25 مئی 2019
تازہ ترین

مس عمرڈٹی رہیں مس عمرڈٹی رہیں

’’ مجھے بتاؤ، تم کس پر تنقید نہیں کر سکتے،پھر تمہیں بتاؤں گا کہ تمہارا آقا کون ہے‘‘۔(والٹیئر)
اسرائیل کے بارے میں کوئی بھی منفی بات امریکی سیاست اور میڈیا میں ایک عرصہ سے متنازع خیال کی جا رہی ہے۔ اسرائیل ہماری قوم کی مقدس گائے ہے۔ اس کے رویئے پر اعتراض کا مطلب صہیونی مخالف اور پیشہ ورانہ بھول کے الزامات ہیں۔میری کتابوں کی الماری میں ایک تاکیدی کتاب، ’’انہوں نے منہ کھولنے کی جرأت کی‘‘، پڑی ہے جو امریکی سینیٹروں اور ارکان کانگریس نے لکھی، جنہوں نے فلسطینیوں سے بدسلوکی پر احتجاج کرتے اسرائیل پرکڑی تنقید کی، یا یہ کہنے کی جرأت کی کہ اسرائیل کا امریکا پر اثرورسوخ بہت بڑھ گیا ہے۔ صحافیوں کو اس پہلے حکم کا بہت جلد پتہ لگ جاتا ہے کہ اسرائیل پر معمولی اعتراض انہیں بہت مہنگا پڑ سکتا ہے۔ کچھ عرصہ تک ہم صحافیوں کو اس بات کی بھی اجازت نہ تھی کہ اسرائیلی لابی کے بارے میں لکھیں۔ اسے واشنگٹن کا مضبوط ترین لابی سمجھا جاتا تھا، کچھ عرصہ قبل تک اس کے نام کا ذکر بھی سختی سے ممنوع تھا۔ حال میں ہی ڈیموکریٹس تلسی گابارڈ، کملا ہیرس، الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز اور مینیسوٹا کی رکن الہان عمر نے اچانک اس  روایت کو توڑتے ہوئے کہا : دائیں بازو کے اسرائیل کا اثرورسوخ بہت زیادہ ہے ،اور فلسطین کیساتھ انصاف ہونا چاہیے۔ 
صدر امیدوار برنی سینڈرز اور الزبتھ وارن نے صہیونی مخالفت کے روایتی الزامات کیخلاف الہان عمر کا دفاع کیا ۔اسی طرح سیاہ فاموں اور چند چھوٹے لبرل یہودی گروپ بھی دفاع کرنیوالوں میں شامل ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی جیسے کبھی نصف مالی امداد یہودی ذرائع سے ملتی تھی، فلسطین کے بحران پر بری طرح سے منقسم ہے۔ اس کی روایتی قیادت پسپائی کا شکار ہے، وہ نہیں جانتی کہ الہان عمرکے غیر روایتی بیان کی سختی سے تردید کے بعد مزید اسے کیا کرنا چاہیے۔ ڈیموکریٹک پارٹی ایسے وقت میں تقسیم کی شکار ہو رہی ہے جب اسے اگلے انتخابات میں ٹرمپ کا بستر گول کرنا ہے۔ اکثر لوگ اس حقیقت سے بابلد ہیں کہ اسلام اس وقت امریکا کا تیسرا بڑا مذہب ہے، اور جلد ان تعداد یہودیوں سے تجاوز کر سکتی ہے۔ کینیڈا میں اسلام پہلے ہی دوسرا بڑا مذہب ہے۔
