہیں، لہٰذا کسی پوچھ گچھ کا ڈر نہیں۔ بھارت کی آبادی کے 17% دلت انسانیت کے درجے تک نہیں پہنچ سکتے۔ یہی حال دوسری اقلیتوں کا بھی ہے اور یوں بھارت کی 40/45 فیصد آبادی ہر وقت اکثریت کی طرف سے خطرے میں رہتی ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے گٹر صفائی کے مزدور بینر واڑا ولسن نے کہا کہ دلت کی موت پر خاموشی اور گائے کی موت پر ہنگامہ کیوں ہوتا ہے۔ اگر دہلی میں دس گائیں مرجائیں تو ہنگامہ مچ جاتا ہے جب کہ اسی شہر میں دس خاکروب مرے لیکن ایک آواز نہیں اٹھی۔ وہاں مسلمانوں کو گائے کا گوشت کھانے اور پکانے پر موت کے گھاٹ اُتار دیا جاتا ہے، گلیوں میں گھسیٹا جاتا ہے۔عدالتیں خود اسی خیال کی حامل ہیں کہ گائے انسان سے زیادہ مقدس ہے۔ ہندو گائے کو اپنی ماں کا درجہ دیتے ہیں۔  بے چارہ بے زبان جانور جسے ہندو ذہنیت نے قتل و غارت گری کی وجہ بنادیا ہے۔ 
اگر کسی گائے نے کسی انسان کو سینگ مار کر ہلاک کردیا تو عدالتیں کیا حکم سناتی ہوں گی؟ یہ بھی ایک سوال ہے۔ اگر ہم چاہیں تو اس گائے کو دفاعی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اگر پاک بھارت  بارڈر کے ساتھ سو کلومیٹر کا علاقہ ٹیکس فری کائو فارمنگ قرار دیا جائے اور حکومت پاکستان اس مقصد کے لیے بارڈر بیلٹ کے لوگوں کو معاشی اور ماہرانہ مدد فراہم کرے تو بھارت کی سرحدی خلاف ورزیوں اور اچانک حملہ کرنے کی کسی بھی کوشش کو روکا جاسکتا ہے اور شاید بھارت کی پاکستان دشمنی میں بھی کوئی کمی آجائے۔ بہرحال اگر اس کو ایک تفریحی یا ازراہ مذاق مشورہ بھی سمجھا جائے لیکن بھارت کے حالات کو دیکھ کر اتنا بھی ناقابل عمل نہیں۔ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے گائے کے فضلے کو بھارت کو تحفتاً دے دیا جائے۔ قارئین یقیناً سوچ رہے ہوں گے کہ میں ایسی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیوں کررہی ہوں تو عرض یہ ہے کہ ایک معاشرہ اور ایک مذہب اگر اس طرح کے غیر سنجیدہ اور غیر معقول نظریات رکھے گا تو اس کے لیے ایسے ہی مشورے دیے جاسکتے ہیں۔ مذہبی طور پر بھارت جو چاہے کرے لیکن دوسروں کو اس غیر معقولیت کی بھینٹ نہ چڑھائے۔ ہریانہ کا سولہ سالہ جنید خان ہو یا آسام کے ابوحنیفہ اور ریاض الدین علی یا راجستھان کا پہلو خان یا دہلی کا اخلاق، سب اس جانور کے نام پر ہلاک کیے گئے۔ مالیگائوں کے فسادات کی وجہ بھی یہ گائے ہی تھی، یہ قصہ کوئی نیا نہیں۔ 1870 میں بھی ایسے فسادات ہوئے، 1893 میں سو لوگ اس جانور پر قربان ہوئے اور اکیسویں صدی میں 2017 میں بھی یہ صرف بھارت کے غیر فطری نظریات اور عقائد کی بنیاد پر ہوا، 2015 سے2017 تک معلوم ہلاک شدگان کی تعداد دس ہے اور نامعلوم اس کے علاوہ ہیں۔ 
انسانوں کو بچانے کے لیے وزارتِ صحت کا ہونا تو ظاہر ہے کہ ضروری ہے، وزارت زراعت بھی ضروری ہے تاکہ فصلوں اور مال مویشیوں کی دیکھ بھال ہوسکے۔ ماحولیات والے بھی معدوم ہوتے جانداروں کی حفاظت کے لیے سرگرم ہوتے ہیں، لیکن بھارت کی ریاست راجستھان میں وزارت گائو پوری دنیا میں واحد مثال ہے جو کسی ایک جانور کی حفاظت کے لیے بنائی گئی ہے۔ بھارت کا یہ بھی دیگر انوکھے ریکارڈز کی طرح ایک ’’اعزاز‘‘ ہے اور اسے بنانے والے مودی نے اسے اپنے سیاسی حلقے اور آبائی ریاست راجستھان میں بنایا، یعنی اگرکسی آوارہ گھومتی گائو ماتا کی شان میں گستاخی کی گئی تو قابل سزا جرم ہوگا۔ بھارت اپنی تہذیب اور مہذب ہونے کا ڈھنڈورا تو پوری دنیا میں پیٹتا ہے، لیکن اُس کی نظر میں انسان سے زیادہ ایک جانور کی اہمیت ہے۔ بھارت اپنے مذہب کی رو سے سے گائے کو اہمیت دیتا ہے تو دے لیکن انسانوں کو اس پر قربان نہ کرے۔
بھارت جو اپنی جمہوری روایات کے گن گاتا رہتا ہے، اگر اپنے بیس کروڑ مسلمانوں کو اپنی مرضی سے کھانے کا حق نہیں دے سکتا تو کیسی جمہوریت…؟ جمہوریت اگر صرف اکثریت کے لیے ہو تو کیا وہ جمہوریت کہلائے گی۔ بھارت میں مسلمان مجبور، دلت محروم، عیسائی غیر محفوظ تو پھر کیسی اور کون سی جمہوریت۔ ایک درخواست پاکستانیوں سے بھی کہ بار بار بھارت کی تعریف و توصیف کرتے ہوئے اس کی جمہوریت کی تعریف میں رطب للسان نہ ہوا کریں، بلکہ مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو دنیا کے سامنے لاتے ہوئے اس کا اصل چہرہ دنیا کو دکھائیں اور یہ حقیقت بھی بتائیں کہ بھارت میں تسلسل جمہوری نہیں سیاسی حکومت کا ہے اور ضروری نہیں کہ سیاسی حکومت جمہوری بھی ہو، کم از کم بھارت کے بارے میں تو یہی حقیقت ہے اور یہ دُنیا کو معلوم ہونی چاہیے۔