20 ستمبر 2018

مسٹر شاستری کا بیان مسٹر شاستری کا بیان

(9 ستمبر1923 ء کی تحریر ) 
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ اور ان کے رفقائے کار تین سال کے تلخ تجربوں اور افسوسناک مگر متوقع ناکامیوں کے بعد اس طریق کار پر گامزن ہوں گے جو کامیابی کی حقیقی منزل تک پہنچاتا ہے اور جس پر قوم پرست اصحاب گزشتہ تین سال سے مردانہ وار گامزن ہیں؟ اگر مسٹر شاستری اور ان کے ساتھ دوسرے اعتدال پسند 1920ء ہی میں قوم پرستوں سے علیحدگی اختیار نہ کرتے تو ہمیں یقین تھا کہ ہندوستان کی حالت آج سے بالکل مختلف ہوتی لیکن افسوس کہ مسٹر شاستری اور دوسرے اعتدال پسند اصلاحات کی زلفِ پیچاں کے حلقوں سے نکل نہ سکے اور اس طرح تحریک حریت کو ان سے جو فایدہ پہنچ سکتا تھا وہ نہ پہنچا۔ رئیس الاحرار، دیش بندھو، مہاتما جی، سید الاحرار، پنڈت نہرو، حضرت امام الہند اور دوسرے جلیل القدر رہنمایان قوم قید خانوں میں چلے گئے مگر مسٹر شاستری دفتری حکومت کی مدح و ستائش کے نغموں سے فضائے دہر میںگونج پیدا کرتے رہے اور انہیں ایک لحظہ کیلئے بھی یہ خیال نہ آیا کہ جن بزرگوں کو حکومت حب وطن کی خاطر بلاتامل قید و بند کا تختہ مشق بنا رہی ہے وہ اپنے خلوص، قابلیت، امن دوستی اور بلند منزلتی کے لحاظ سے دنیا کے بہترین انسان تھے۔ ہمیں اس بات سے مسرت ہے کہ جو حقیقت اس دور جبر و تشدد میں شاستری جی کی آنکھوں سے مخفی رہی وہ اب فیصلہِ کینیا نے اچھی طرح ان پر آشکار کر دی لیکن سوال تو یہ ہے کہ کیا وہ اب بھی محض اظہار رنجش ہی پر اکتفا کر کے بیٹھ جائیں گے یا کچھ کام بھی کریں گے؟ انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ آہستہ آہستہ اٹھنے، ماحول کو آئینہ خانہ سمجھ کر قدم بڑھاتے ہوئے ڈرنے اور لرزنے سے کام نہیں چلے گا۔ اگر ان کی نیت نیک ہے، انہیں ہندوستان سے محبت ہے، وہ سوراج کی قدر و قیمت سے آگاہ ہیں اور انہیں اپنی قوم کی عزت و حرمت کا ویسا ہی احساس ہے جیسا کہ ہر سچے ہندوستانی کو ہونا چاہئے تو انہیں چاہئے کہ وہ مردانہ وارآگے بڑھیں، قوم پرستوں کے ساتھ مل جائیں اور حقیقی کام شروع کر دیں ورنہ اس قسم کے لمبے چوڑے اعلاناتِ ناراضگی سے کیا فایدہ۔ چالیس سال سے اس قسم کی باتیں ہمارے سامنے ہیں ہندوستان کو کام کی ضرورت ہے باتوں کی ضرورت نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زمیندارؔ، لالہ دونی چند اور بندےؔ ماترم