الہان صہیونی مخالف نہیں ہیں۔ میری پرورش نیویارک اور نیو انگلینڈ میں ہوئی ہے، جہاں بدترین صہیونی مخالفت پائی جاتی تھی۔میں جانتا ہوں کہ صہیونی مخالفت اصل میں ہوتی کیا ہے۔ الہان عمر کا یہ الزام درست تھا کہ بہت بڑی اسرائیل نواز رقوم کے ذریعے کانگریس اور میڈیا کو خریدا گیا۔کئی جوئے خانوں کے اسرائیل نواز مالک شیلڈن ایڈلسن نے ریپبلکن پارٹی اور اسکے رہنماؤں کو 10کروڑ ڈالرسے زائد کے فنڈ دیئے۔اس رقم کا ذریعہ قانونی قمار بازی ہے، ایک بری عادت جس کا بدنصیب شکار بنتے ہیں۔1700ء میں ڈاکٹر سیموئیل جانسن نے لاٹری اور جوئے کو بے وقوفوں پر عائد ٹیکس کہا تھا۔ شیلڈن ایڈلسن کے امریکا کے سیاسی عمل پر اثرورسوخ اور اس کی آمدنی کا ذریعہ یہی ہے ۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو بھی یہ حضرت فنڈنگ کرتے ہیں، جوکہ ان دنوں کرپشن کے سنگین الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ برطانیہ کو بھی ایسے ہی سیاسی طوفان کا سامنا ہے۔اس کی بائیں بازو کی لیبر پارٹی کے رہنما جرمی کوربین نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ فلسطینیوں کیساتھ انصاف اور ان کیلئے فعال ریاست کا قیام یقینی بنایا جائے۔ برطانیہ کے اسرائیل نواز گروپس اور میڈیا نے جرمی کوربین اور ان کے اتحادیوں کے خلاف انتہائی منفی مہم شروع کر رکھی ہے؛ ان پر یہودی مخالف ہونے سمیت لاتعداد الزامات لگ رہے ہیں۔ یہ سب بیہودگی کے علاوہ کچھ نہیں۔ برطانیہ میں حقیقی صہیونی مخالف تلاش کرنے کیلئے آپ کو کنزورٹیو پارٹی کی اندر کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے؛ ذاتی طور پر میں نے وہ مکروہ چہرے دیکھ رکھا ہے۔ 
فلسطینیوں کو جس طرح اسرائیل کچل رہا ہے، اس پر یورپ بھر میں اینٹی اسرائیل لہر چل رہی ہے۔ امریکا میں بھی ہے مگر دکھائی اس لئے نہیں دیتی کیونکہ میڈیا کا جھکاؤ اسرائیل کی طرف ہے، اور مسیحی مبلغین نے اس فریب کو ایمان بنا رکھا ہے کہ حضرت عیسیٰ کہ دوبارہ ظہور کیلئے گریٹر اسرائیل کو ہونا ضروری ہے۔تاہم نوجوان امریکیوں اور یورپی فلسطین سے انصاف کی آواز اٹھا رہے ہیں۔ اری اوینری جیسے مصنف سمیت اسرائیلی بایاں بازو دائیں بازو کی اسرائیل کو فاشسٹ قرار دیتا ہے۔صاحب بصیرت امریکی رکن کانگریس پٹ بیوکنان نے کئی سال قبل کہا تھا:’’ امریکی کانگریس اسرائیل کا مقبوضہ علاقہ ہے‘‘۔ اس سچ نے ان کا سیاسی کیریئر تباہ کر دیا تھا۔میری والدہ کا کیریئر بھی اسی طرح ختم ہوا  تھا جوکاولین خواتین امریکی صحافیوں میں سے ایک تھیں۔ 1950ء کی دہائی میں نئی ریاست اسرائیل سے بے دخل دس لاکھ فلسطینیوں سے متعلق انہوں نے مختلف اخبارات کیلئے رپورٹیں تیار کیں، پھر ان اخبارات کے اشتہار بند کر دیئے گئے ، باز نہ آنے پر والدہ کو تیزاب حملے کی دھمکی ملی، جس پر انہوں نے صحافت چھوڑ دی۔ 
مس الہان عمر اور دیگر بے خوف خواتین ارکان سے میری درخواست ہے کہ ملک اور دنیا کی بہتری کیلئے اپنے موقف پر ڈٹی رہیں، خطرات کو خاطر میں نہ لائیں، تاکہ ہماری جمہوریہ پر ناجائز رقوم کی گرفت کمزور پڑ سکے۔
(ترجمہ: ایم سعید۔۔۔ بشکریہ: ہف پوسٹ)