23 ستمبر 2018
تازہ ترین

مفتوحہ یا منکوحہ مفتوحہ یا منکوحہ

اردو دنیا کے واحد صاحبِ دیوان عرب شاعر ڈاکٹر زبیر فاروق، اکسٹھ اردو شعری مجموعوں کے خالق ہیں۔ جو ان سے متعارف نہیں وہ ان کے حوالے سے دو سوال ضرور کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ کیا روانی سے اردو بولنے اور سہولت سے اردو لکھ لینے والا یہ شاعر واقعتاً عرب ہے اور دوسرا سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا زبیر فاروق نے اتنی ڈھیروں، 61 شعری مجموعوں پر مشتمل ساری شاعری خود کی ہے یا یہ قلم کے تخلیق کار مزدوروں اور گھوسٹ شاعروں کا کمال اور کیا دھرا ہے؟ پچھلے دنوں ڈاکٹر زبیر فاروق پاکستان تشریف لائے تو ہمارے دوست پروفیسر ظہیر بدر نے انہیں اپنے ہاں مدعو کیا، ظہیر بدر جنہوں نے اپنے گھر کے باہر مقام دوست کندہ کرا رکھا ہے، محفل دوستاں برپا کرنے میں لاثانی ہیں۔ چنانچہ اس روز ڈاکٹر زبیر فاروق کے ساتھ شہر کے چنیدہ ادیب، شاعر اور دانشور بھی موجود تھے۔ یوں ڈاکٹر زبیر فاروق کے اعزاز میںیہ نشست جہاں شعر و ادب کے حوالے سے اہل محفل کے زوق سلیم کو مہمیز عطا کر ہی رہی تھی، وہاں شرکاء محفل کے شگفتہ، برجستہ جملوں، فقروں اور بیان کیے جانے والے دلچسپ اور یادگار واقعات و قصوںکے باعث ایک منفرد رنگا رنگ تقریب کے روپ میںڈھل گئی۔
 تقریب کے مہمان اعزاز ڈاکٹر زبیر فاروق نے خود اپنے اور اپنی شاعری خصوصاً ڈھیروں شعری مجموعوں کے تناظر میں اٹھنے والے سوالات اور پیدا ہونے والے شکوک کے تناظر میں دلچسپ واقعات سنا کر محفل کو کشت زعفران بنائے رکھا۔ انہوں نے بتایا کہ اکثر ان کے احباب یہ شک کرتے ہیں کہ جتنی شاعری میرے نام سے شائع ہو چکی ہے یا میں مشاعروںمیں پڑھتا ہوں وہ میں نے معاوضہ دے کر گھوسٹ شاعروں سے حاصل کی ہے۔ اس ضمن میں یہ بات بھی دلچسپی کی حامل ہے کہ کچھ شاعروں نے یہ تاثر دے اور مشہور کررکھاہے کہ وہ ڈاکٹر زبیر فاروق کے ا ستاد اور اتالیق ہی نہیں اس کے نام سے شائع ہونے والی شاعری کے خالق بھی ہیں۔ زبیر فاروق ہنستے مسکراتے ہوئے بتا رہے تھے کہ ایک مرتبہ متذکرہ بالا تاثر کے تناظر میں ایک بڑے شاعر (منیر نیازی) نے ان یعنی ڈاکٹر زبیر فاروق کا امتحان لینے اور یہ چیک کرنے کیلئے کہ آیا زبیر فاروق کو شعر فہمی اور شعر نگاری کا کچھ ادراک بھی ہے یا نہیں، ایک کچا پکا مصرعہ کاغذ پر لکھ کر انہیں تھمایا اور کہا فاروق ذرا دیکھنا یہ مصرعہ وزن میں ہے ناں…؟ ڈاکٹر فارو ق بتاتے ہیں کہ وہ یہ جان گئے کہ اس سوال کے بین السطور مقاصد کیا ہیں اور متذکرہ شاعر محض میرے امتحان اور اپنی خباثتِ طبع کی خاطر یہ شرارت کر رہے ہیں۔ چنانچہ میں نے بڑے ادب سے عرض کیا، ارے صاحب! آپ خود بڑے شاعرہیں آپ کو اپنا کام خود کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے۔ زبیر فاروق کی اس حاضر جوابی اور برجستگی پر محفل میں ایک فلک شگاف قہقہہ بلند ہوا اور ساتھ ہی میری چشم تصور میں وہ چہرے منڈلانے لگے جو برسہا برس سے ہمیں یہ بے جا تاثر دیے ہوئے ہیں کہ وہ فی سبیل اللہ یا معاوضہ لے کر ڈاکٹر زبیر فاروق کو سادہ کاغذ پر اصلاح دیتے چلے آ رہے ہیں۔
