15 نومبر 2018
تازہ ترین

مصر میں فوجی آمریت کے 65برس مصر میں فوجی آمریت کے 65برس


محسن فارانی
22 جولائی 2017ء کو ایک مصری عدالت نے دو سال قبل ایک پراسکیوٹر کے قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں 28افراد کو سزائے موت کا حکم سنایا ہے۔ مصری آمر عبدالفتاح سیسی کا کارندہ ہشام برکات 2015ء میں قاہرہ میں کار بم دھماکے میں ہلاک ہو گیا تھا۔
جولائی2013ء میں جنرل سیسی نے پہلی بار آزادانہ انتخاب میں عوام کے منتخب صدر محمد المرسی کا تختہ الٹ کر انہیں جیل میں بند کر دیا تھا اور یوں اخوان المسلمون کی جمہوری حکومت کا ایک سال بعد ہی گلا گھونٹ دیا گیا تھا۔ ہزاروں اخوانی جیلوں میں ڈال دیے گئے تھے۔ قاہرہ اور سکندریہ کی سڑکوں پر معزول صدر مرسی کے حق میں نکلنے والے سیکڑوں مظاہرین سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے شہید ہوئے تھے اور اخوان لیڈروں کو دھڑا دھڑ عمر قید اور سزائے موت سنائی جا رہی تھیں۔ اس پر زیر زمین سرگرم اخوانیوں نے سیسی آمریت کی پشت پناہ عدلیہ کو نشانہ بنانے کی کال دی تھی اور پراسکیوٹر ہشام برکات اسی انتقامی رو کی زد میں آ کر مارا گیا تھا۔
سیسی حکومت نے اخوان المسلمون کو خلاف قانون قرار دیا ہوا ہے اور گزشتہ چار سال سے اخوانیوں کی پکڑ دھکڑ اور انہیں سزائیں سنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ جنرل سیسی کی نام نہاد عدالتیں سزائے موت اور عمر قید سنانے میں بیباک ہیں۔ ہشام برکات کے مقدمۂ قتل میں 15ملزمان کو عمر قید جبکہ 8افراد کو 15سال قید اور 15 دیگر لوگوں کو 10سال قیدکی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ سزائے موت پانے والوں کی سزا کی سرکاری مفتی پہلے ہی توثیق کر چکے ہیں۔ قانونی طور پر مفتی کی رائے لینا ضروری ہے لیکن اس کی رائے پر عمل درآمد لازم نہیں۔ عدالتیں سابق صدر مرسی کے سیکڑوں حامیوں کو سزائے موت سنا چکی ہیں، ان میں اخوان کے سربراہ محمد بدیع بھی شامل ہیں۔
مصر میں اخوان المسلمون کا قیام گزشتہ صدی کی تیسری دہائی میں عمل میں آیا تھا جبکہ مصر ابھی برطانوی سامراج کے پنجۂ استبداد میں گرفتار تھا۔ اس تنظیم کے بانی شیخ حسن البنا تھے۔ تنظیم کا اولین مقصد اسلامی نظام کا قیام تھا۔ 1936ء میں برطانوی سامراج تو ملک سے رخصت ہو گیا، تاہم شاہ فاروق کی بادشاہی اسی نظام کا تسلسل تھی جسے ان کے جدامجد محمد علی پاشا نے 1805ء میں خلافت عثمانیہ سے الگ ہو کر قائم کیا تھا اور 1882ء سے مصر پر برطانوی تسلط نے اس پر مغربیت کا گہرا رنگ چڑھا دیا تھا۔ 1949ء میں شاہ فاروق کے کارندوں نے شیخ حسن البنا کو شہید کر دیا، تاہم اخوان المسلمون اس وقت تک عرب دنیا میں اسلامی نظام کی علمبردار مضبوط جماعت بن چکی تھی اور اس کے اثرات شام، لبنان، سوڈان، اردن، عراق، تیونس وغیرہ تک پھیل چکے تھے۔
