20 ستمبر 2019
تازہ ترین

معروض کی سیاسی بساط پر نئی دروبست معروض کی سیاسی بساط پر نئی دروبست

سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نواز شریف کچھ لوگوں کے خیال میں شہباز شریف کی ملاقاتوں اور چودھری نثار کے مشوروں کو بالآخر تسلیم کرتے ہوئے پاکستان بھی واپس آئے اور عدالت میں پیش بھی ہوئے۔ عدالت نے اُن کا استثنیٰ تسلیم نہیں کیا اور پھر اُن کے بچوں حسن، حسین اور مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے قابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے۔ فرد جرم عائد کرنے کے لیے دو اکتوبر کی تاریخ بھی مقرر کی تھی لیکن اس روز نوازشریف پر فرد جرم تو عائد نہ کی جا سکی البتہ ان کے صاحبزادوں کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری ضروری جاری کر دیے۔
اس سے پہلے اسلام آباد کے پنجاب ہائوس میں دیگر مسلم لیگی راہنمائوں کے علاوہ سابق وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار بھی پہنچے اور اُن کی نواز شریف کے ساتھ ہنستی مسکراتی ملاقات بھی ہوئی گلے شکوے بھی ہوئے اور مستقبل کا لائحہ عمل بھی تیار ہوا۔ بہرحال شہباز شریف کی اچانک لندن روانگی اور بھائی جان سے ملاقات، شاہد خاقان عباسی کی امریکا سے واپسی پر اجلاس میں خصوصی شرکت، مریم نواز کے لہجے میں نرمی اور پھر اچانک اسلام آباد واپسی اور عدالت میں پیشی نے۔۔۔۔۔ بہت سارے سوالوں کو جنم دیا۔ قیاس آرائیاں اور افواہیں، مُک مُکا، مفاہمت اور ڈیل کی باتیں، اور پھر یہ بھی ہوا کہ نواز شریف کو عدالت میں حاضری لگانے کے بعد واپسی کی اجازت بھی دے دی گئی۔ جس نے کچھ اور عوامل کی نشاندہی بھی کی۔۔۔
مگر پھر جب عدالت کے فیصلے کے بعد نواز شریف نے پریس کانفرنس کی جس میں چودھری نثار بھی بیٹھے ہوئے تھے، نواز شریف نے ایک لکھی ہوئی تقریر تو کی مگر اخبار نویسوں کے کسی سوال کا جواب نہیں دیا۔ اس تقریر یا پریس کانفرنس میں بظاہر کوئی نئی بات نہیں، وہی عدالت، ججز اور پس پردہ قوتوں کی طرف اشارے اور عوام کے فیصلوں کے عدالتی فیصلوں پر حاوی ہونے کی حقیقت اور اُس کی نشاندہی۔۔۔۔۔ ووٹ کے تقدس کی بحالی اور اُس کا احترام 20کروڑ عوام کی عزت اور وقار کی بحالی اور سیاسی احترام کا تذکرہ۔۔۔۔ لیکن کچھ باتیں کچھ اعتراف بھی تھے اور مستقبل کے عزائم اور جنگ کا عندیہ بھی تھا۔۔۔
جانتا ہوں میرا جرم کیا ہے۔ پاناما ڈرامہ سے شروع ہونے والی کہانی اقامہ تک آئی، اقامہ تو محض ایک بہانہ تھا، انہوں نے مجھے نا اہل کرنا ہی تھا۔ گویا وہ ابھی تک عدلیہ اور ججز کے کردار پر تنقید بھی کر رہے تھے اور انہیں خطرہ بھی تھا کہ ابھی چونکہ یہ کھیل ختم نہیں ہوا اُن کے اور بچوں کے خلاف ریفرنسز ہیں۔۔۔۔۔ اس لئے سیاسی دبائو ضروری ہے۔ یا پھر مفاہمت کے امکانات تو پیدا ہوئے ہیں ابھی ڈیل مکمل نہیں یا کچھ شرائط پر مزید بات چیت ضروری ہے۔۔۔۔۔ اس لئے فریقین ایک دوسرے پر دبائو بڑھا رہے ہیں۔۔۔۔۔ اب دلچسپ سوال ہے کہ دوسرا فریق کون ہے؟ اور عدالت تو محض جزو ثانی ہے۔
تو پھر سوال یہ ہے کہ وہ قوت جو بظاہر نادیدہ ہے لیکن وہ ہر جگہ سیاست، معیشت اور معاشرت میں موجود بھی ہے اور بالادست بھی اُس کے عوامل و عزائم کی نشاندہی کیسے ہو سکتی ہے۔۔۔۔۔ ہمارے دوست فکر گنگولوی اس تناظر میں بہت واضح مؤقف رکھتے ہیں اُن کا ارشاد گرامی قدر ہے کہ اس بارے پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں، یہ تو انفارمیشن ٹیکنالوجی کی دنیا میں کچھ زیادہ مشکل نہیں رہا بلکہ اب تو عالمی اقتصادی اور سیاسی مافیا بھی بہت جلد بے نقاب ہو جاتا ہے بس ذرا آنکھیں اور کان کھلے رکھتے ہوئے ٹی وی چینلز اور اخبارات کا مطالعہ کرنا چاہیے، بہت کچھ سامنے آتا چلا جاتا ہے۔ رہی اندرونی سیاسی بساط کی تو اس پر مہروں کی دروبست ہی نہیں بیان بازی پر بھی توجہ دینا لازم ہے لیکن پھر اس سے چند قدم آگے سیاسی نقل و حرکت بھی قابل توجہ ہوتی ہے جیسے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر پیپلزپارٹی کے خورشید شاہ محاذ آرائی کا پہلا ہدف ہیں اور اُن کے پائوں تلے سے زمین کو کھینچنے کے لئے باقاعدہ رابطے اور سودے بازیاں بھی ہو رہی ہیں۔ گزشتہ دنوں پاکستان تحریک انصاف کا ایک وفد شاہ محمود قریشی کی قیادت میں ایم کیو ایم کے وفد سے ملا ہے ایم کیو ایم نے یقین دہانی کے باوجود فیصلہ رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کرنے کا عندیہ دیا ہے لیکن یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایم کیو ایم پارلیمنٹ میں تیسری بڑی پارٹی ہے یعنی اُس کی قومی اسمبلی ہی نہیں سینیٹ میں بھی نمائندگی ہے جو مارچ 2018ء میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے لہٰذا تبدیلی کے بعد ڈپٹی اپوزیشن لیڈر ہمارا حق ہے، یا پھر ہم خود بھی امیدوار ہو سکتے ہیں۔۔۔۔۔ اس طرح اپوزیشن ارکان کی تعداد 66 ہو گئی ہے، پیپلز پارٹی کو 62 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔۔۔ کیا ہو گا ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ۔۔۔ تمام کلیدی عہدوں پر تعیناتی اٹھارہویں ترمیم کے بعد اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے ہوتی ہے۔ اس وقت تو تحریک کا بڑا براہ راست ہدف الیکشن کمیشن ہے، جس نے عمران خان کو پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ جبکہ نیب کے بارے بھی شدید ترین تحفظات ہیں اور اُس کے خلاف کھلے عام عدم اعتماد بھی ہو رہا ہے اُن کی تبدیلی کا وقت بھی آ رہا ہے۔۔۔۔۔ لیکن ہمارے نزدیک یہ معاملہ محض جزوی اور ثانوی ہے اور اصل معاملہ مئی 2018ء میں جب حکومت ختم ہو جائے گی نگران حکومت انتخابات کرائے گی، تو اس الیکشن کمیشن سے کچھ خاص اُمیدیں نہیں جبکہ اس سے بھی زیادہ اہم آئین کے تحت، اپوزیشن لیڈر سے اتفاق رائے پر نگران وزیراعظم کا تقرر ہو گا۔ تو صوبوں میں بھی اسی نکتے کے تحت یعنی حکومت اور اپوزیشن لیڈر کی مفاہمت سے وزرائے اعلیٰ ہوں گے، تحریک انصاف کو خیبر پختون خوا میں تو یہ ایڈوانٹج حاصل ہے لیکن وہ پنجاب میں بھی پہلے سے زیادہ بہتر پوزیشن کی خواہش مند ہے چنانچہ اگر پسندیدہ نہیں تو کوئی قابل قبول شخصیت کی تجویز تو پیش کی جا سکتی ہے۔ البتہ سب سے بڑا مسئلہ وفاقی نگران حکومت اور نگران وزیراعظم کا بھی ہے جس پر مفاہمت کے ساتھ کچھ سودے بازی وزارتوں پر بھی ہو سکتی ہے۔۔۔۔۔
یہ تو ایک محاذ ہے دوسرا محاذ اس سے بھی بڑا جہاں گولا باری شروع ہو گئی ہے۔ ہمارے انتہائی مجذوب راہنما عمران خان نے قبل از وقت نئے انتخابات کا مطالبہ کر دیا ہے۔۔۔۔۔ کیونکہ 2018ء کے جولائی اگست سے پہلے مارچ کا مہینہ بھی آنا ہے جب سینیٹ کے انتخابات بھی ہونا ہیں معروض میں تو نون لیگ کی پوزیشن مزید بہتر ہونے اور اُس کا چیئرمین سینیٹ بننے کا بھی واضح امکان ہے لیکن اگر قبل ازوقت انتخابات ہوں تو پھر اس صورت حال کے تبدیل ہونے کی اُمید بھی ہے۔۔۔۔۔ لیکن ہم اپنے مجذوب رہنما کی اس دانشورانہ مانگ کے بارے یہ سمجھ نہیں پائے کہ آخر انہوں نے یہ مطالبہ کیوں اور کس سے کیا ہے؟
اب تو تھرڈ ایمپائر بھی وہ نہیں۔۔۔۔۔ عدالت نے بھی حکومت کو نہیں وزیر اعظم کو نا اہل کیا ہے۔۔۔۔ گویا جمہوری سیاسی نظام کا تسلسل ناگزیر ہے۔۔۔۔ تو پھر یہ مطالبہ یہ تجویز کیوں؟ نگاہ پھر سینیٹ کی طرف جاتی ہے شاید وہ چاہتے ہیں حکومت اور اسمبلیاں توڑ دی جائیں تاکہ۔۔۔۔۔ گلیاں ہو جان سنجیاں وچ مرزا یار پھرے۔۔۔ لیکن کہیں نہ کہیں یہ غلطی ہو گئی ہے نواز شریف کو ہی نہیں حکومت کو بھی برطرف کر دیا جاتا تو اچھا تھا۔۔۔۔۔ اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔۔۔۔۔