 بہرحال شاعروں کی موجودگی کے باوجود اس محفل میں گفتگو اور گپ شپ کا عنصر غالب تھا اور سبب اس کا یہ تھا کہ تقریب کے مہمانِ اعزاز شاعر ہونے کے باوجود اپنی ادبی و پیشہ ورانہ زندگی کے دلچسپ واقعات کے تذکرے سے حاضرین محفل کو ہنسا ہنسا کر لوٹ پوٹ کر رہے تھے۔ زبیر فاروق پیشے کے اعتبار سے میڈیکل ڈاکٹر ہیں اور ان کا اختصاص بطور ماہر امراض جلد ہے مگر وہ فنون لطیفہ کی ہر صنف شاعری، موسیقی، گائیکی، مصوری، اداکاری غرض ہر ایک میں دلچسپی رکھتے اور اس میں اپنے فن کا اظہار بہت باقاعدگی اور سنجیدگی سے 
کرتے ہیں۔ پاکستان سے انہیں خاص انس اور رغبت ہے۔ یہاں کی تہذیب، ثقافت، تمدن ، رسم و رواج سے وہ پوری طرح تعلق اورآگہی رکھتے ہیں۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان ان کا ’’منکوحہ‘‘ ملک ہے اور خیر سے ان کی چوتھی اہلیہ محترمہ پاکستان سے تعلق رکھتی ہیں۔ ’’منکوحہ‘‘ کا تذکرہ آیا تو ایک دلچسپ قصہ ملاحظہ کیجئے۔ گئے برسوں کی بات ہے بہاولپور میں معروف شاعر نوشی گیلانی، دانشور منور جمیل قریشی اور صحافی و تجزیہ نگار وقار عزیز صدیقی نے میرے برادرِ کلاں معروف دانشور، شاعر اور براڈ کاسٹر اعزاز احمد آذر کے اعزازمیں ایک تقریب برپا کی۔ منور جمیل نے آذر بھائی کے حوالے سے ابتدائی گفتگو کرتے ہوئے کہا، میں چشم دید گواہ ہوں اور خوش گوار حیرت ہوتی ہے کہ آذر جس شہر میں مشاعرہ پڑھنے جاتا ہے، لوگوں کے دل جیت اور مشاعرہ لوٹ لیتا ہے۔ ایسے لگتاہے جیسے بہاولپور، رحیم یار خاں ، سرگودھا، فیصل آباد، سیالکوٹ، گوجرانوالہ اور ساہیوال یہ سب آذر کے ’’مفتوحہ‘‘ شہر ہیں۔ اس پر آذر بھائی یکدم اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور کہا، برادرم اس میں سے سیالکوٹ کو نکال دیں کیونکہ وہ میرا ’’مفتوحہ‘‘ نہیں منکوحہ شہر ہے اور ہال دیر تک تالیوں سے گونجتا رہا۔
بہرحال یہ نشست جس کا اہتمام مہمان شاعر ڈاکٹر زبیر فاروق کے اعزازمیں کیا گیا تھا کیونکر منطقی انجام کو پہنچ سکتی تھی جب تک مہمانِ اعزاز اور حاضر شعرا سے ان کا کلام نہ سنا جاتا۔ چنانچہ یکے بعد دیگر چند دوستوں نے اپنی شاعری سے شرکاء محفل کی تواضع کی اور اپنے ان اشعار پر خوب داد پائی، ملاحظہ کیجئے:
لٹ گیا اسلام عظمی ہر کوئی بازار میں
مول پہ جھگڑا کیا اور تول میں کم لے گیا
(اسلام عظمی)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جو چاہوں بھی تو اب خود کو بدل سکتا نہیں ہوں
سمندر ہوں کناروں سے نکل سکتا نہیں ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب عاشقوں پہ عشق کی لذت حرام شد
یعنی قیام دشت کی مدت حرام شد
گزری جو تیرے ساتھ وہ سب رائیگاں گئی
تیری گلی کے پھیروں کی ذلت حرام شد
(ظہیر بدر)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اُجڑے مکاں میں جیسے دیمک نے گھر کیا ہے
ایسے ہی میرے دل میں اک شک نے گھر کیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو نے ہر بار مصیبت سے نکالا ہم کو
ہم نہ بن پائے ترے پھر بھی ہمارا تو ہے
(ڈاکٹر زبیر فاروق)
ڈاکٹر رشید زئی اور زابر سعید کی معیت میں تقریب کے اختتام پر باہر نکلے تو شاعر ناصر زیدی کا یہ باکمال شعر میری زبان پر تھا:
میں بے ہنر تھا مگر صحبت ہنر میں رہا
شعور بخشا ہمہ رنگ محفلوں نے مجھے
یار زندہ صحبت باقی، انشاء اللہ!!!