جولائی 1952ء میں شاہ فاروق کا تختہ الٹ دیا گیا۔ اس فوجی انقلاب کو اخوان کی بھی حمایت حاصل تھی۔ انقلابی حکومت کے سربراہ جنرل نجیب تھے جو اخوان سے ہمدردی رکھتے تھے، تاہم فوجی انقلاب کی اصل طاقت کرنل جمال عبدالناصر کے ہاتھ میں تھی جنہوں نے 1954ء میں جنرل نجیب کو فارغ کر کے خود زمامِ اقتدار سنبھال لی تھی۔ وہ پہلے وزیراعظم بنے پھر 1956ء میں صدر بن بیٹھے۔ ان کے برسرِاقتدار آنے میں کہا جاتا ہے کہ امریکی سی آئی اے کا خفیہ ہاتھ کارفرما تھا۔
جمال عبدالناصر عرب نیشلزم کے علمبردار تھے اور انہیں اخوان المسلمون کا اسلامی نظام کا نعرہ کسی طور پسند نہ تھا، چنانچہ انہوں نے خود پر اسکندریہ میں قاتلانہ حملے کا ڈرامہ رچایا اور اخوان کے چھ اہم لیڈروں پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلا کر انہیں پھانسی پر لٹکا دیا۔ ان میں شیخ محمد عودہ اور شیخ فرغلی جیسے عالم دین تھے۔ یہ اخوان کے لیے بہت بڑا صدمہ تھا۔ اس دوران میں ناصر سوشلزم یا اشتراکیت کی راہ پر چل نکلے اور دریائے نیل پر اسوان ڈیم کی تعمیر میں روسی تعاون نے انہیں ماسکو کی گود میں ڈال دیا جبکہ امریکا نے ڈیم کی تعمیر سے ہاتھ کھینچ لیا تھا۔
26 جولائی 1956ء کو ناصر نے نہر سویز کو قومیانے کا اعلان کر دیا جو ایک ماہ قبل 13جون تک برطانوی فوج کے کنٹرول میں تھی اور اس کے حصص برطانیہ اور فرانس کے پاس تھے۔ 29 اکتوبر 1956ء کو اسرائیل نے مصر کے صحرائے سینا پر حملہ کر دیا۔ برطانیہ اور فرانس نے جنگ بندی کا مطالبہ کیا جو صدر ناصر نے مسترد کر دیا، چنانچہ 31اکتوبر کو برطانیہ اور فرانس نے بمباری کی اور 6-5 نومبر کو ان کی فوجیں نہر سویز کے علاقے میں آن اتریں۔ اسرائیل سینا پر قابض ہو چکا تھا۔
دریں اثنا مصر اور اسرائیل دونوں نے اقوام متحدہ کی قرارداد جنگ بندی قبول کر لی جسے روس اور امریکا دونوں کی حمایت حاصل تھی اور 7نومبر 1956ء کو جنگ بند ہو گئی۔ قراردادکے مطابق اسرائیل، برطانیہ اور فرانس کی فوجیں مصری سرزمین سے نکل گئیں۔ تاہم اسرائیل نے انخلا کی آڑ میں آبنائے تیران اور خلیج عقبہ میں جہاز رانی کا حق حاصل کر لیا۔ یوں اسرائیل بحیرہ احمر (قلزم) کے راستے ایشیا، افریقا اور آسٹریا وغیرہ سے براہ راست تجارت کے قابل ہو گیا لیکن صورت العرب ریڈیو پر ناصر کی فتح کا طوطی بولتا رہا۔
یاد رہے آبنائے تیران خلیج عقبہ کو بحیرۂ احمر سے ملاتی ہے۔ اس کے مشرق میں سعودی ساحل ہے اور مغرب میں ساحلِ سینا (مصر) اور یہیں صنا فیر اور تیران نامی جزائر واقع ہیں جو حال ہی میں مصر نے سعودی عرب کے حوالے کیے ہیں۔
دوسری عرب اسرائیل جنگ میں امریکا نے اسرائیلی انخلا کی حمایت دور رس مقاصد کے تحت کی تھی۔