ہم نے اشاعت پریروزہ میں لالہ دونی چند کے اس بیان پر نقد و تبصرہ کیا تھا جو انہوں نے فسادات سہارن پور کے متعلق اخبارات میں شایع کرا دیا تھا اور اس کی داخلی شہادتوں کی بنا پر یہ ثابت کیا تھا کہ اسے از سر تا پا صحیح سمجھنا عقل و خرد سے کھلی کھلی دشمنی ہے۔ دنیا کا کوئی ہوش مند انسان اس بات کو تسلیم نہیں کر سکتاکہ سہارنپور کے متعدد مکانات میں سے مسلمانوں نے ہندوئوں کا دفن کیا ہوا مال نکالا اس لئے کہ مال ہمیشہ خفیہ طور پر دفن کیا جاتا ہے حتیٰ کہ گھر والوں میں سے بھی صرف دو ایک ہی اس کے مدفن سے واقف ہوتے ہیں۔ اس لئے لالہ دونی چند انبالوی کا یہ کہنا کہ میں نے متعدد مکانات میں گڑھے کھدے ہوئے پائے، ان پر خالی برتن رکھے ہوئے تھے جن سے مسلمان لٹیرے مال لوٹ کر لے گئے تھے بالکل فضول اور ازسر تا پا بہتان ہے۔ بہت ممکن ہے کہ لالہ جی کو اس قسم کے متعدد مکانات دکھائے گئے ہوں لیکن لالہ دونی چند کامیاب اور بلند پایہ وکیل رہ چکے ہیں، انہیں معاً سمجھ لینا چاہئے تھا کہ یہ خالص شرارت ہے۔ ہمارا خیال ہے 
کہ انہوں نے ضرور یہی سمجھا ہوگا مگر جماعتی تعصب یا سنگٹھن کی تحریک کیلئے کسی قومی بنیاد و اساس کی تلاش اور خالص ہندویت کے جارحانہ مقاصد کی تکمیل کے عشق نے انہیں اس قسم کی باتوں کے اظہار پرمجبور کر دیا۔ بندےؔ ماترم ہماری اس تحریر پر بہت تڑپا ہے۔ وہ ہمیں ہندوئوں اور مسلمانوں کے نفاق کی خلیج کو وسیع کرنے کا مجرم قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ ہم سربرآوردہ ہندوئوں کے بیانات کو صحیح تسلیم نہیں کرتے اور اس معاملہ کو مذہبی رنگ دے رہے ہیں۔ لیکن ہم اپنے محترم ہمعصر سے یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا وہ فسادات سہارنپور کے متعلق انتہائی غلط بیانیوں اور کذاب سرائیوں سے کام نہیں لے چکا؟ اور کیا اس تقلیبِ حقائق کی اصلی وجہ یہی نہیں تھی کہ ہندوئوں کا دامن کسی طرح پاک دکھایا جا سکے؟ کیا اس نے اسے مذہبی مسئلہ نہیں بنایا یاللعجب کیسریؔ، پرتاپؔ، ملاپؔ، تیجؔ، ایشیاؔ، بندےؔ ماترم اور لالہ دونی چند، سوامی شردھا نند، لالہ بودھ راج غرضیکہ ہر وہ ہندو اخبار جو لکھ سکتا ہے اور ہر وہ ہندو شخص جو بول سکتا ہے انتہائی غلط بیانیوںکا مرتکب ہو چکاہے۔ تاہم بندےؔ ماترم کاجذبہ احتساب جوش میں نہیں آتا مگر زمیندارؔ کے صفحات پر مسلمانوں کی مظلومیت اور صحیح واقعات کا انکشاف ہوتا ہے تو بندےؔ ماترم تڑپ اٹھتا ہے کہ زمیندارؔ ہندو مسلم نفاق کی خلیج کو وسیع کر رہا ہے۔ پھر کیا ہندو مسلم اتحاد اس کا نام ہے کہ مسلمانوں کو صفحہ ہند سے ناپید کر دیا جائے اور جن ’’امن دوستوں‘‘ نے خشت باریوں سے سنگٹھن کی ابجد یاد کی ہے ان کی مزعوم اور فرضی مظلومیت کے نوحے پڑھے جائیں؟ نیز کیا بندےؔ ماترم اور لالہ دونی چند خدا کے فرستادے ہیں کہ ان کے ہر حرف کو کلکِ قدرت کی گلکاری تصور کر لیا جائے؟    (جاری ہے)