جمال عبدالناصر کی شان میں ام کلثوم صوت العرب پر ’’یاجمال یامثال الوطنیہ‘‘ (اے جمال ناصر، اے وطن کے ہیرو) گاتی رہتی تھی اور وہ ہیرو فخرسے نَحْنُ اَبنائُ الفَراعِنہ (ہم فرعونوں کے بیٹے) کا نعرہ لگاتا تھا۔ گویا اسے اسلام کے بجائے قدیم فرعونی جاہلیت پسند تھی۔ اس نے اسی لیے قاہرہ ریلوے اسٹیشن کے سامنے فرعونی مجسمہ نصب کرا رکھا تھا۔ اس کی پولیس سٹیٹ میں خفیہ پولیس سرگرم رہتی تھی۔ بے گناہ اخوانیوں کی داروگیر کا سلسلہ دراز رہتا تھا۔ اخوان خواتین ونگ کی حجاب پوش خاتون زینب غزالی پر جیلوں میں شرمناک مظالم  ڈھائے گئے جو انہوں نے اپنی خودنوشت (عربی) میں تفصیلاً بیان کیے ہیں۔ اس کا ترجمہ اردو میں ’’رودادِ قفس‘‘ کے نام سے ادارہ معارف اسلامی، منصورہ لاہور نے شائع کیا ہے۔ پھر جمال عبدالناصر نے جو سب سے گھناؤنی حرکت کی، وہ مفسر قرآن سید قطب کو تختۂ دار پر لٹکا کر شہید کر دینے کی ہے۔ یہ افسوسناک واقعہ اگست 66ء میں پیش آیا جو ناصر کے مکروہ چہرے کا سیاہ داغ بن گیا۔
اگلے سال جمال عبدالناصر کو اسرائیل کے ہاتھوں شدید صدمہ جھیلنا پڑا۔ اسرائیل نے 6جون 1967ء کو اچانک فضائی حملے کر کے مصر کے 350 جنگی مگ طیارے ہوائی اڈوں پرکھڑے آناً فاناً تباہ کر دیے جس سے مصری فضائیہ کی کمر ٹوٹ گئی۔ فضائی تحفظ سے محروم مصری فوج کیونکر لڑتی، چنانچہ اسرائیلی فوج اسے دھکیلتی ہوئی نہر سویز کے مغربی کنارے تک لے آئی۔ چھ روزہ جنگ میں غزہ کی پٹی اور پورا جزیرہ نمائے سینا چھین کر اسرائیل نے یواین او کی قرارداد جنگ بندی قبول کر لی۔
اس جنگ نے ناصر کو غرور کے آسمان سے زمین پر دے مارا۔ اس کا شیشہ ٔ پندار ریزہ ریزہ ہو گیا۔ اس ذلت میں اس کا ایئرفورس چیف ایئر مارشل صدقی محمود بھی شریک تھا جس نے آرام انور نامی اسرائیلی جاسوس سے یارانہ گانٹھ رکھا تھا اور اس نے مصری فضائیہ کی تباہی میں کلیدی کردار ادا کیا تھا جس کی تفصیل کسی گزشتہ کالم میں بیان کی گئی ہے۔ جنگ کے بعد مصری سپہ سالار فیلڈ مارشل عبدالحکیم عاصر نے خودکشی کر لی تھی۔ پھر جدید فرعون مصر جمال عبدالناصر تین سال اور جی کر ستمبر 1970ء کی  عرب لیگ کانفرنس میں دم توڑ گیا۔ عوام پر اس کے جھوٹے طلسم کا اثر دیکھیے کہ اس نے چھ روز جنگ کے بعد صدارت سے استعفا دینے کا اعلان کیا تو اس مصری قوم کی تباہی کے واحد ذمہ دار شخص کے حق میں قاہرہ کے لاکھوں عوام نعرے لگاتے سڑکوں پر نکل آئے۔
جمال عبدالناصر کا ایک اور گندہ کارنامہ 1962ء میں یمن میں بغاوت کرا کر اپنے ہم نوا فوجی افسر عبداللہ سلال کو برسرِاقتدار لانا تھا۔ عبداللہ سلال نے صنعا میں امام بدر کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔ پھر سلال حکومت کو سہارا دینے کے لیے ایک مصری فوج یمن بھیج دی جو پانچ سال وہاں انقلاب پروان چڑھاتی رہی۔ حتیٰ کہ چھ روزہ جنگ کی شکست کے بعد اسے مصر واپس بلایا گیا۔
(جاری ہے)